1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزہ کے فضائل اور اس سے متعلق جدید طبی مسائل

'جدید مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏نومبر 26، 2014۔

  1. ‏نومبر 26، 2014 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,301
    موصول شکریہ جات:
    363
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    روزہ کے فضائل اور اس سے متعلق جدید طبی مسائل
    مقبول احمدسلفی / داعی دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد شمال طائف(مسرہ)
    E-mail: islamiceducon@gmail.com
    رمضان المبارک بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے باعث سعادت ہے ۔ یوں تو اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے بہتیرے مواقع ایسے ہیں جو باعث اجروثواب ہیں مگررمضان مقدس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ یہ رحمت وبرکت سے لبریز،بخشش وعنایت سے پر،مغفرت ورضوان کا مہینہ ہے ۔ اس کا ایک ایک دن اورایک ایک رات اور رات ودن کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت سے معطر ہے ۔
    روزہ گوکہ سال میں ایک دفعہ اور فقط ایک مہینہ کے لئے آتا ہے مگر اس کے فیوض وبرکات اور آثارو نتائج کم ازکم سال بھرپر مرتب ہوتے ہیں ۔
    قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں رمضان اور روزہ کے بے شمار فضائل ہیں ، انمیں سے چند ایک آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔
    (1) رمضان میں قرآن کریم کا نزول :
    اللہ تعالی کا فرمان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ
    ترجمہ : ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے ۔

    (2) رمضان میں روزے کی فرضیت :
    مذکورہ بالا آیت جو نزول قرآن سے متعلق ہے اس آیت میں روزے کی فرضیت کی بھی دلیل ہے ۔
    (3) جنت کا دروازہ کھلنا:
    (4) جہنم کا دروازہ بند ہونا:
    (5) شیاطین کا قید کیا جانا:
    مذکورہ بالا تینوں خصائص کی دلیل :
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
    (إذا جاء رمضان , فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النارو صفدت الششياطين – (متفق عليه)
    ترجمہ : جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دورازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔
    مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے :
    (فتحت ابواب الرحمۃ وغلقت ابواب جہنم وسلسلت الشیاطین )
    ترجمہ : رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔
    (6) شب قدر :
    اسی ماہ مبارک میں لیلة القدر ہوتی ہے، جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌ ﴾ (سورة القدر)
    ترجمہ : ’’شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
    مجاہد ؒ کا قول ہے : اس رات کا عمل ، روزہ اور قیام ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے (تفسیرالقرآن العظیم 4/ 687)
    یعنی ایک رات کی عبادت کم از کم تراسی سال چار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اور زیادہ کا کوئی شمار نہیں ۔
    (7) مغفرت کا حصول :
    جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے روزہ رکھے اس کے لئے پچھلے گناہوں سے مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔
    (8) قیام کرنے والوں کے لئے مغفرت کا حصول :
    جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے رمضان شریف کی راتوں میں قیام کرے تواس کو سابقہ گناہوں سے گلوخلاصی ملتی ہے ۔
    (9) شب قدرمیں قیام کرنے سے مغفرت :
    چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ‏"‏ من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه،‏‏‏‏ ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏"‏‏.‏
    ترجمہ : جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب کی نیت) کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ اور جو لیلۃالقدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب لیلۃ القدر)

