• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

راہ حق کی آزمائشیں ۔۔۔۔اور ہم

نسرین فاطمہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 21، 2012
پیغامات
1,280
ری ایکشن اسکور
3,232
پوائنٹ
396
راہ وفا میں ہر سو کانٹے ؛دھوپ زیادہ چھاوں کم

لیکن اس راہ پہ چلنے والے خوش ہی رہے پچھتائے کم

یہ اٹل حقیقت ہے کہ راہ وفا کانٹوں سے بھری اور مشکلات سے عبارت ہے مگر اس پر چلنے والے پلٹنے کا خیال بھی دل میں لانا گوارا نہیں کرتے ، اس لئے کہ اس کے آگے ایک حسین منزل ہے جس کے حسن ودلکشی مسحور کن، جس کی نعمتیں ختم نہ ہونے والی جس کی خوشی وسکون Cلازوال وابدی ہے وہ منزل جس کی طرف بلانے والا کہتا ہے کہ "اسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ـ۔۔۔۔۔۔نہ کسی کان نے سنا؛؛اور اسی لئے ہر آزمائش خواہ کسی سنگریزے کی مانند ہو ۔۔۔کانٹے جیسی ہو یا تلوار کی کاٹ رکھنے والی ۔۔۔ اسے پھلانگ جانا ممکن ہوجاتا ہے اور پھر ۔۔۔۔ ہر آہ میں رب سے مدد کے لئے ایک پکار پوشیدہ ہوتی ہے آنکھوں سے گرنے والے قطرے حب الہی کا مظہر ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ دلوں کے زخم کے لئے اس کی گفتگو(قرآن)تسلی اور مرہم بن جا تا ہے ۔۔۔روح کی آلودگیوں کے لئے صبر ونماز اور توبہ کا مصفی اور آنکھوں کا پانی درکار ہوتا ہے ۔
اس راہ کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔ایک اور راہ جاتی ہے ۔۔۔۔لذتوں اور اور آسائیشوں سے بھری ہوئی لیکن۔۔۔۔۔جس کا منتہی ایک درد ناک منزل ہے ؛یہ حسن ودلفریبی بہت سوں کو کھینچتی ہے مگر جو سیدھی راہ چن لیں " أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّ‌بِّهِمْ ۖ " ؛؛اور انسان کے لئے اس قوت تمیز وعقل اور ہدایت کا انتظام خود پروردگار ہی کرتا ہے ؛ راہ حق میں آزمائش ۔۔۔ہر ظرف کے مطابق ہی ڈالی جاتی ہے " لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ " اللہ کسی کی قدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتا ؛ اور انسان تو کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے ۔۔۔۔
اللہ کہتا ہے توبہ واسغفار کرو ۔۔۔۔ اور گناہ دھو لیا کرو کبھی صبر ونماز کے لئے ترغیب دیتا ہے تاکہ آزمائشوں میں مضبوطی کا باعث بن سکیں ۔۔اور پھر ۔۔۔۔کسی مرد مسلمان کو زمین پر گھسیٹا جاتا ہے ۔۔۔۔۔آگ برساتے موسموں میں بھاری سلیں سینوں پر رکھی جاتی ہیں ۔۔۔۔گھاٹیوں اور جیل کی سلاخوں میں قید تنہائی کی سزا دی جاتی ہے اور پھر ۔۔۔۔کسی کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔کسی کو بھوکے کتوں کے آگے چھوڑ دیا جاتا ہے کبھی سوشل بائیکاٹ کئے جاتے ہیں اور ۔۔۔۔اس راستے میں تاریخ خود کو بار بار دھراتی ہے اس طرح کہ ۔۔۔۔ہر دور کے جابر ۔۔۔اہل حق کے پاکیزہ جسموں کو برفانی موسم میں برف کی سلوں کی "سزا" عنایت کرتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر کبھی ۔۔۔انسان چیخ اٹھتا ہے کہ " کب آئیگی اللہ کی مدد ؟"نرم وگداز شفیق ورحم کے لہجے میں جواب آتا ہے " قریب ہی ہے اللہ کی مدد" ۔
آزمائش میں ظرف کا فرق ہے اس لئے کمزوروں کو رب چھوٹی چھوٹی آزمائش پر بھی بڑا انعام دے ڈالتا ہے اس لئے کہ " بے شک وہ اپنے بندوں پہ بڑا مہربان ہے ؛؛؛
