makki pakistani
سینئر رکن
- شمولیت
- مئی 25، 2011
- پیغامات
- 1,323
- ری ایکشن اسکور
- 3,040
- پوائنٹ
- 282
http://inkishaf.tv/wp-content/uploads/2015/11/Riayatullah-Farooqui1.jpg
گزشتہ سے پیوستہ محرم میں محترم جاوید احمد غامدی کے شاگرد رشید برادرم خورشید ندیم نے اپنے گھر پر دعوت رکھی جس میں سبوخ سید، یدبیضاء، فرنود عالم، ڈاکٹر عامر طاسین، قدوس سید اور مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ محرم کا “سیزن” تھا سو میں نے خورشید صاحب سے پوچھا۔
“آپ کو نہیں لگتا کہ اسلام کو صاحبزادوں سے بہت نقصان پہنچا ہے اور صاحبزادگی کی روایت کا آغاز حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ؟”
خورشید صاحب ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے
“میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر تنقیدی تجزیئے اور اور تبصرے جائز نہیں سمجھتا، جب ہم جائزہ لینگے تو پھر کوئی نہ کوئی حکم بھی لگائینگے جس کا ہمیں کوئی حق نہیں”
میں نے عرض کی
“بند کمرے میں آپس کی نشست میں واقعات کا علمی جائزہ تو لیا جا سکتا ہے”
خورشید صاحب نے کہا
“یہی علمی جائزہ صحابہ کی توہین کا دروازہ کھولتا ہے، اور اسی لئے میں اسے جائز نہیں سمجھتا”
خورشید صاحب کی شخصیت کے اس پہلو نے مجھے بے انتہاء متاثر کیا ورنہ یہاں جو اپنی اولاد کی کمزوریوں کو سات رضائیوں میں چھپا کر رکھتے ہیں وہ بھی صحابہ کرام کو اپنے کٹہرے میں طلب کرنے سے باز نہیں آتے۔ بھائی کم سے کم اپنی اولاد جتنی رعایت تو انہیں دیجئے۔
“آپ کو نہیں لگتا کہ اسلام کو صاحبزادوں سے بہت نقصان پہنچا ہے اور صاحبزادگی کی روایت کا آغاز حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ؟”
خورشید صاحب ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے
“میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر تنقیدی تجزیئے اور اور تبصرے جائز نہیں سمجھتا، جب ہم جائزہ لینگے تو پھر کوئی نہ کوئی حکم بھی لگائینگے جس کا ہمیں کوئی حق نہیں”
میں نے عرض کی
“بند کمرے میں آپس کی نشست میں واقعات کا علمی جائزہ تو لیا جا سکتا ہے”
خورشید صاحب نے کہا
“یہی علمی جائزہ صحابہ کی توہین کا دروازہ کھولتا ہے، اور اسی لئے میں اسے جائز نہیں سمجھتا”
خورشید صاحب کی شخصیت کے اس پہلو نے مجھے بے انتہاء متاثر کیا ورنہ یہاں جو اپنی اولاد کی کمزوریوں کو سات رضائیوں میں چھپا کر رکھتے ہیں وہ بھی صحابہ کرام کو اپنے کٹہرے میں طلب کرنے سے باز نہیں آتے۔ بھائی کم سے کم اپنی اولاد جتنی رعایت تو انہیں دیجئے۔