• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رافضیت؛ شرک، تحریف دین اور عداوت صحابہ کا مجموعہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
823
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
رافضیت؛ شرک، تحریف دین اور عداوت صحابہ کا مجموعہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔

أما بعد!

رافضیت ان قدیم فتنوں میں سے ہے جن کے شر سے سلف صالحین نے بارہا امت کو خبردار کیا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جس کی بنیاد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عداوت، کتاب و سنت کے رد، اور غلو و شرک پر قائم ہے۔

شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے رافضیت کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

والرفض أساسا يقوم على الإشراك بالله وتعبيد الخلق لغير الله توسلا وتضرعًا وتأليها، كما يقوم على رفض الكتاب بدعوى تحريفه بالنقصان والزيادة فيه، وعلى رفض سنة النبي الله ، ولا سيما صحيحها بتكذيب وتخوين من نقلها لنا وهم أشراف الأمة وأخص صحابته حتى رفضوا أصح كتب الأحاديث التي تلقتها الأمة بالقبول، لما كان رواتها من أشد الناس حرصًا وتوثقًا عمن ينقلونها عنهم، وعلى رأس هذه الكتب صحيحا البخاري ومسلم فكان ما عداهما من الكتب أولى بالرفض عندهم.

رافضیت کی بنیاد ہی اللہ کے ساتھ شرک پر قائم ہے، جہاں مخلوق کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے، ان سے وسیلہ مانگا جاتا ہے، عاجزی و فریاد کی جاتی ہے، بلکہ انہیں معبود بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح رافضیت قرآن مجید کے انکار پر قائم ہے، کیونکہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن میں کمی بیشی اور تحریف ہوئی ہے۔ نیز رافضیت سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار پر بھی قائم ہے، خصوصاً صحیح احادیث کے انکار پر، کیونکہ وہ ان کو جھٹلانے اور خائن قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں احادیث نقل کیں، حالانکہ وہ امت کے سب سے معزز لوگ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص صحابہ تھے۔ یہاں تک کہ روافض نے حدیث کی سب سے صحیح کتابوں کو بھی رد کر دیا، جنہیں پوری امت نے قبول کیا ہے، کیونکہ ان کتابوں کے راوی نقل حدیث میں سب سے زیادہ احتیاط اور تحقیق کرنے والے تھے۔ ان کتابوں کے سرفہرست صحیح البخاری اور صحیح مسلم ہیں، لہٰذا جب انہوں نے ان دونوں کو رد کر دیا تو باقی کتب حدیث کو رد کرنا ان کے نزدیک بدرجہ اولیٰ تھا۔

كما يقوم دينهم على رفض إمامة وخلافة من أجمع الناس حينها على إمامته وخلافته، الذين نعتهم رسول الله ﷺ بالراشدين، وحض على التمسك بسنتهم، بل وقرنها بالتمسك بسنته.

اسی طرح روافض کا دین ان خلفاء کی امامت و خلافت کے انکار پر قائم ہے جن کی امامت و خلافت پر اس وقت کے مسلمانوں کا اجماع تھا، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راشدین قرار دیا اور ان کی سنت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا، بلکہ اپنی سنت کے ساتھ ان کی سنت کو بھی لازم قرار دیا۔

إن دين الرفض يرفض تبرئة أم المؤمنين عائشة مما برأها الله تعالى في كتابه الكريم، وعاقب بجلد من اتهمها أو خاض في عرضها.

رافضیت کا دین اس بات کو بھی رد کرتا ہے کہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو اس تہمت سے بری مانا جائے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں انہیں بری قرار دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تہمت لگانے والوں اور ان کی عزت میں زبان درازی کرنے والوں کے لیے سزا مقرر فرمائی ہے۔

يقول نعمة الله الجزائري في الأنوار النعمانية : (باب نور في حقيقة دين الإمامية والعلة التي من أجلها يجب الأخذ بخلاف ما تقوله العامة): "إنا لا نجتمع معهم أي مع السنة - على إله ولا على نبي ولا على إمام، وذلك أنهم يقولون إن ربهم هو الذي كان محمد نبيه وخليفته من بعده أبو بكر، ونحن لا نقول بهذا الرب ولا بذلك النبي بل نقول إن الرب الذي خليفة نبيه أبو بكر ليس ربنا ولا ذلك النبي نبينا".

