• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"داعش کے خطرناک ’’ٹرک بم‘‘ اور رمادی"

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
محسن فارانی کا خصوصی کالم "داعش کے خطرناک ’’ٹرک بم‘‘ اور رمادی"

#UrduArtical

اپریل 2015ء میں تکریت سے داعش کی پسپائی کے بعد گزشتہ ماہ مغربی عراق کے صوبہ انبار کے اہم ترین شہر رمادی پر داعش کے قبضے نے ایک دنیا کو حیران کر دیا۔ امریکی و اتحادی فضائی حملوں کی چھتری میسر ہونے کے باوجود عراقی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور عہدنو کے خوارج یعنی داعش کے جنگجو بڑی آسانی سے دریائے فرات پرواقع رمادی پر قابض ہو گئے۔ انہی دنوں داعش نے شام میں قبل از اسلام عہد کی ملکہ زنوبیا (زینب) کے شہر تدمر پر بھی قبضہ کر لیا جسے رومی عہد میں پالمیرا (Palmyra) کہا جاتا تھا اور مؤرخین اس صحرائی شہر کو عروس الصحرا کہتے تھے۔ داعش کی ان تازہ کامیابیوں میں اس کے نئے ’’ٹرک بم‘‘ نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جسے اے ایف پی کے نامہ نگار ژاں مارک ماژوں نے داعش کی ’’ایئرفورس‘‘ لکھا ہے۔ داعش کا اپنے آپ کو اب دولۃ اسلامیۃ کہتی ہے جسے مغربی پریس اسلامک سٹیٹ یا IS لکھتا ہے۔

ژاں مارک ماژوں لکھتا ہے کہ ’’IS کے ٹرک بم کو چلانا آسان اور اسے روکنا مشکل ہے۔ اسے کسی فارم (مزرعہ) میں بنایا جا سکتا ہے اور اس کے پھٹنے سے کسی شہر کا ایک پورا بلاک تباہ ہو سکتا ہے۔‘‘ آئی ایس کے جنگجوؤں نے رمادی فتح کرنے کے لئے تیس ’’ٹرک بم‘‘ استعمال کیے جو دھماکو بارود سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ زمینی میزائل کی طرح ان ٹھکانوں اور عمارات سے جا ٹکرائے جہاں عراقی فوج اور اس کے ایرانی اتحادی ایک سال سے مورچہ زن تھے۔ داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج کی بکتربند گاڑیاں، پک اپ، ٹینکر اور ڈمپ ٹرک چھین رکھے تھے۔ انہوں نے بس یہ کیا کہ ان میں ٹنوں بارود بھرا اور چاروں طرف سے مضبوط فولادی چادروں سے ویلڈ کر کے انہیں ’’ٹرک بم‘‘ بنا لیا۔ خودکش ڈرائیور کا یہ ’’ٹرک بم‘‘ بکتر بند گاڑی کی طرح محفوظ ہوتا ہے اور وہ دشمن کی صفوں کو چیرتا ہوا اپنے ہدف سے جا ٹکراتا ہے۔ اس بکتر بند ٹرک بم پر 12.7ایم ایم ہیوی مشین گن یا راکٹ پروپِلڈ گرینیڈ (RPG) کے فائر کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ عراق میں تعینات ایک فوجی ماہر کے بقول اس میں اتنا کافی بارود ہوتا ہے کہ ہدف سے پچاس میٹر کی دُوری پر پھٹ کر بھی اسے تباہ کر ڈالتا ہے۔

داعش کی ویڈیو میں ایک ٹرک بم کو اپنے ہدف کی طرف بڑھتے دکھایا گیا ہے، نیچے لکھا ہے: انطلاق الاخ الاستشہادی لھدفہ (شہیدی بھائی اپنے ہدف کی طرف بڑھتا ہے)۔ اگلے منظر کا کیپشن ہے: ’’ڈرائیور صفویوں کی صفوں میں جا گھستا ہے۔‘‘ اور تیسرے منظر میں دھوئیں اور آگ کا بادل اٹھ رہا ہے جسے ’’شہیدی حملے کے آخری لمحات‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس ٹرک بم دھماکے کا مشاہدہ میلوں دورسے کیا جا سکتا ہے۔ ایک مغربی ماہر کے بقول ’’ٹرک بم ایک لڑاکا جیٹ طیارے کے گرائے گئے نصف ٹن وزنی بم جتنی تباہی مچاتا ہے، اس طرح یہ ٹرک بم ان کی ایئرفورس ہیں۔‘‘

رمادی پر داعش کے قبضے کے بعد امریکیوں نے الزام لگایا کہ عراقی فوج میں لڑنے کا عزم ہی نہیں۔ اس پر عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری فوج لڑ سکتی ہے مگر ایک ٹرک بم دھماکہ ایک چھوٹے ایٹم بم سے کم نہیں ہوتا۔‘‘ داعش نے خودکش ’’کار بم‘‘ بغداد میں اس مقصد کے لئے استعمال کیے ہیں کہ عوام میں دہشت پھیلائی جائے اور یہ ظاہر کیا جائے کہ حکومت بے بس اور نیم جاں ہے اور حالات اس کے کنٹرول میں نہیں۔ عراق پر قابض امریکیوں کے خلاف مجاہدین نے بھی بارود سے بھرے 18وہیلروں کے دھماکے کیے تھے لیکن آئی ایس کمانڈروں نے ٹرک بموں کا استعمال عروج پر پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کے آرمی سٹریٹجک سٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر اینڈریو ٹیرل کہتے ہیں: ’’آئی ایس نے غالباً پہلی بار عراق میں اپنے جارحانہ حملوں میں SVBIED یعنی ’’خودکش گاڑی میں لدے خود ساختہ دھماکو بم‘‘ استعمال کر کے بڑی حملہ آور فوج کا منہ پھیر دیا ہے۔‘‘

لیکن تاریخ میں ایسے دھماکو بموں کا استعمال دو صدیاں پہلے1800ء میں بھی ملتا ہے جب پیرس میں بارود بھری گھوڑا گاڑی کے استعمال سے نپولین اعظم کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ انقلابِ فرانس (1789ء) کے بعد دہشت کے دور میں نپولین فوج میں ترقی کرتے کرتے سپہ سالار بن گیا تھا اور فرانس کے حریفوں کو شکست دے کر اور مصری مہم (1798-99ء) سے لوٹ کر اس نے فرسٹ کونسل یعنی ڈکٹیٹر کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ نپولین مصر سے آگے ہندوستان پہنچ کر یہاں سے انگریزوں کو نکال باہر کرنا چاہتا تھا اور اس منصوبے میں اسے شیرِ میسور سلطان ٹیپو کا تعاون حاصل تھا لیکن ان دونوں کی خط کتابت شریفِ مکہ نے برطانوی سفارت کار مقیم جدہ کے حوالے کر دی تھی۔ یوں اس منصوبے کے تشت ازبام ہونے اور ساحلِ شام پر عثمانیوں اور انگریزوں کے ہاتھوں نپولین کی شکست پر ’’نپولین ٹیپو منصوبہ‘‘ بروئے کار نہ آ سکا ورنہ آج شاید برصغیر کے لوگ انگریزی کے بجائے فرفر فرانسیسی بول رہے ہوتے۔

پھر1804ء میں نپولین امبراطورِ فرانس (French Emperor) بن گیا۔ 1805ء میں اس نے انگریز ایڈمرل نیلسن سے جبل طارق (جبرالٹر) کی بحری جنگ میں شکست کھائی، تاہم آسٹرلٹز کی بری جنگ (1806ء) میں نپولین نے متحدہ برطانوی جرمن افواج کوشکست دی اور سپین سے لے کر پولینڈ تک بیشتر یورپ پر قابض ہو گیا۔ پھر1812ء میں اسے روس فتح کرنے کی مہم مہنگی پڑی اور برف باری نے اس کا لشکر تباہ کر دیا۔1814ء میں نپولین نے یورپی اتحادی افواج سے شکست کھائی اور بحیرۂ روم کے جزیرہ ایلبا میں قید رہا مگر تھوڑے دنوں بعد بھاگ نکلا اور ایک بار پھر پیرس میں بادشاہِ اعظم (امبراطور) بن گیا مگر 100دن کی اس بادشاہی کے بعد نپولین نے ڈیوک آف ولنگٹن آرتھر ولزلی (برادر گورنر جنرل ہند لارڈ ولزلی) کے ہاتھوں شکست کھائی۔ انگریز اسے قید کر کے اپنے مقبوضہ جزیرہ سینٹ ہیلینا (جنوبی بحراوقیانوس) لے گئے جہاں 1821ء میں وہ فوت ہو گیا۔

1920ء میں اطالوی انارکسٹ یا دہشت گرد ماریو بُودا نے وال سٹریٹ (نیویارک) میں ایک گاڑی بردار بم دھماکہ کیا تھا۔ پھر تامل ٹائیگرز نے 1980ء کی دہائی میں سری لنکا کی فوج کے خلاف یکے بعد دیگرے کار بم اور ٹرک بم کے دھماکے کیے تھے۔ یہ زیادہ تر خودکش دھماکے فوج کے خلاف پیادہ کارروائی شروع کرنے کے لئے انفرادی حملے تھے، لیکن رمادی کے حملے کہیں بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے اور دہشت پھیلانے والے تھے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک افسر ڈیوس کا کہنا ہے کہ رمادی میں استعمال کیے گئے ایک درجن ٹرک بم امریکی شہر اوکلاہوما کے بم بلاسٹ (1993ء) جتنا بڑا دھماکہ کر سکتے تھے۔ مسٹر ڈیوس کے بقول اوکلاہوما سٹی کے وین بم کا دھماکو مواد دوسری جنگ عظیم میں بمباری کرنے والے بی 24 طیارے کے بم لوڈ کے برابر تباہ کن تھا لیکن رمادی کے ٹرک بم کہیں زیادہ طاقتور اور ہزار ہزار پونڈ کے طیاروں سے گرائے گئے بموں کے برابر تباہ کن تھے۔ سقوطِ رمادی کے بعد اب امریکہ نے عراقی فوج کو داعش کے ٹرک بموں کا مقابلہ کرنے کے لئے 2000اے ٹی 4ٹینک شکن بم فرہم کیے ہیں جو انہیں تباہ کر سکتے ہیں۔ سویڈن کے تیار کردہ اس اینٹی ٹینک کے متعلق ایک فوجی ماہر کا کہنا ہے کہ ’’یہ کھلی جگہ تو کارآمد ہے مگر یہ گائیڈڈ میزائل کی طرح نہیں کہ اپنے نشانے کو بہرحال ڈھونڈ لے۔ جب ٹرک بم 100میٹر تک یا اس سے کم قریب آ پہنچا ہوتو یہ امریکی ٹینک شکن بم کارآمد نہیں اور رمادی جیسے شہر میں اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔‘‘

اب ہزاروں عراقی فوجی اور ان کے اتحادی ملیشیا رمادی کو واپس لینے کے لئے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم عبادی کہتے ہیں ’’ان ٹرک بموں کے باعث ہم نے شہروں میں نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ تنگ سڑکوں کے باعث شہر کے اندر نگاہ رکھنا ناممکن ہے۔ یوں داعش نے ٹرک بموں کے استعمال سے بغداد اور اس کے اتحادیوں کو اپنی حربی چالیں بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ’’گزشتہ صدی کی جنگی فکر یہ تھی کہ صرف فضائی قوت باغیوں کو شکست دے سکتی ہے۔‘‘ ڈیوس کہتے ہیں ’’مگر ٹرک بموں نے IS کو ایک نئی قوت بخش دی ہے۔‘‘
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top