    (10) جہنم سے آزادی :
    ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    "للہ عند کل فطرعتقاء " (رواہ احمد وقال الالبانی ؒ : حسن صحیح )
    ترجمہ : اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے ۔
    ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت جسے علامہ البانی ؒ نے حسن قرار دیاہے اس میں مذکور ہے کہ ہررات اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی دیتا ہے ۔
    (11) دعا کی قبولیت :
    عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان للہ تبارک وتعالی عتقاء فی کل یوم و لیلۃ یعنی فی رمضان – وان لکل مسلم فی کل یوم ولیلۃ دعوۃ مستجابۃ (رواہ البزاروقال الالبانی : صحیح لغیرہ)
    ترجمہ : ’’بے شک اللہ تعالیٰ( رمضان المبارک میں) ہردن اورہررات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اورہردن اورہررات ہرمسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے‘‘۔
    (12) روزہ کا بدلہ بے حدوحساب :
    (13) روزہ دار افطار کے وقت اور رب سے ملاقات کے وقت فرحت محسوس کرتا ہے :
    (14) روزہ دار کی منہ کی بدبواللہ کے نزدیک مشک سے بہتر ہے :
    ابوہریرہؓ سے مروی ہے :
    "قال اللہ عزوجل : کل عمل ابن آدم لہ ، الاالصوم فانہ لی وانااجزی بہ ، والصیام جنۃ ، فاذا کان یوم صوم احدکم ، فلایرفث ولایصخب ، فان سابہ احد اوقاتلہ ، فلیقل : انی صائم ، والذی نفس محمد بیدہ لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک ۔ للصائم فرحتان یفرحھما ، اذا افطر فرح بفطرہ ، واذا لقی ربہ فرح بصومہ " (متفق علیہ )
    ترجمہ : اللہ تعالی فرماتا ہے : روزہ کے علاوہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں اور روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔ روزہ ڈھال ہے ۔ جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوتو وہ کوئی گناہ کا کام نہ کرے اور نہ وہ جھگڑا اور نہ ہی شور وشرابہ کرے ۔ اگر کوئی دوسرا اس سے زبان درازی کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی ہوا اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے ۔ روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک تو جب روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا ۔
    مسلم شریف کی ایک روایت ہے :
    "کل عمل ابن آدم یضاعف ، الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف ، قال اللہ تعالی : الا الصوم فانہ لی وانا اجزی بہ ، یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی "
    ترجمہ : ابن آدم کے ہرعمل کا بدلہ بڑھاکر دیا جاتاہے ، نیکی (بدلہ ) دس گنا سے سات سو گنا لکھی جاتی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے : سوائے روزے کے کہ یہ خالص میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔ وہ خواہشات اور کھانے کو میرے لئے ترک کرتا ہے ۔
    (15) روزہ دار کے لئے جنت میں مخصوص دروازہ :
    " عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان فی الجنۃ بابا یقال لہ الریان ، یدخل فیہ الصائمون یوم القیامۃ ، لایدخل منہ احد غیرھم ، فاذا دخلوا اغلق فلم یدخل منہ احد ( متفق علیہ )
    ترجمہ : سیدنا سہل بن سعد ؓنبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے ، قیامت کے دن اس میں روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ اس میں داخل ہوجائیں گے تو اس دروازہ کو بند کردیا جائے گا، پھر اس میں کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا ۔
    ترمذی میں ان الفاظ کی زیادتی ہے : " ومن دخلہ لم یظما ابدا" جو اس میں داخل ہوگیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔
    (16) روزہ جہنم سے ڈھال ہے :
    "عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال : الصیام جنۃ وحصن حصین من النار " (رواہ احمد باسناد حسن)
    ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے ۔
    (17) روزہ خیروبرکت کا دروازہ :
    "عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال : الا ادلکم علی ابواب الخیر ؟ قلت : بلی یا رسول اللہ ! قال : الصوم جنۃ ، الصدقۃ تطفی الخطیئۃ کما یطفی الماء النار " (رواہ الترمذی وقال الالبانی ؒ : صحیح لغیرہ )
    ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں خیر کے دروازوں کی خبر نہ دوں ، میں نے کہا کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے ۔ صدقہ گناہوں کوویسے ہی مٹادیتا ہے جیسےپانی آگ کو ۔
    (18) روزہ باعث سفارش :
    " عن عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ ، یقول الصیام : ای رب ، منعتہ الطعام والشھوۃ فشفعنی فیہ ، ویقول القرآن : ای رب ، منعتہ النوم باللیل فشفعنی فیہ ۔ قال : فیشفعان " ( رواہ احمد والطبرانی وصححہ البانی ؒ )
    ترجمہ : ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے) سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘
    (19) روزہ کی کوئی برابری نہیں :
    ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بات بتائیں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالی ہمیں نفع پہنچائے تو آپ نے فرمایا:
    " علیک بالصیام فانہ لامثل لہ " (رواہ ابن حبان وصححہ البانی ؒ )
    ترجمہ : تم روزہ رکھو کیونکہ اس کے مثل کوئی چیز نہیں ۔
    (20) روزہ تقوی کا ذریعہ :
    اللہ تعالی کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورة البقرة)
    ”ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جا“۔
    (21) جہنم سے دوری :
    بندہ جس قدر روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کے اورجہنم کے درمیان اسی قدر دوری بڑھاتاہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    (من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا)
    ( متفق علیہ)
    ترجمہ : جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔

    یہ ایک دن کا بدلہ ہے اور جب بندہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ، یا سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھے ، یا پھر ہرمہینے میں روزہ رکھے تو ان کا کیا حال ہوگا۔
    (22) رمضان میں عمرہ حج کے برابر:
    اس مہینہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عمرہ کا ثواب حج کے برابرہوتاہے۔

    ٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا:
    ’’فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِیْ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْہِ تَعْدِلُ حَجَّۃً‘‘۔(متفق عليه)
    ’’ترجمه : جب ماہِ رمضان آجائے تو تم اس میں عمرہ کرلینا کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابرہوتا ہے
    ٭ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَقْضِیْ حَجَّۃً مَّعِیْ‘‘۔
    (البخاری:۱۸۶۳، مسلم:۱۲۵۶)
    ’’رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کی قضا ہے"

    یہ تھے چند فضائل ، رمضان اور روزہ سے متعلق ۔ اب مضمون کے دوسرے حصے روزہ کے جدید طبی مسائل کی طرف التفات کرتے ہیں ۔

    روزہ کے جدید طبی مسائل
    (1) مسواک :
    روزہ دارکے لئے رات ودن کے کسی حصے میں مسواک کرنا سنت ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :
    "السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب " (رواہ البخاری)
    ترجمہ : مسواک سے منہ صاف ہوتاہے اور اللہ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے ۔
    شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مسواک کا مزہ اور اثر تھوک میں آجائے تو روزہ دارکو چاہئے کہ تھوک اور ذائقہ نہ نگلے ۔ (فتاوی الصیام )
    البتہ ٹوتھ برش اور پیسٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پیسٹ قوی الاثر ہے یا غیر قوی الاثر ، کیونکہ بازار میں موجود پیسٹ دونوں طرح کی ہیں ۔
    ٭اگرپیسٹ قوی الاثر ہو یعنی اس کا اثرمعدہ تک پہنچتا ہوتو ایسی پیسٹ استعمال نہ کی جائے ۔
    ٭اور اگر پیسٹ کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ہوصرف حلق تک محدود رہتاہوتو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

