محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
دنیاوی عذاب لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، دہشت گردی ، سیلاب اور زلزلہ وغیرہ کی وجوہات
اس وقت پوری امت خصوصاً پاکستان کے مسلمان درج بالا عذابوں میں مبتلاہیں اور ان سے نجات کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جار ہی ہیں اور مختلف تدابیر پر عمل کیا جار ہا ہے ، آئیے دیکھتے ہیں حقیقی طبیت امت نبی کریم ﷺ نے ان عذابوں کی کیا وجہ بتائی۔ اگر ان وجوہات کو ختم کر دیا جائے تو یہ تمام عذاب خود بخود ختم ہو جائیں ، آپ پڑھ چکے ہیں قوم کتنے حرام و فسق و فجور کے کاموں میں مبتلا ہو چکی ہے ، اس کے علاوہ قرآن مجید میں پچھلی قوموں کے بکثرت واقعات ذکر کئے گئے ہیں کہ فلاں قوم یہ گناہ کرتی تھی جس کی پاداش میں کسی قوم پر پتھر برسے ، کسی کو ہوا کا عذاب دیا گیا ، کوئی سیلاب کی نظر ہو گئی ، بعض کوبندر ، حنزیر اور مچھلیاں بنا دیا گیا ۔ اگر ہم دیکھیں جن انفرادی برائیوں پر پچھلی قوموں پر عذاب آئے آج ہم میں اجتماعی طور پر ان تمام برائیوں کا مجموعہ پایا جاتا ہے لیکن ہم جو تباہی سے بچے ہوئے اس کی وجہ نبی کریمﷺ کی وہ دعا ہے کہ ''میری امت بالکل ختم نہ کر دینا ''
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کیئ جماعت اور قوم ایسی نہیں کہ اس قوم میں معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہو پھر وہ ان معاصی کو بگاڑنے(ختم کرنے) پر قادر ہونے کے باوجود نہ بگاڑیں(ختم نہ کریں) لیکن یہ قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں مبتلا کردے۔ (ابن ماجہ ، ابو داؤد)
متعددروایات میں مضمون آیا ہے کہ جب کوئی گناہ مخفی طور پر کیا جاتا ہے اس کانقصان کرنے ولاے ہی کو ہوتا ہے لیکن جب کوئی گناہ کھلم کھلا کیا جاتا ہے اور لوگ اس کے روکنے پر قادر ہیں پھر نہیں روکتے تو اس کا نقصان بھی عام ہوتا ، حضور اقدس ﷺ سے ایک مرتبہ دریافت کیاگیا ہم لوگ ایسی حالت میں بھی تباہ و برباد ہوسکتے جبکہ ہم میں صلحاء اور متقی لوگ موجود ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! جب خباثت غالب ہو جائے حضورﷺ سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ (کلمہ توحید) لاالہ اللہ کہنے والے کو ہمیشہ نفع دیتا ہے اور اس عذاب و بلا کو رفع کرتا ہے جب تک اس کے حقوق سے بے پروائی اور استخفاف نہ کیا جائے ، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اس کے حقوق سے بےپروائی اور استخفاف کئے جانے کا کیا مطلب ہے ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کھلے طور پر کی جائیں اور ان کی بند کرنےکی کوئی کوشش نہ کی جائے ۔ ( رواہ الاصہبانی ، ترغیب )
حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، نیکیوں کا حکم کرو اور برائیوں سے روکتے رہو ، مباداکہ وہ وقت آ جائے کہ تم دعا مانگو قبول نہ ہو تم سوال کرو اور سوال پورا نہ کیا جائے تم اپنے دشمنوں کے خلاف مجھ سے مدد چاہو او رمیں تمہاری مدد نہ کروں ۔(رواہ ابن حبان ، ابن حبان ، الترغیب )
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم نیکیوں کا حکم اور برائیوں سے روکتے رہو ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسے ظالم بادشاہ مسلط کر دے گا جو تمہارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ، تمہارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، اس وقت تمہارے برگزیدہ لوگ دعائیں کریں گے تو قبول نہ ہو ں گی ، تم مدد چاہو گے تو مدد نہ ہو گی ، مغفرت مانگو گے تو مغفرت نہ ملے گی ۔ درمنشور میں بہ روایت ترمذی وغیرہ حضرت حذیفہ سے نقل کیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے قسم کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے روکتے رہو ورنہ اللہ جل جلالہ اپنا عذاب تم پر مسلط کر دیں گے پھر تم دعا بھی مانگو گے تو قبول نہ ہو گی ۔
قارئین کرام ! سب سے پہلے اپنے ذہن میں یہ تاثر نکال دیں اور وقت ہم جو مختلف مصائب کا شکار ہیں ، ان کی ذمہ دار کوئی بھی حکومت نہیں ہوتی ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت نے یہ کر دیا اور نئی حکومت ہمارے تمام مسائل حل کر دے گی ، مسائل کا حل کسی بھی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے بلکہ اوپر بار بار یہ بتلایا گیا ہے کہ جیسے اعمال ہم اوپر بھیجیں گے ویسے ہی فیصلے اوپر سے آئیں گے او رظالم بادشاہ بھی اللہ تعالیٰ ہی مسلط کرتا ہے نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور ہم آخری امت ہیں ۔ اب کوئی نبی نہیں آ ئے گا مگر نبوت والاکام قیامت تک جاری رہے گا ، وہ اس امت کے ذمے ہے اگر یہ اس کام کو چھوڑ دے گی تو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جائے گی ۔