لیکن آزمائش تو راہ حق کا خاصہ ہے لازم ہے کہ رب سے وفا و محبت کا امتحان ہو ؛ثبوت ہو ۔۔۔آزمائش ۔۔۔بڑے بڑے لوگوں کے لئے بڑی ہوتی ہے اور چھوٹے لوگون کے لئے چھوٹی آزمائش، کہ کبھی ۔۔۔۔طنز کے تیروں سے تواضع ہوتی ہے ۔۔۔کبھی عملی زندگی میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں ،کبھی تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے گزرے دور کی یاد گار کہہ "مسلم معشرے میں انفٹ قرار دیا جاتا ہے ۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔ان سب سے زیادہ اور کٹھن نفس کی آزمائش ہوتی ہے۔ بے قابو طاقتور شیر کو سدھانا اور قابو کرنا یہی آزمائشیں ہیں جو ہماری ہمت کا امتحان بن کہ آتی ہیں ۔۔۔۔کبھی کبھی ایمان پر شیطان کا حملہ کبھی عبادت میں دل کے لگاو کی کمی ۔۔۔۔اخلاقیات میں امتحان کی کمی ۔۔۔کبھی معاملات میں شیطانی اغوا ؛ سارے نفس کے حربے ۔اور مومن کی آزمائشین ہین اور جب وہ ۔۔۔ٹوٹنے لگتا ہے تو اسے وہی سر چشمے فیض پہنچانے لگتے ہیں جو بڑے بڑے انسانوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ ہاں ۔۔۔اتنا ہی ۔۔۔جتنا کوئی پینا چاہے ۔ جتنا صاحب ظرف ہو ؛ اللہ فرماتا ہے جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا ہوں ۔جواب دیتا ہوں ؛؛؛راہ حق پھولوں کی راہ نہیں ۔۔کانٹوں کی راہ ہے ۔۔۔۔جس کے آخر میں پھولوں کی منزل آتی ہے ؛؛؛؛؛؛؛؛
نسرین فاطمہ
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,011
پوائنٹ
289
راہ وفا میں ہر سو کانٹے ؛دھوپ زیادہ چھاوں کم
لیکن اس راہ پہ چلنے والے خوش ہی رہے پچھتائے کم
اس راہ کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔ایک اور راہ جاتی ہے ۔۔۔۔لذتوں اور اور آسائیشوں سے بھری ہوئی لیکن۔۔۔۔۔جس کا منتہی ایک درد ناک منزل ہے ؛یہ حسن ودلفریبی بہت سوں کو کھینچتی ہے مگر جو سیدھی راہ چن لیں " أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّ‌بِّهِمْ ۖ " ؛؛اور انسان کے لئے اس قوت تمیز وعقل اور ہدایت کا انتظام خود پروردگار ہی کرتا ہے ؛ راہ حق میں آزمائش ۔۔۔ہر ظرف کے مطابق ہی ڈالی جاتی ہے " لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ " اللہ کسی کی قدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتا ؛ اور انسان تو کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے ۔۔۔۔
بہت خوب ماشاءاللہ۔ آپ کے قلم میں قوت و تاثیر ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔
نامور ادیبہ بشریٰ رحمٰن نے بھی اپنے ایک افسانے میں اسی موضوع پر خامہ فرسائی کی تھی جو شاید کوئی 25 سال پہلے میں نے اپنی ڈائری میں لکھ رکھے تھے اور جو میرے بلاگ پر یہاں بھی موجود ہے :
گو زندگی کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں موڑ ہیں مگر صرف دو راستے ایسے ہیں ، جن میں سے ایک راستہ تقوے کی طرف جاتا ہے اور
دوسرا راستہ ۔۔۔
دوسرا راستہ دنیاوی چکا چوند کا ایسا راستہ ہے جس پر کہکشاں جیسی بھول بھلیاں بنی ہوئی ہیں ، جگمگاتی ہوئی ، مسکراتی ہوئی ، نور لٹاتی ہوئی ، دل کو لبھاتی ہوئی ، قریب بلاتی ہوئی ، جنوں کو تیز تر کرتی ہوئی ۔
جب زیست کا ہر عیش و آرام میسر ہو ۔ دنیا ایک مکمل چاند کی طرح اپنی چاندنی سستے مول لٹاتی نظر آ رہی ہو تو پھر تقوے کا راستہ اختیار کرنا بڑا کٹھن کام ہے ۔ مرد و زن دونوں کے لئے ۔ لیکن نفس جگمگاتی روشنیوں کی طرف دبے پاؤں دوڑتا ہے ۔
نفس کو سرکشی سے باز رکھنا تقویٰ کہلاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تقوے کا راستہ جنت کا راستہ ہے ۔
جس طرح فلموں کے شائقین کہتے ہیں کہ آج کے مقابلے میں پرانے دور کی فلموں سے عوام ایک حد تک موزوں تفریح اور سبق حاصل کرتے تھے ۔۔۔ بالکل اسی طرح میرا ماننا ہے کہ شعر و ادب کے کلاسکس کو پڑھنے سمجھنے اور غور کرنے سے وہ بہترین اسلوب و انداز حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعے کوئی لکھنے والا آج بھی عوامی ذہن کو مسخر کر سکتا ہے۔ جس طرح تقریر کے میدان میں مقرر کے انداز بیاں سے راہ چلتے لوگ رک جاتے ہیں اسی طرح تحریر کے میدان میں اسلوب اور طرز قاری پر لازماً اثرانداز ہوتے ہیں بشرطیکہ الفاظ میں جادو ہو اور محض لفاظی نہ ہو! :)
 
Top