    (2) قطرات کا استعمال (Drops) :
    ضرروت کے تحت آنکھ ، ناک اور کان میں قطرات (Drops) ڈالنا کوئی حرج کی بات نہیں ، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ جو قطرات آنکھ ، ناک یا کان میں ڈالے جاتے ہیں ان کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ،، اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ قطرات معدے میں حلول کرتے ہیں تو دوتین بوند کا اثر آنکھ سے بہ کر یا کان سے ٹپک کر یا پھر ناک سے پھیل کر معدہ تک کس مقدار میں جائے گا ؟ ۔ ظاہر سی بات ہے وہ معمولی سی مقدار ہوگی اور اس مقدار کا اثر روزہ کے لئے کسی طرح کے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ عرب کے مشائخ حضرات بھی اس کے جواز کافتوی دیتے ہیں تاہم احتیاطا اس عمل کو رات تک مؤخر کر لیا جائے تو اولی اور افضل ہے ۔

    (3) بے ہوشی (Anaesthisia):
    کبھی کبھی انسان پر بے ہوشی کے حالات طاری ہوتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلا کسی حادثے میں شکار ہوکر بے ہوش ہوجائے یا علاج کی غرض سے بے ہوش کیا جائے ۔ اس سے متعلق احکام مندرجہ ذیل ہیں ۔
    ٭ناک میں گیس سونگھاکر یا چینی طریقے سے حساس مقام پر سوئی چبھوکر بعض حصے کو بے ہوش کرنا ناقض روزہ نہیں ہے ۔
    ٭ مریض کی رگ میں سریع العمل انجکشن لگاکر مخصوص مدت کے لئے عقل کو ماؤف کرنا بھی ناقض روزہ نہیں ہے ۔
    ٭ مریض نے بے ہوشی سے پہلے روزہ کی نیت کرلی اورپھر بے ہوش ہوا اورغروب شمس سے پہلے پہلے افاقہ ہوگیا تو اس کا روزہ صحیح ہے مگر غروب آفتاب کے بعد افاقہ ہونے پر روزہ نہیں درست ہوگا۔ اس لئے ایسے روزہ کے متعلق بہتری اسی میں ہے کہ اس کی قضا کرلی جائے ۔
    ٭ بے ہوشی اگر لمبی مدت مہینہ دو مہینہ والی ہو تو اسے جنون پر قیاس کیا جائے گا اور فرض روزے چھوٹ جانے پر اس کی قضا کا مکلف نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ اللہ تعالی انسان کو اس کی طاقت سے باہر کا مکلف نہیں بنایا ہے ۔

    (4) پچھنا، نشتر اور نکسیر کا حکم :
    پچھنا کے سلسلہ میں دوطرح کی احادیث وارد ہیں بعض روایات میں ذکر ہے کہ پچھنا لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےجبکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بحالت روزہ پچھنا لگوایا(صحیح بخاری) اور دوسروں کے لئے سینگی لگانے کی رخصت بھی دی ۔ (طبرانی ، دارقطنی)
    بعض علماء نے روزہ ٹوٹنے والی روایات کو منسوخ مانا ہے اور آپ ﷺکے عمل یا امت کو رخصت دینے والی روایات کو ناسخ مانا ہے ۔ اس لئے روزہ کی حالت میں حجامت کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ البتہ اکثر وبیشتر اہل علم کی نظر میں سینگی ناقض روزہ ہے لہذا اختلاف سے بچنے کے لئے میں یہ مشورہ دونگا کہ اس عمل کو رات تک مؤخر کرلے ۔

    (5) جسم کے اندرونی حصے میں آلات یا پائپ داخل کرنا:
    مریض کو علاج کی غرض سے کبھی معدے میں یا ضرورتا کبھی مقعد میں یا صنف نازک کے اگلے اور پچھلے راستے میں آلات یا پائپ وغیرہ داخل کئے جاتے ہیں تاکہ اندرونی حصے کا چیک اپ کیا جائے ۔ اس کی مختلف شکلیں اور طریقے ہیں ۔
    ان حالات میں غورطلب امر یہ ہے کہ اگر اوزاریا آلات کے استعمال میں غذائی مواد ہو توروزہ فاسد شمار ہوگا، اور یونہی بغرض معائنہ یا علاج کی خاطر غیرغذائی موادکا استعمال ہوتو روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ دراصل یہ عمل انجکشن کے مشابہ ہے اور اسی طرح کے احکام بھی لاگو ہونگے ۔

    (6) ٹیکہ لگانا (Injection) :
    ٭ٹیکہ چاہے جلد میں لگے ، چاہے گوشت میں لگے یا پھر نص میں لگے ۔ اگر ان ٹیکوں میں غذائی مواد نہیں تو روزہ درست ہےوگرنہ روزہ فاسد ہوگا ۔
    ٭شوگر کے مریض کا ٹیکہ لگانا بھی جواز کے قبیل سے ہے ۔
    ٭ شریان میں مستقل لگی رہنے والی سوئیوں کا بھی یہی حکم ہے ۔

    (7) گردوں کی صفائی (Dialysis):
    گردوں کے مریض کو ڈائیلوسس کیا جاتاہے اور اس کے مختلف طریقے ہیں مگر جتنے بھی طریقے رائج ہیں ان میں غذائی ادویہ کا استعمال ہوتا ہے اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے ڈائیلوسس کا عمل ناقض روزہ ہے ۔ اگر بغیر غذائی ادویہ کے علاج ممکن ہو تو پھر روزہ درست ہوگا ۔

    (8) خون کا عطیہ (Blood Donation) :
    ضرورت پڑنے پر روزہ دار اپنا خون چیک اپ کراسکتا ہے اور کسی دوسرے مریض کو اپنا خون نکال کر عطیہ بھی کرسکتا ہے ۔ یہ عمل روزہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ،یہی شیخ ابن باز ؒ کی بھی رائے ہے ۔ (مجموعہ فتاوی ابن بازؒ 15/274)

    (9) ٹکیوں کا استعمال (Tablets) :
    دل کی بعض بیماریوں کے لئے اطباء ٹکیوں کا نسخہ دیتے ہیں ، یہ ٹکیاں زبان کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور فورا منہ میں تحلیل ہوجاتی ہیں ، ایسا کرنے سے مریض کو راحت محسوس ہوتی ہے ۔
    چونکہ یہ ٹکیاں منہ ہی تک محدودرہتی ہیں ان کا اثر اندر نفوذ نہیں کرتا ، اس لئے ان ٹکیوں کا استعمال بھی بحالت روزہ جائز ہے ۔

    (10) جلد پرمادے کا استعمال :
    علاج کی غرض سے ہو یا شوق کے طورپر ،،،،،، جلد پر کسی بھی قسم کا تیل ، مرہم اور کریم کا استعمال کرسکتے ہیں ۔
    "جلدپرملی جانے والی کوئی بھی چیز مسام کے ذریعہ جلد کے نیچے خونی مواد میں جذب ہوجاتی ہے لیکن جذب ہونے کا یہ عمل بہت سست ہے ۔ لہذا جلد پرملی جانے والی بھی چیز ناقض روزہ نہیں " (مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ ؒ 25/ 267)

    (11) دانتوں کی صفائی :
    روزہ کی حالت میں دانتوں کی صفائی (Scaning) یا دانت نکلوانایا دانتوں کی اصلاح کرنا سارے امور جائز ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عمل کو رات کے لئے مؤخر کردیں یا دن میں ایسا عمل انجام دینے کی صورت میں دانتوں سے بہنے والا خون حلق سے نیچے نہ اتارے ۔ دانتوں کی صفائی میں استعمال ہونے والے ٹیکے بھی روزے کے لئے نقصان دہ نہیں ۔

    (12) زخموں کا علاج :
    جسم کے کسی حصے میں زخم ہو، روزہ دار ان زخموں کا علاج کراسکتا ہےکیونکہ یہ عمل نہ تو کھانے پینے پر قیاس کیا جائے گا اور نہ ہی عرف میں اسے کھاناپینا کہتے ہیں ۔

    (13) اسپرے کا حکم :
    دمہ کے مریضوں کے لئے اسپرے (بخاخ) کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ ان کی سخت ترین مجبوری ہے ، اور اسلام میں قاعدہ ہے کہ آدمی جس چیز کا مضطر ہوتا ہے اس کے لئے اس چیز کا استعمال جائز ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
    "وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ) "الأنعام:119(
    ترجمہ : اورجو چیزیں اس نے تمہارے لئےحرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ.
    لہذا دمہ کا مریض روزہ رکھتے ہوئے اسپرے کا استعمال کرے گااور اس کا روزہ درست ہوگا۔ اور اسے رکھے گئے روزہ کی قضا نہیں کرنی پڑے گی ۔
    اللہ تعالی نے دین اسلام کو اپنے بندوں کی خاطر آسان بنا دیا ہے ، حسب سہولت یعنی بقدر استطاعت دین پر عمل پیرا ہونا ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ جہاں اللہ تعالی نے مسافروں ، مریضوں اور معذوروں کو رخصت دی ہے وہاں رخصت پر عمل کرنا ہی افضل ہے اور رخصت پر عمل کرتے ہوئے دل میں ذرہ برابر بھی تنگی کا احساس نہ پیدا ہونے پائے جیسا کہ بعض مخصوص طبقوں میں یہ دیکھا جاتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے دعاہے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہمارا دامن بھردے اورسابقہ تمام گناہوں سے پاک کردے اور ہرکوشش کرنے والوں کوشب قدرکی فضیلت عطا فرئے ۔ آمین
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 26، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,532
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    روزہ کے فضائل اور اس سے متعلق جدید طبی مسائل
    مقبول احمدسلفی / داعی دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد شمال طائف(مسرہ)
    E-mail: islamiceducon@gmail.com
    رمضان المبارک بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے باعث سعادت ہے ۔ یوں تو اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے بہتیرے مواقع ایسے ہیں جو باعث اجروثواب ہیں مگررمضان مقدس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ یہ رحمت وبرکت سے لبریز،بخشش وعنایت سے پر،مغفرت ورضوان کا مہینہ ہے ۔ اس کا ایک ایک دن اورایک ایک رات اور رات ودن کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت سے معطر ہے ۔
    روزہ گوکہ سال میں ایک دفعہ اور فقط ایک مہینہ کے لئے آتا ہے مگر اس کے فیوض وبرکات اور آثارو نتائج کم ازکم سال بھرپر مرتب ہوتے ہیں ۔
    قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں رمضان اور روزہ کے بے شمار فضائل ہیں ، ان میں سے چند ایک آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

    (1) رمضان میں قرآن کریم کا نزول :
    اللہ تعالی کا فرمان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ
    ترجمہ : ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے ۔

    (2) رمضان میں روزے کی فرضیت :
    مذکورہ بالا آیت جو نزول قرآن سے متعلق ہے اس آیت میں روزے کی فرضیت کی بھی دلیل ہے ۔
    (3) جنت کا دروازہ کھلنا:

    (4) جہنم کا دروازہ بند ہونا:

    (5) شیاطین کا قید کیا جانا:

    مذکورہ بالا تینوں خصائص کی دلیل :
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
    (إذا جاء رمضان , فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النارو صفدت الششياطين – (متفق عليه)
    ترجمہ : جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دورازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔
    مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے :
    (فتحت ابواب الرحمۃ وغلقت ابواب جہنم وسلسلت الشیاطین )
    ترجمہ : رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیاطین مقید کردئے جاتے ہیں ۔

    (6) شب قدر :

    اسی ماہ مبارک میں لیلة القدر ہوتی ہے، جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌ ﴾ (سورة القدر)
    ترجمہ : ’’شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
    مجاہد ؒ کا قول ہے : اس رات کا عمل ، روزہ اور قیام ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے (تفسیرالقرآن العظیم 4/ 687)
    یعنی ایک رات کی عبادت کم از کم تراسی سال چار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اور زیادہ کا کوئی شمار نہیں ۔

    (7) مغفرت کا حصول :

    جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے روزہ رکھے اس کے لئے پچھلے گناہوں سے مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

    (8) قیام کرنے والوں کے لئے مغفرت کا حصول :

    جو ایمان و یقین اور اجروثواب کی نیت سے رمضان شریف کی راتوں میں قیام کرے تواس کو سابقہ گناہوں سے گلوخلاصی ملتی ہے ۔

    (9) شب قدرمیں قیام کرنے سے مغفرت :

    چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ‏"‏ من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه،‏‏‏‏ ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ‏"‏‏.‏
    ترجمہ : جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب کی نیت) کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ اور جو لیلۃالقدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب لیلۃ القدر)

    (10) جہنم سے آزادی :

    ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    "للہ عند کل فطرعتقاء " (رواہ احمد وقال الالبانی ؒ : حسن صحیح )
    ترجمہ : اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے ۔
    ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت جسے علامہ البانی ؒ نے حسن قرار دیاہے اس میں مذکور ہے کہ ہررات اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی دیتا ہے ۔

    (11) دعا کی قبولیت :

    عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان للہ تبارک وتعالی عتقاء فی کل یوم و لیلۃ یعنی فی رمضان – وان لکل مسلم فی کل یوم ولیلۃ دعوۃ مستجابۃ (رواہ البزاروقال الالبانی : صحیح لغیرہ)
    ترجمہ : ’’بے شک اللہ تعالیٰ( رمضان المبارک میں) ہردن اورہررات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اورہردن اورہررات ہرمسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے‘‘۔

    (12) روزہ کا بدلہ بے حدوحساب :

    (13) روزہ دار افطار کے وقت اور رب سے ملاقات کے وقت فرحت محسوس کرتا ہے :

    (14) روزہ دار کی منہ کی بدبواللہ کے نزدیک مشک سے بہتر ہے :

    ابوہریرہؓ سے مروی ہے :
    "قال اللہ عزوجل : کل عمل ابن آدم لہ ، الاالصوم فانہ لی وانااجزی بہ ، والصیام جنۃ ، فاذا کان یوم صوم احدکم ، فلایرفث ولایصخب ، فان سابہ احد اوقاتلہ ، فلیقل : انی صائم ، والذی نفس محمد بیدہ لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک ۔ للصائم فرحتان یفرحھما ، اذا افطر فرح بفطرہ ، واذا لقی ربہ فرح بصومہ " (متفق علیہ )
    ترجمہ : اللہ تعالی فرماتا ہے : روزہ کے علاوہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں اور روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔ روزہ ڈھال ہے ۔ جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوتو وہ کوئی گناہ کا کام نہ کرے اور نہ وہ جھگڑا اور نہ ہی شور وشرابہ کرے ۔ اگر کوئی دوسرا اس سے زبان درازی کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی ہوا اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے ۔ روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک تو جب روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا ۔
    مسلم شریف کی ایک روایت ہے :
    "کل عمل ابن آدم یضاعف ، الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف ، قال اللہ تعالی : الا الصوم فانہ لی وانا اجزی بہ ، یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی "
    ترجمہ : ابن آدم کے ہرعمل کا بدلہ بڑھاکر دیا جاتاہے ، نیکی (بدلہ ) دس گنا سے سات سو گنا لکھی جاتی ہے ، اللہ تعالی فرماتاہے : سوائے روزے کے کہ یہ خالص میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔ وہ خواہشات اور کھانے کو میرے لئے ترک کرتا ہے ۔

