ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 846
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
ربیع مدخلی کے جاسوس ہونے پر شيخ مقبل بن هادی الوادعی کے شاگرد کی گواہی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شيخ مقبل بن هادی الوادعی کے شاگرد علامہ محمد بن عبد الوهاب الوصابی العبدلی فرماتے ہیں:
الشيخ ربيع جاسوس !!! يمدح المسئول (اليمني) الفلاني الذي عنده وعنده من المعاصي... بعض المشايخ منهم الشيخ ربيع أنه جاسوس
شیخ ربیع ایک جاسوس ہے!!! وہ اس فلاں (یمنی) اقتدار والے شخص کی تعریف کرتا ہے جو اس کے پاس ہے، حالانکہ اس کے اندر کھلی معاصی پائی جاتی ہیں ... بعض مشائخ جن میں شیخ ربیع بھی شامل ہے، وہ جاسوس ہے۔
[الإجابة عن أوهام وأغاليط الشيخ ربيع المدخلي، ص : ١٦]
شیخ محمد الوصابی کا ربیع مدخلی کو "جاسوس" کہنا، ظاہر کرتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں محض اختلافی نہیں بلکہ خطرناک نوعیت کی تھیں، جو مسلمانوں اور خاص طور پر مجاہدین کے خلاف تھیں کیونکہ جب کوئی مولوی، طاغوتی حکمرانوں کا مداح بن جائے اور مجرموں کی پردہ پوشی کرے تو وہ امت کا خیرخواہ نہیں بلکہ دشمن کے ہاتھ کا آلہ بن چکا ہوتا ہے۔
شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں:
الصحيح أنه يجوز قتل الجاسوس الذي ينقل أخبار المسلمين إلى أعدائهم، ولو كان مسلمًا؛ لأنَّ جريمته عظيمة، وفعله هذا موالاة للكفار في الغالب
صحیح بات یہ ہے کہ ایسے جاسوس کو قتل کرنا جائز ہے جو مسلمانوں کی خبریں ان کے دشمنوں تک پہنچاتا ہو، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ اس کا جرم بہت بڑا ہے، اور اس کا یہ عمل اکثر کفار سے موالات کے دائرے میں آتا ہے۔
[مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ج : ٢٥، ص : ٣٨٩]
ربیع مدخلی جیسے لوگ دراصل منہجیت کی آڑ میں ایجنسیوں کے مقاصد پورے کرتے ہیں ان مدخلیوں نے سلفی علمائے حق اور مجاہدین کے خلاف جاسوسی، رپورٹنگ، اور مخبری کو اپنے "دعوتی مشن" کا حصہ بنا رکھا ہے جو کہ بہت بڑا جرم ہے جیسا کہ شیخ ابن عثیمین نے فرمایا "أنَّ جريمته عظيمة"
مداخلہ سعودیہ میں مجاہدین اور علمائے حق کی پکڑ دھکڑ کے ایجنٹ، امارات اور مصر میں یہ حق بولنے والوں کو جیلوں میں بھجوانے والے مخبر، ہندوستان میں یہ NIA اور ATS کے پالتو کتے بن کر مسلمان نوجوانوں کو دہشتگرد قرار دینے میں شریک، امریکہ اور اسرائیل کے نزدیک "ماڈریٹ مسلمان" کے نام پر ان کی زبان بولنے والے گماشتے ہیں۔ ان کے اس عمل پر شیخ ابن عثیمین کا فتویٰ ہے کہ "يجوز قتل الجاسوس الذي ينقل أخبار المسلمين إلى أعدائهم" ایسے جاسوس کو قتل کرنا جائز ہے جو مسلمانوں کی خبریں دشمنوں تک پہنچاتا ہے۔
مداخلہ جہاد کو ختم کرنے کے لیے طاغوتوں، صلیبی طاقتوں اور ہندوتوا ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، مسلمان نوجوانوں کو گرفتاریوں اور اذیت گاہوں میں پہنچانے کے لیے پولیس کو فہرست دیتے ہیں۔ یہ ظاہراً سلفی ہونے کے دعوے کرتے ہیں لیکن حقیقتاً صلیبی، صہیونی اجنٹ اور مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے معاون و مددگار ہیں! جیسا کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں "وفعله هذا موالاة للكفار في الغالب" ان کا یہ عمل اکثر کفار سے موالات ہوتا ہے۔
والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام