1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"دوست کو دوست سے ملا دو " قبرِ رسول ﷺ سے آواز آئی ۔۔۔ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں ؟؟ ارجنٹ

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از طاہر رمضان, ‏اپریل 05، 2013۔

  1. ‏اپریل 05، 2013 #1
    طاہر رمضان

    طاہر رمضان رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2012
    پیغامات:
    77
    موصول شکریہ جات:
    167
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    ایک ویب سائیٹ پر یہ موجود ہے !!

    کیا یہ جو نقل کی گئی حدیث صحیح ہے یا نہیں ؟ برائے مہربانی رہنمائی کریں ۔۔ شکریہ
     
  2. ‏اپریل 05، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,925
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

  3. ‏مارچ 12، 2018 #3
    سلطان ملک

    سلطان ملک رکن
    جگہ:
    ممبئی
    شمولیت:
    ‏اگست 27، 2013
    پیغامات:
    78
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    شیخ یہ لنک کام نہیں کر رہا ہے ۔
     
  4. ‏مارچ 12، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم شیخ کفایت اللہ صاحب کا یہ پورا مضمون آپ کیلئے یہاں پیش کیئے دیتے ہیں :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    بھائی تفسیر کبیر امام رازی کی تفسیر کوکہاجاتا ہے ۔
    ہمارے پاس تفسیر کبیرکا جونسخہ ہے اس میں ہمیں مذکورہ صفحہ پرایسی کوئی بات نہیں ملی ، ہم نے شاملہ میں سرچ کیا تو درج ذیل نتائج ملے:

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (10/ 135)
    وَلَمَّا تُوُفِّيَ رِضْوَانُ اللَّه عَلَيْهِ دَفَنُوهُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّ اللَّه تَعَالَى رَفَعَ الْوَاسِطَةَ بَيْنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ،

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (16/ 51)
    وَلَمَّا تُوُفِّيَ دُفِنَ بِجَنْبِهِ، فَكَانَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ هُنَاكَ أَيْضًا

    ان دونوں مقامات پرابوبکررضی اللہ عنہ کے فضائل میں تفصیلی بحث موجود ہے لیکن یہاں پر مذکورہ روایت نہیں ہے۔


    ممکن ہے آپ کے بریلوی دوست کی مراد یہ بات ہو :

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (21/ 433)
    «أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ

    عرض ہے کہ یہ اثر یا کرامت بے سند ہے ، امام رازی نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا لہذا غیرمسموع ہے۔
    نیزاس میں وصیت ابوبکررضی اللہ عنہ کا تذکرہ بھی نہیں ہے ۔

    الغرض یہ کہ تفسیر رازی میں مذکورہ بات مکمل ہمین نہیں مل سکی بعض دوسری کتب میں یہ روایت ملتی ہے اس کی حقیقت آگے ملاحظہ ہو:
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:

    أنبأنا أبو علي محمد بن محمد بن عبد العزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبو طاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبد الله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبد الله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله صلى الله عليه وسلم وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبو بكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق[تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 436 واخرجہ ایضا أبو الفرج عبد المنعم بن كليب الحراني من طریق ابی علی فی مشيخة ابن كليب رقم 18 ترقیم جوامع الکلم]۔

    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا:
    هذا منكر وراويه أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبد الجليل مجهول والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس [تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 437]۔

    عرض ہے کہ ہماری نظر میں یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ۔
    اس کی سند میں موجود ابو طاہر المقدسی یہ موسى بن محمد بن عطاء بن طاهر البَلْقاويّ المقدسيّ ہے جیساکہ خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے بھی صراحت کردی ہے ۔

    یہ شخص کذاب ہے ۔

    امام موسى بن سهل رحمه الله (المتوفى262)نے کہا:
    أشهد عليه أنه كان يكذب[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161 واسنادہ صحیح]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا:
    كان يكذب[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161]۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    يكذب وياتى بالا باطل[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161]۔

    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    يُحَدِّثُ عَنِ الثِّقَاتِ، بِالْبَوَاطِيلِ فِي الْمَوْضُوعَاتِ[الضعفاء الكبير للعقيلي: 4/ 169]۔

    ان کے علاوہ اوربھی بہت سارے ائمہ نے اس پرجرح کی ہے۔

    نیز سند میں اوربھی علتیں ہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں