1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دل کی بربادی کے اسباب !!!

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 08، 2013۔

  1. ‏ستمبر 08، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1238251_559448830757078_634636518_n.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 08، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اس مضمون میں ہم ایسے اسباب کا ذکر کریں گے جس سے ہمارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں‌ ، ایسے اسباب کا جاننا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے اعمال کی حفاظت کرسکیں ، جس طرح ہم دنیاوی معاملات میں صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ قیمتی سے قیمتی چیز کو حاصل کرلیا بلکہ اس کے تحفظ کا بھی پورا پورا بندوبست کرتے ہیں تاکہ ہم نے کڑی محنتوں کے بعد جوچیزیں حاصل کی ہیں وہ ضائع نہ ہونے پائیں ۔
    تحفظ کی یہی فکرہمیں اپنے اعمال کے تعلق سے ہونی چاہئے ، ذیل میں ہم کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ دس ایسے اسباب وجرائم کا ذکر کرتے ہیں جس سے ہمارے اعمال برباد ہوجاتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 08، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کفر
    قران:
    { قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (104) أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا}
    کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟ (١٠٣) وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں (١٠٤) یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے (١٠٥) [الكهف: 103 - 105]

    حدیث:
    عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ "
    [مسند أحمد ط الرسالة 32/ 305 رقم 19536]
    صحابی رسول ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے یا یہودیوں یا عیسائیوں میں سے جس نے بھی میرے بارے میں سنا اورمجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔

    کفرکا معاملہ بڑا واضح ہے زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 08، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    شرک

    قران :
    {وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (83) وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (84) وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ (85) وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ (86) وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (87) ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }

    اور یہ ہماری حجت تھی وه ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں۔ بےشک آپ کا رب بڑا حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے (٨٣) اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اوﻻد میں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں (٨٤) اور (نیز) زکریا کو اور یحيٰ کو اور عیسیٰ کو اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں سے تھے (٨٥) اور نیز اسماعیل کو اور یسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہر ایک کو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی (٨٦) اور نیز ان کے کچھ باپ دادوں کو اور کچھ اوﻻد کو اور کچھ بھائیوں کو، اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راه راست کی ہدایت کی (٨٧) اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے (٨٨)[الأنعام: 83 - 88]

    حدیث:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ "

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میں شرک والوں کے شرک سے بے پرواہوں جو آدمی میرے لئے کوئی ایسا کام کرے کہ جس میں میرے علاوہ کوئی میرا شریک ہو تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہون[صحيح مسلم 4/ 2289 رقم 2985]
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 08، 2013 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ریاکاری

    قران:
    { فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (6) } [الماعون: 4 - 7]

    ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے (٤) جو اپنی نماز سے غافل ہیں (٥) جو ریاکاری کرتے ہیں

    حدیث:
    عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً "[مسند أحمد ط الرسالة 39/ 39 رقم23630]

    محمود بن لبیدسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' میں‌ تمہاری بابت سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں‌ وہ چھوٹا شرک ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹا شرک کیا ہے ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری ، قیامت کے دن جب لوگوں‌ کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو ریا کاروں‌ سے اللہ تعالی کہے گا : ان لوگوں‌ کے پاس جاؤ جن کو دکھانے کے لئے تم دنیا میں اعمال کرتے تھے اوردیکھوکیا تم ان کے پاس کوئی صلہ پاتے ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 08، 2013 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دنیا پرستی

    قران:
    { مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ (15) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }

    جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہی بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی (١٥) ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں [هود: 15، 16]

    حدیث :
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» . فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ: عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّكَ لَمْ تُفَهِّمْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا، فَقَالَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» . فَقَالُوا: لِلرَّجُلِ عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: الثَّالِثَةَ. فَقَالَ لَهُ: «لَا أَجْرَ لَهُ»

    صحابی رسول ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص راہ خدا میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے حالانکہ اس سے اس کا مقصد طلب دنیا ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس پر کوئی اجر نہ ملے گا لوگوں نے اسے بہت بڑی بات سمجھا۔ انہوں نے اس شخص سے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی طرح نہیں سمجھا سکا اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص راہ خدا میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سے اس کا مطلب دنیا کا حصول ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا اس کو کوئی اجر نہ ملے گا۔ لوگوں نے اس شخص سے پھر کہا کہ اپنا سوال پھر سے دہرا۔ اس نے تیسری بار پھر پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا کہ اس کو کوئی اجر نہ ملے گا۔
    [سنن أبي داود 3/ 14 رقم ]
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 08، 2013 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کتاب وسنت کی مخالفت

    قران:
    { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ }

    اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو ۔[محمد: 33]

    حدیث:
    عَنْ عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردودہے۔
    [صحيح مسلم 3/ 1343]
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 08، 2013 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تقوی کا غرور
    قران:
    { قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ } [الأحقاف: 9]

    آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں۔

    حدیث:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ
    [سنن أبي داود 4/ 275 رقم4901 ]

    صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے لگے کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جا ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جا تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کیساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا پھر ان دونوں کی روحیں قبض کرلی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا کہ کیا تو اس چیز پر جو میرے قبضہ قدرت میں ہے قادر ہے؟ اور گناہ گار سے فرمایا کہ جا جنت میں داخل ہو جا میری رحمت کی بدولت اور دوسرے (عابد) سے فرمایا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    قلت: وفيه دليل صريح أن التألي على الله يحبط العمل أيضا كالكفر ۔
    [ الصحيحة : 4/ 256]
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 08، 2013 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نیکی کرکے احسان جتلانا
    قران:
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِنَ (البقرة: 264)
    صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِي
    اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وه شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وه اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے، ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راه نہیں دکھاتا

    حدیث:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تَدْخِلُهُ عَلَى مُؤْمِنٍ: تَكْشِفُ عَنْهُ كَرْبًا، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخِي الْمُسْلِمِ فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ شَهْرَيْنِ فِي مَسْجِدٍ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ، وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ، مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رِضًى، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يُثْبِتَهَا لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَيْهِ يَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ، وَإِنَّ سُوءَ الْخُلُقِ لَيُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ " (قضاء الحوائج لابن أبی الدنیا ص: 47 36 صصحیحہ ٩٠٦)

    عبداللہ بن دینا بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول اللہ کے ہاں محبوب ترین شخص کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللہ کے ہاں محبوب ترین شخص وہ ھے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے، اوراللہ کے ہاں محبوب ترین عمل یہ ہے کہ کسی مسلمان کو آپ خوش کر دیں،یا کسی مسلمان کی تکلیف دور کر دیں، یا اسکا قرضہ ادا کر دیں، یا بھوک لگی ہو تو اسکو کھانا کھلا دیں، اور ہاں میرا اپنے بھائی کے ساتھ اسکی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے چلنا مسجد میں ایک ماہ کے اعتکاف سے زیادہ مجھے پسند ہے، جو اپنے غصہ کو تھام لے اللہ اسکے علیحدگی اور خلوت کے گناہ چھپا دیتا ہے، اور جو انتقام کی طاقت کے باوجود اپنے انتقامی جذبے کو پی جائے اللہ تعالی قیامت کے دن اسکے دل کو رضا مندی سے بھر دے گا، اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے نکلے اور اسکو پورا بھی کردے اللہ تعالی اسکے قدم کو ایسے دن جما دے گا جس دن پاوں پھسلیں گے، اور یقینا بد اخلاقی عمل کو ایسے بگاڑ دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو (ترجمہ ابن مبارک)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 08، 2013 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,061
    موصول شکریہ جات:
    6,523
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ظلم

    قران:
    { إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (21) أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ } [آل عمران: 21، 22]

    جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اورناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل وانصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں، تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبردے دیجئے (٢١) ان کے اعمال دنیا وآخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں

    حدیث:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»(صحیح مسلم 4/ 1997 رقم 2581)

    صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں