ابو داؤد
رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 654
- ری ایکشن اسکور
- 198
- پوائنٹ
- 77
روافض کفار کی سب بڑی پہچان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
((عن ام سلمة رضی اللّٰہ عنھا قالت کانت لیلتی وکان النبی ﷺ عندی فأتتہ فاطمة فسبقھا علی فقال لہ النبی ﷺ یا علی! انت واصحابک فی الجنة الا انہ ممن یزعم انہ یحبک اقوام یرفضون الاسلام ثم یلفظونہ یقرأون القرآن لایجاوز تراقیھم لھم نبز یقال لھم الرافضة فان ادرکتھم فجاھدھم فانھم مشرکون قلت یارسول اللّٰہ ﷺ ! ماالعلامة فیھم قال لایشھدون جمعة ولاجماعة ویطعنون علی السلف الاول (وفی روایة الریاض النضرة) ویشتمون أبابکر وعمر))
’’حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری رات کی باری تھی اور نبی کریم ﷺ میرے پاس تھے، پس حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان کے آنے سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے علی! تم اور تمہارے ساتھی جنت میں ہوں گے۔ سن لو! ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ زعم ہوگا کہ وہ تجھ سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ وہ اسلام کو جھٹلائیں گے اور اس سے نکل جائیں گے، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے۔ پس تم ان سے جہاد کرنا کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ان کی علامت کیا ہے؟ فرمایا وہ نہ جمعہ میں حاضر ہوں گے اور نہ جماعت میں اور پچھلے لوگوں پر طعن کریں(اور ریاض النضرۃ کی روایت میں ہے) اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیں گے‘‘۔
[مجمع الزوائد، ج: ۱۰، ص: ۲۱۔ المعجم الاوسط، ج: ۶، ص: ۳۵۵، رقم الحدیث: ۶۶۰۵۔ السنة لابن ابی عاصم، ج: ۲، ص: ۴۷۵۔ الریاض النضرة، ج: ۱، ص: ۳۶۳]
((قال قال لی النبی ﷺ یا علی! أنت وشیعتک فی الجنة وان قومالھم نبز یقال لہ الرفضة ان ادرکتھم فاقتلھم فانھم مشرکون، قال علی رضی اﷲ عنہ ینتحلون حبنا اھل البیت ولیسوا کذلک وآیة ذلک انھم یشتمون أبابکر وعمر رضی اﷲ عنھما))
’’نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا، اے علی! تم اور تمہاری اولاد جنت میں ہوگی اور بے شک ایک قوم ہوگی، اس کے لئے ہلاکت ہے، اُن کو روافض کہا جائے گا۔ اگر تم ان کو پالو تو ان کو قتل کر دینا کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ فرمایا علی رضی اللہ عنہ نے وہ ہماے اہل بیت سے محبت کا اظہار کریں گے حالانکہ وہ ایسے نہیں ہوں گے، ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیں گے‘‘۔
[السنة لعبد اللّٰہ بن احمد، ج :۲، ص: ۵۴۸، رقم الحدیث: ۱۲۷۲ واسنادہ ضعیف]۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
((ومنھم من یری ان فرج النبی ﷺ الذی جامع بہ عائشة رضی اﷲ عنھا وحفصة رضی اﷲ عنھا لابد ان تمسہ النار لیطھر بذلک من وطئ الکوافر))
’’اور ان (روافض) میں سے بعض ایسا کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی شرمگاہ کو آگ چھوئے گی (العیاذ باللہ)کیونکہ آپ ﷺ نے امہات المومنین عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ شب باشی فرمائی اور یہ زعم رکھتے ہیں کہ اس سے آپ ﷺ کو کافروں (یعنی امہات المومنین عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہما) کے ساتھ کی گئی شب باشی کی ناپاکی سے پاک کیا جائے گا(نعوذ باللہ )‘‘۔
[مجموعة فتاوی ابن تیمیة رحمہ اﷲ، ج: ۶، ص: ۴۲۱]۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:
((وھولاء الرافضة ان لم یکونوا شرا من الخوارج المنصوصین فلیسوا دونھم،فان اولئک انما کفروا عثمان ؓوعلیّاؓواتباع عثمان وعلی فقط، دون من قعد عن القتال أومات قبل ذلک، والرافضة کفرت أبا بکرؓ وعمرؓ وعثمانؓ وعامة المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللّٰہ عنھم ورضوا عنہ وکفروا جماھیر أمة محمد ﷺ من المتقدمین والمتأخرین۔ فیکفرون کل من اعتقد فی ابی بکر وعمر والمھاجرین ولانصار العدالة أوترضی عنھم کما رضی اللّٰہ عنھم أو یستغفر لھم کما امر اللّٰہ بالاستغفار لھم ولھذا یکفرون))
’’پس یہ رافضی اگر چہ منصوص علیہم خوارج سے بدتر نہیں تو ان سے کچھ کم بھی نہیں۔ کیونکہ پہلے گروہ (یعنی خوارج) نے تو صرف عثمان و علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کو کافر قرار دیا تھا سوائے اس کے جو قتال سے بیٹھا رہا یا اس سے پہلے فوت ہوگیا۔ لیکن ان رافضیوں نے ابو بکر و عمر و عثمان اور عامۃ المہاجرین والانصار رضی اللہ عنہم اور جن لوگوں نے احسان کے ساتھ آپ ﷺ کی پیروی کی اور جمہور امتِ محمد ﷺ کو، متقدمین و متاخرین سب کو کافر قرار دے دیا۔ پس جو کوئی ابو بکر و عمر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کے بارے میں عدالت کا اعتقاد رکھتا ہے یا وہ ان سے ایسے راضی ہوتا ہے جیسے کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا یا وہ ان کے لیے استغفار کرتا ہے جیسے کہ اللہ نے انہیں استغفار کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ (رافضی) اسے کافر قرار دیتے ہیں‘‘۔
[مجموعة فتاوی ابن تیمیة رحمہ اللّٰہ، ج: ۶، ص: ۴۲۱]۔