• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوت دین میں اخلاق حسنہ کی اہمیت

شمولیت
نومبر 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
30
بسم ا للہ ا لرحمان ا لرحیم


دعوت دین اور اخلاق حسنہ

اخلا ق کا مفہوم: اَخلاق خَلق سے ہے جس کے معنی فطرت کے ہیں۔ اخلاق کا مطلب ہے کوئی بھی اچھی صفت اور خوبی،آدمی کی یوں عادت بن جائے جیسے اس کی فطرت اور مزاج کا حصہ ہو اور بغیر قصد و ارادے کے آدمی سے اس خوبی کا اظہار ہوتا رہے۔ اخلاقِ حسنہ اس قدر وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے کہ تمام اسلام تک کو شامل ہے۔
داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پیکر اخلاق: جناب سعد بن ہشام انصاری نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تھا تو سیدہ نے بتایا:
((کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ))(مسند احمد:24601وصحیح الجامع:4811)
”قرآن آپ کا اخلاق ہی تو ہے۔“
قرآن کریم میں جتنے بھی خصائلِ حمیدہ اور اوصاف جمیلہ کا تذکرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے حامل و عامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ مجسم تھے۔ نبی کریم رسول رحیم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقِ حسنہ کا پیکر تھے۔ اللہ رب العزت نے داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ کی گواہی دیتے فرمایا:
(وَ اِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ) (القلم:4/68)
”بلاشبہ! آپ تو خلق عظیم کے مالک ہیں۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کے بارے گواہی دیتے ہیں۔ بیان کرتے ہیں:
((کَانَ النَّبِیُّ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا)) (صحیح البخاری:6203وصحیح مسلم:659)
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر حسن اخلاق کے مالک تھے۔“
حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام سے پہلے شاہِ روم کے دربار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ اعلیٰ صفات بیان کی تھیں: نماز کا حکم دینا، صدق گوئی، پاکدامنی، وعدے کی پاسداری اور امانتداری۔ (صحیح البخاری:2618)
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاکی گواہی: ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تو انہوں نے اس کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتداری، خاندانی شرف و مرتبہ، امانتداری، حسن اخلاق اور راست باز ی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بلند پایا صفات سیدہ نے خود بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ آپ کی ان خوبیوں کی وجہ سے میں خود کو آپ کے حبالہ عقد میں دیناچاہتی ہوں۔(سیرت ابن ہشام:189/1وسیرت ابن کثیر:263/1)
آغاز وحی کے موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گبھرائے ہوئے گھر تشریف لائے، تب سیدہ نے آپ کے اخلاق حسنہ کو اس طرح سے بیان کیا تھا کہ اللہ کی قسم! اللہ عزوجل کبھی بھی آپ کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں۔ اوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ ضرورت مند کو کما کر کھلاتے ہیں۔ مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور مشکلات میں گرفتار لوگوں کی نصرت ومدد کرتے ہیں۔(صحیح البخاری:4953 وصحیح مسلم:160)
رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق فرمایا:
((إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ))(مسند احمد:8952 والسلسلۃ الصحیحہ:45)
”مجھے بھیجا ہی اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے گیا ہے۔“
معیارِ اچھائی:حسن اخلاق کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا چھائی کا معیار قرار دیتے فرمایا:
((إِنَّ مِنْ خِیَارِکُمْ أَحْسَنُکُمْ أَخْلاَقًا))(صحیح البخاری:3559 وصحیح مسلم:2321)
”تم میں اچھا تو وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔“
حسن اخلاق کی اہمیت: داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق حسنہ کے پیکر تھے۔ اسی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تعلیم دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق حسنہ کی ضرورت واہمیت اجاگر کرتے فرمایا: مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت شب بیدار اور روزے دار کے مرتبہ کو بھی حاصل کرسکتا ہے۔
(مسنداحمد:24355وصحیح الجامع:1617)
داعیان کرام اور پاسبان امت کا خاص کر اخلاق حسنہ سے متصف ہونا اخلاقی تقاضا ہی نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے۔ اس کے بغیر دعوت کے دائمی اور وسیع اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

اللَّھُمَّ! اھْدِنَا لأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ
ِ
حافظ محمد فیاض الیاس الاثری
رکن دارالمعارف ریلوے روڈ لاہور(شعبہ سیرت)
 
Top