• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رافضیوں کے ذبیحہ کے بارے میں شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ کا مفید جواب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
جواب مفيد للشيخ عبدالرحمن السعدي رحمه الله. عن ذبائح الرافضة

رافضیوں کے ذبیحہ کے بارے میں شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ کا مفید جواب

قال :(وأما ذبائحهم فهذا مترتب على الحكم بكفرهم وعدمه ، فمن حكم بكفره من الرافضة كالذين يدعون أهل البيت ويستغيثون بهم فذبائحهم لاتحل ،

شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: جہاں تک ان کی ذبیحوں کا تعلق ہے تو یہ ان کے کافر ہونے یا نہ ہونے کے حکم پر موقوف ہے۔ پس جن رافضیوں کے بارے میں کفر کا حکم دیا گیا ہے، جیسے وہ لوگ جو اہل بیت کو پکارتے ہیں اور ان سے فریاد کرتے ہیں، تو ان کی ذبیحہ حلال نہیں۔

وكذلك الذين يعتقدون نبوة علي أو غيره من أهل البيت فذبائحهم حرام

اسی طرح جو لوگ علی یا کسی اور اہل بیت کے فرد کی نبوت کے قائل ہوں تو ان کی ذبیحہ حرام ہے۔

لأن جميع الكفار ذبائحهم لاتحل ، إلا أهل الكتاب من اليهود والنصارى ،

کیونکہ تمام کفار کی ذبیحہ حلال نہیں، سوائے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے۔

وأما من لم يحكم بكفره من الرافضة أو غيرهم من أهل البدع فذبائحهم حلال حتى ولو كانوا يسبون الصحابة ، والله أعلم )

اور وہ رافضی یا اہل بدعت جن کے بارے میں کفر کا حکم نہ دیا گیا ہو، ان کی ذبیحہ حلال ہے، اگرچہ وہ صحابہ کرام کو سب و شتم ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ واللہ اعلم۔

المرجع / مجموع مؤلفات الشيخ عبدالرحمن السعدي ، المراسلات / ٢٧ / ٣٤٩-٣٥٠)

IMG_20250522_183244_774.jpg

IMG_20250522_183307_517.jpg

IMG_20250522_183310_348.jpg

وقال في المصدر السابق ٢٧/ ٣٥١-٣٥٢ :


(وأما ذبيحة الرافضي : فالذي تعرف منه الشرك مثلا الذي يستغيث بغير الله ، فهو مشرك لاتحل ذبيحته ، والذي لاتعرف منه إلا أنه رافضي فذبيحته حلال )

اور رافضی کی ذبیحہ: اگر وہ شخص شرک میں مبتلا ہو، مثلاً غیر اللہ سے فریاد کرتا ہو، تو وہ مشرک ہے اور اس کی ذبیحہ حلال نہیں۔ اور اگر اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ رافضی ہے (اور شرک کا علم نہ ہو)، تو اس کی ذبیحہ حلال ہے۔

IMG_20250522_183316_718.jpg

IMG_20250522_183319_060.jpg

أقول / مراد الشيخ (وأما من لم يحكم بكفره من الرافضة أو غيرهم من أهل البدع ٠٠) عموم الشيعة المتقدمين الذين لم يتلبسوا بالشرك الأكبر ؛ لان سبب تسميتهم بالشيعة الإمامية باعتبار رفضهم لإمامة الشيخين ، لا باعتبار مادخل عليهم من الشرك الأكبر بعبادة الأئمة الإثني عشر ، وحج المشاهد ، ونفي الصفات على طريقة المعتزلة وغيرها من المكفرات الصريحة ،

میں کہتا ہوں: شیخ کا مقصد اس قول (وأما من لم يحكم بكفره من الرافضة أو غيرهم من أهل البدع ٠٠) سے ابتدائی دور کے عام شیعہ ہیں جو شرک اکبر میں ملوث نہیں ہوئے؛ کیونکہ ان کو "شیعہ امامیہ" اس بنیاد پر کہا جاتا تھا کہ وہ شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی امامت کو رد کرتے تھے، نہ کہ اس اعتبار سے جو ان میں داخل ہوا ہے شرکِ اکبر جیسے بارہ اماموں کی عبادت، قبروں کا حج، اور معتزلیوں کے طرز پر صفاتِ باری کا انکار وغیرہ جو صریح کفر میں شامل ہیں۔

وقد ذكر ابن تيمية في التسعينية / أن الشيعة ثلاث درجات

ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "التسعینیہ" میں ذکر فرمایا ہے کہ شیعہ تین درجوں میں تقسیم ہیں۔

شرها الغالية : الذين جعلوا لعلي شيئا من الإلهية ، أو يصفونه بالنبوة ، وكفر هؤلاء بين لكل مسلم يعرف الإسلام

ان میں بدترین درجہ غالی شیعہ کا ہے: جو علی رضی اللہ عنہ کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں یا نبوت کا وصف ان سے منسوب کرتے ہیں، اور ان کا کفر ہر اُس مسلمان پر واضح ہے جو اسلام کو جانتا ہے۔

وهذا حق لاريب فيه ، وهو ماقرره الشيخ ابن سعدي ،

اور یہ بات حق ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور یہی شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی۔

أما قول الشيخ ابن سعدي :(حتى لو كانوا يسبون الصحابة ) بهذا الإطلاق محل نظر وتعقيب ؛ لأن سب الصحابة رضي الله عنهم على درجات ، منه ماهو كفر بالاتفاق ، ومنه ماليس بكفر ، ومنه ماهو محل تردد ، هل يكون كفرا أو بدعة ،

رہا شیخ ابن سعدی کا یہ قول: (حتى لو كانوا يسبون الصحابة ) مطلق طور پر تو یہ محل نظر و تعقیب ہے؛ کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو سب و شتم کرنا مختلف درجوں پر مشتمل ہے کچھ صورتیں متفقہ طور پر کفر ہیں، کچھ کفر نہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں اختلاف ہے کہ آیا وہ کفر ہے یا بدعت۔

قال ابن تيمية في الصارم المسلول :
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "الصارم المسلول" میں فرمایا:

(أما من اقترن بسبه دعوى أن عليا إله ، أو أنه كان هو النبي وإنما غلط جبريل في الرسالة فهذا لاشك في كفره ٠٠٠

جس نے صحابہ کو سب و شتم کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ خدا ہیں، یا یہ کہ اصل نبی وہی تھے اور جبرائیل علیہ السلام سے رسالت پہنچانے میں غلطی ہوئی، تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

وأما من سبهم سبا لايقدح في عدالتهم ولافي دينهم مثل وصف بعضهم بالبخل أو الجبن أو قلة العلم أو عدم الزهد ونحو ذلك فهذا هو الذي يستحق التأديب والتعزير ولا نحكم بكفره بمجرد ذلك ، وعلى هذا يحمل كلام من لم يكفرهم من أهل العلم ،

اور جو شخص صحابہ کرام کو اس طرح برا کہے جو ان کی دیانت یا عدل پر اثر نہ ڈالے، جیسے بعض کو بخیل، بزدل، کم علم یا غیر زاہد کہنا وغیرہ، تو ایسا شخص تادیب و تعزیر کا مستحق ہے، مگر صرف اس بنیاد پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ اور علمائے کرام کا صحابہ پر سب کرنے والوں کی تکفیر نہ کرنا اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں ہے۔

وأما من لعن وقبح مطلقا فهذا محل الخلاف فيهم لتردد الأمر بين لعن الغيظ ولعن الاعتقاد ،

اور جو شخص مطلقاً لعن و طعن کرتا ہو، تو اس کے بارے میں اختلاف ہے، کیونکہ یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کا لعن غصے کے طور پر ہے یا عقیدہ کے طور پر۔

وبالجملة فمن أصناف السابة من لاريب في كفره ، ومنهم من لايحكم بكفره ، ومنهم من تردد فيه

مجموعی طور پر سبّ و شتم کرنے والوں میں سے بعض کا کفر یقینی ہے، بعض کا کفر ثابت نہیں، اور بعض کے بارے میں اختلاف ہے۔

أقول : ويمكن أن يكون مراد الشيخ ابن سعدي مجرد السب لبعض أفراد الصحابة ، أو السب الذي لايقدح في عدالتهم ، إلا أنه أجمل ولم يبين مراده ،

میں کہتا ہوں: ممکن ہے کہ شیخ ابن سعدی کی مراد صرف بعض صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا ہو، یا ایسا سبّ جس سے ان کی عدالت پر اثر نہ پڑے، لیکن انہوں نے اپنی مراد کو واضح نہیں کیا۔

والمفيد في هذه الفتوى / عدم حل ذبائح الرافضي الواقع في الشرك الأكبر

اور اس فتویٰ کا مفید نکتہ یہ ہے کہ وہ رافضی جو شرکِ اکبر میں مبتلا ہو، اس کی ذبیحہ حلال نہیں۔

إعداد : د. أيمن بن سعود العنقري (حفظہ اللہ)
الأستاذ المشارك بقسم العقيدة والمذاهب المعاصرة بكلية أصول الدين / جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية - الرياض
 
Last edited:
Top