نعمة الله الجزائري اپنی کتاب الأنوار النعمانية میں کہتا ہے: "ہم اہل سنت کے ساتھ نہ کسی رب پر متفق ہیں، نہ کسی نبی پر، اور نہ کسی امام پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت کہتے ہیں کہ ان کا رب وہ ہے جس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کے بعد ابو بکر خلیفہ ہیں، جبکہ ہم ایسے رب کو نہیں مانتے، نہ ایسے نبی کو مانتے ہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جس نبی کا خلیفہ ابو بکر ہو، وہ نہ ہمارا رب ہے اور نہ وہ نبی ہمارا نبی ہے۔"


[هل أتاك حديث الرافضة، ص : ١٢]

6601.jpg

6662.jpg

شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے رافضیت کی حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا کہ رافضیت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر قائم ہے، جہاں غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے، ان سے فریاد کی جاتی ہے، اور انہیں الوہیت کے بعض خصائص میں شریک کیا جاتا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ روافض کے یہاں مزارات پر ان کے ائمہ سے استغاثہ، حاجت روائی، مشکل کشائی کی فریاد، اور غیر اللہ کے نام کی نذریں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ حالانکہ دعا، استغاثہ اور ذبح جیسی عبادات صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہیں۔ جو شخص ان عبادات کو غیر اللہ کے لیے صرف کرے وہ کافر و مشرک ہے۔

شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "كما يقوم على رفض الكتاب بدعوى تحريفه بالنقصان والزيادة فيه" یعنی رافضیت قرآن مجید کے انکار پر بھی قائم ہے، کیونکہ وہ قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے قائل ہیں۔

یہ روافض کا نہایت بدترین عقیدہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) اس کے باوجود روافض کی معتبر کتب میں تحریف قرآن کے متعدد اقوال موجود ہیں۔ اگرچہ متاخرین میں سے بعض لوگ تقیہ کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں، لیکن ان کے متقدم ائمہ اور مصادر اس مسئلے میں بالکل واضح ہیں۔

اسی طرح شیخ الزرقاوی رحمہ اللہ نے فرمایا: "وعلى رفض سنة النبي ﷺ" یعنی رافضیت سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار پر بھی قائم ہے۔ کیونکہ روافض نے دین اسلام کے ناقلین یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کو مطعون قرار دے دیا جن کے ذریعے قرآن و حدیث امت تک پہنچی۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خائن اور منافق کہا جائے تو پھر شریعت کا اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے۔

نیز روافض نے صحیح البخاری اور صحیح مسلم جیسی عظیم کتابوں کو بھی رد کیا، جیسا کہ شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے فرمایا: "حتى رفضوا أصح كتب الأحاديث التي تلقتها الأمة بالقبول" یعنی انہوں نے حدیث کی ان صحیح ترین کتابوں کو بھی رد کر دیا جنہیں امت نے بالاتفاق قبول کیا ہے۔

پھر رافضیت کا ایک بڑا اصول خلفائے راشدین خصوصاً ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار ہے، حالانکہ ان کی خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع تھا۔ شیخ ابو مصعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "كما يقوم دينهم على رفض إمامة وخلافة من أجمع الناس حينها على إمامته وخلافته" یہ دراصل اجماع صحابہ کی مخالفت اور امت کے متفقہ اصولوں سے خروج ہے۔

اسی طرح روافض کی خباثت کی ایک نہایت سنگین صورت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں ان کی براءت نازل فرمائی اور بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سنائی۔ اس کے باوجود روافض کی کتب میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے خلاف ناپاک عبارات موجود ہیں، جو قرآن کے صریح فیصلے سے بغاوت ہے۔

پھر روافض کے متقدم علماء کی کتابیں ان کے اصل مذہب کو مزید واضح کرتی ہیں کہ رافضیت ایک ایسا منحرف دین ہے جو اسلام کے بنیادی عقائد سے ٹکراتا ہے۔ اسی لیے شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے مسلمانوں کو روافض کے باطل عقائد سے خبردار کیا اور امت کو ان کے شر و فساد سے بچانے کی تاکید کی۔

نسأل الله أن يحفظ أهل السنة من بدع الروافض وضلالاتهم، وأن يثبتنا على التوحيد والسنة۔
 
Top