    (15) روزہ دار کے لئے جنت میں مخصوص دروازہ :

    " عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان فی الجنۃ بابا یقال لہ الریان ، یدخل فیہ الصائمون یوم القیامۃ ، لایدخل منہ احد غیرھم ، فاذا دخلوا اغلق فلم یدخل منہ احد ( متفق علیہ )
    ترجمہ : سیدنا سہل بن سعد ؓنبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے ، قیامت کے دن اس میں روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ اس میں داخل ہوجائیں گے تو اس دروازہ کو بند کردیا جائے گا، پھر اس میں کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا ۔
    ترمذی میں ان الفاظ کی زیادتی ہے : " ومن دخلہ لم یظما ابدا" جو اس میں داخل ہوگیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔

    (16) روزہ جہنم سے ڈھال ہے :

    "عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال : الصیام جنۃ وحصن حصین من النار " (رواہ احمد باسناد حسن)
    ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے ۔

    (17) روزہ خیروبرکت کا دروازہ :

    "عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال : الا ادلکم علی ابواب الخیر ؟ قلت : بلی یا رسول اللہ ! قال : الصوم جنۃ ، الصدقۃ تطفی الخطیئۃ کما یطفی الماء النار " (رواہ الترمذی وقال الالبانی ؒ : صحیح لغیرہ )
    ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں خیر کے دروازوں کی خبر نہ دوں ، میں نے کہا کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے ۔ صدقہ گناہوں کوویسے ہی مٹادیتا ہے جیسےپانی آگ کو ۔

    (18) روزہ باعث سفارش :

    " عن عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ ، یقول الصیام : ای رب ، منعتہ الطعام والشھوۃ فشفعنی فیہ ، ویقول القرآن : ای رب ، منعتہ النوم باللیل فشفعنی فیہ ۔ قال : فیشفعان " ( رواہ احمد والطبرانی وصححہ البانی ؒ )
    ترجمہ : ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے) سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘

    (19) روزہ کی کوئی برابری نہیں :

    ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بات بتائیں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالی ہمیں نفع پہنچائے تو آپ نے فرمایا:
    " علیک بالصیام فانہ لامثل لہ " (رواہ ابن حبان وصححہ البانی ؒ )
    ترجمہ : تم روزہ رکھو کیونکہ اس کے مثل کوئی چیز نہیں ۔

    (20) روزہ تقوی کا ذریعہ :

    اللہ تعالی کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورة البقرة)
    ”ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ“۔

    (21) جہنم سے دوری :

    بندہ جس قدر روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کے اورجہنم کے درمیان اسی قدر دوری بڑھاتاہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    (من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا)

    ( متفق علیہ)
    ترجمہ : جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔
    یہ ایک دن کا بدلہ ہے اور جب بندہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ، یا سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھے ، یا پھر ہرمہینے میں روزہ رکھے تو ان کا کیا حال ہوگا۔

    (22) رمضان میں عمرہ حج کے برابر:

    اس مہینہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عمرہ کا ثواب حج کے برابرہوتاہے۔
    ٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا:
    ’’فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِیْ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْہِ تَعْدِلُ حَجَّۃً‘‘۔(متفق عليه)

    ’’ترجمه : جب ماہِ رمضان آجائے تو تم اس میں عمرہ کرلینا کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابرہوتا ہے
    ٭ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ’’فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَقْضِیْ حَجَّۃً مَّعِیْ‘‘۔
    (البخاری:۱۸۶۳، مسلم:۱۲۵۶)

    ’’رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کی قضا ہے"
    یہ تھے چند فضائل ، رمضان اور روزہ سے متعلق ۔ اب مضمون کے دوسرے حصے روزہ کے جدید طبی مسائل کی طرف التفات کرتے ہیں ۔​
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 26، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,532
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207


    روزہ کے جدید طبی مسائل​

    (1) مسواک :​

    روزہ دارکے لئے رات ودن کے کسی حصے میں مسواک کرنا سنت ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :
    "السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب " (رواہ البخاری)
    ترجمہ : مسواک سے منہ صاف ہوتاہے اور اللہ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے ۔
    شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں کہ اگر مسواک کا مزہ اور اثر تھوک میں آجائے تو روزہ دارکو چاہئے کہ تھوک اور ذائقہ نہ نگلے ۔ (فتاوی الصیام )
    البتہ ٹوتھ برش اور پیسٹ کا استعمال کرتے وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پیسٹ قوی الاثر ہے یا غیر قوی الاثر ، کیونکہ بازار میں موجود پیسٹ دونوں طرح کی ہیں ۔
    ٭اگرپیسٹ قوی الاثر ہو یعنی اس کا اثرمعدہ تک پہنچتا ہوتو ایسی پیسٹ استعمال نہ کی جائے ۔
    ٭اور اگر پیسٹ کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ہوصرف حلق تک محدود رہتاہوتو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

    (2) قطرات کا استعمال (Drops) :​

    ضرروت کے تحت آنکھ ، ناک اور کان میں قطرات (Drops) ڈالنا کوئی حرج کی بات نہیں ، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ جو قطرات آنکھ ، ناک یا کان میں ڈالے جاتے ہیں ان کا اثر معدہ تک نہیں پہنچتا ،، اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ قطرات معدے میں حلول کرتے ہیں تو دوتین بوند کا اثر آنکھ سے بہ کر یا کان سے ٹپک کر یا پھر ناک سے پھیل کر معدہ تک کس مقدار میں جائے گا ؟ ۔ ظاہر سی بات ہے وہ معمولی سی مقدار ہوگی اور اس مقدار کا اثر روزہ کے لئے کسی طرح کے نقصان کا باعث نہیں ہے ۔ عرب کے مشائخ حضرات بھی اس کے جواز کافتوی دیتے ہیں تاہم احتیاطا اس عمل کو رات تک مؤخر کر لیا جائے تو اولی اور افضل ہے ۔

    (3) بے ہوشی (Anaesthisia):​

    کبھی کبھی انسان پر بے ہوشی کے حالات طاری ہوتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلا کسی حادثے میں شکار ہوکر بے ہوش ہوجائے یا علاج کی غرض سے بے ہوش کیا جائے ۔ اس سے متعلق احکام مندرجہ ذیل ہیں ۔
    ٭ناک میں گیس سونگھاکر یا چینی طریقے سے حساس مقام پر سوئی چبھوکر بعض حصے کو بے ہوش کرنا ناقض روزہ نہیں ہے ۔
    ٭ مریض کی رگ میں سریع العمل انجکشن لگاکر مخصوص مدت کے لئے عقل کو ماؤف کرنا بھی ناقض روزہ نہیں ہے ۔
    ٭ مریض نے بے ہوشی سے پہلے روزہ کی نیت کرلی اورپھر بے ہوش ہوا اورغروب شمس سے پہلے پہلے افاقہ ہوگیا تو اس کا روزہ صحیح ہے مگر غروب آفتاب کے بعد افاقہ ہونے پر روزہ نہیں درست ہوگا۔ اس لئے ایسے روزہ کے متعلق بہتری اسی میں ہے کہ اس کی قضا کرلی جائے ۔
    ٭ بے ہوشی اگر لمبی مدت مہینہ دو مہینہ والی ہو تو اسے جنون پر قیاس کیا جائے گا اور فرض روزے چھوٹ جانے پر اس کی قضا کا مکلف نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ اللہ تعالی انسان کو اس کی طاقت سے باہر کا مکلف نہیں بنایا ہے ۔

    (4) پچھنا، نشتر اور نکسیر کا حکم :​

    پچھنا کے سلسلہ میں دوطرح کی احادیث وارد ہیں بعض روایات میں ذکر ہے کہ پچھنا لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےجبکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بحالت روزہ پچھنا لگوایا(صحیح بخاری) اور دوسروں کے لئے سینگی لگانے کی رخصت بھی دی ۔ (طبرانی ، دارقطنی)
    بعض علماء نے روزہ ٹوٹنے والی روایات کو منسوخ مانا ہے اور آپ ﷺکے عمل یا امت کو رخصت دینے والی روایات کو ناسخ مانا ہے ۔ اس لئے روزہ کی حالت میں حجامت کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔ البتہ اکثر وبیشتر اہل علم کی نظر میں سینگی ناقض روزہ ہے لہذا اختلاف سے بچنے کے لئے میں یہ مشورہ دونگا کہ اس عمل کو رات تک مؤخر کرلے ۔

    (5) جسم کے اندرونی حصے میں آلات یا پائپ داخل کرنا:​

    مریض کو علاج کی غرض سے کبھی معدے میں یا ضرورتا کبھی مقعد میں یا صنف نازک کے اگلے اور پچھلے راستے میں آلات یا پائپ وغیرہ داخل کئے جاتے ہیں تاکہ اندرونی حصے کا چیک اپ کیا جائے ۔ اس کی مختلف شکلیں اور طریقے ہیں ۔
    ان حالات میں غورطلب امر یہ ہے کہ اگر اوزاریا آلات کے استعمال میں غذائی مواد ہو توروزہ فاسد شمار ہوگا، اور یونہی بغرض معائنہ یا علاج کی خاطر غیرغذائی موادکا استعمال ہوتو روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ دراصل یہ عمل انجکشن کے مشابہ ہے اور اسی طرح کے احکام بھی لاگو ہونگے ۔

    (6) ٹیکہ لگانا (Injection) :​

    ٭ٹیکہ چاہے جلد میں لگے ، چاہے گوشت میں لگے یا پھر نص میں لگے ۔ اگر ان ٹیکوں میں غذائی مواد نہیں تو روزہ درست ہےوگرنہ روزہ فاسد ہوگا ۔
    ٭شوگر کے مریض کا ٹیکہ لگانا بھی جواز کے قبیل سے ہے ۔
    ٭ شریان میں مستقل لگی رہنے والی سوئیوں کا بھی یہی حکم ہے ۔

    (7) گردوں کی صفائی (Dialysis):​

    گردوں کے مریض کو ڈائیلوسس کیا جاتاہے اور اس کے مختلف طریقے ہیں مگر جتنے بھی طریقے رائج ہیں ان میں غذائی ادویہ کا استعمال ہوتا ہے اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے ڈائیلوسس کا عمل ناقض روزہ ہے ۔ اگر بغیر غذائی ادویہ کے علاج ممکن ہو تو پھر روزہ درست ہوگا ۔

    (8) خون کا عطیہ (Blood Donation) :​

    ضرورت پڑنے پر روزہ دار اپنا خون چیک اپ کراسکتا ہے اور کسی دوسرے مریض کو اپنا خون نکال کر عطیہ بھی کرسکتا ہے ۔ یہ عمل روزہ پر اثر انداز نہیں ہوتا ،یہی شیخ ابن باز ؒ کی بھی رائے ہے ۔ (مجموعہ فتاوی ابن بازؒ 15/274)

    (9) ٹکیوں کا استعمال (Tablets) :​

    دل کی بعض بیماریوں کے لئے اطباء ٹکیوں کا نسخہ دیتے ہیں ، یہ ٹکیاں زبان کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور فورا منہ میں تحلیل ہوجاتی ہیں ، ایسا کرنے سے مریض کو راحت محسوس ہوتی ہے ۔
    چونکہ یہ ٹکیاں منہ ہی تک محدودرہتی ہیں ان کا اثر اندر نفوذ نہیں کرتا ، اس لئے ان ٹکیوں کا استعمال بھی بحالت روزہ جائز ہے ۔

    (10) جلد پرمادے کا استعمال :​

    علاج کی غرض سے ہو یا شوق کے طورپر ،،،،،، جلد پر کسی بھی قسم کا تیل ، مرہم اور کریم کا استعمال کرسکتے ہیں ۔
    "جلدپرملی جانے والی کوئی بھی چیز مسام کے ذریعہ جلد کے نیچے خونی مواد میں جذب ہوجاتی ہے لیکن جذب ہونے کا یہ عمل بہت سست ہے ۔ لہذا جلد پرملی جانے والی بھی چیز ناقض روزہ نہیں " (مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ ؒ 25/ 267)

    (11) دانتوں کی صفائی :​

    روزہ کی حالت میں دانتوں کی صفائی (Scaning) یا دانت نکلوانایا دانتوں کی اصلاح کرنا سارے امور جائز ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عمل کو رات کے لئے مؤخر کردیں یا دن میں ایسا عمل انجام دینے کی صورت میں دانتوں سے بہنے والا خون حلق سے نیچے نہ اتارے ۔ دانتوں کی صفائی میں استعمال ہونے والے ٹیکے بھی روزے کے لئے نقصان دہ نہیں ۔

    (12) زخموں کا علاج :​

    جسم کے کسی حصے میں زخم ہو، روزہ دار ان زخموں کا علاج کراسکتا ہےکیونکہ یہ عمل نہ تو کھانے پینے پر قیاس کیا جائے گا اور نہ ہی عرف میں اسے کھاناپینا کہتے ہیں ۔

    (13) اسپرے کا حکم :​

    دمہ کے مریضوں کے لئے اسپرے (بخاخ) کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ ان کی سخت ترین مجبوری ہے ، اور اسلام میں قاعدہ ہے کہ آدمی جس چیز کا مضطر ہوتا ہے اس کے لئے اس چیز کا استعمال جائز ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :​
    "وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ) "الأنعام:119(
    ترجمہ : اورجو چیزیں اس نے تمہارے لئےحرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ.
    لہذا دمہ کا مریض روزہ رکھتے ہوئے اسپرے کا استعمال کرے گااور اس کا روزہ درست ہوگا۔ اور اسے رکھے گئے روزہ کی قضا نہیں کرنی پڑے گی ۔
    اللہ تعالی نے دین اسلام کو اپنے بندوں کی خاطر آسان بنا دیا ہے ، حسب سہولت یعنی بقدر استطاعت دین پر عمل پیرا ہونا ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ جہاں اللہ تعالی نے مسافروں ، مریضوں اور معذوروں کو رخصت دی ہے وہاں رخصت پر عمل کرنا ہی افضل ہے اور رخصت پر عمل کرتے ہوئے دل میں ذرہ برابر بھی تنگی کا احساس نہ پیدا ہونے پائے جیسا کہ بعض مخصوص طبقوں میں یہ دیکھا جاتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے دعاہے رمضان المبارک کے فیوض وبرکات سے ہمارا دامن بھردے اورسابقہ تمام گناہوں سے پاک کردے اور ہرکوشش کرنے والوں کوشب قدرکی فضیلت عطا فرئے ۔ آمین​
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 26، 2014 #4
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 06، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ !
    اس حدیث کی شرح میں جو اختلاف ہے راجح قول کے ساتھ بتا دیں.
    جزاک اللہ خیر
     
  6. ‏جون 10، 2016 #6
    عنایت اللہ طاہر طور

    عنایت اللہ طاہر طور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جزاكم الله خيرا

    Sent from my A0001 using Tapatalk
     
  7. ‏جون 12، 2016 #7
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,301
    موصول شکریہ جات:
    363
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    حدیث : اللہ کے راستے میں ایک روزہ رکھنے کا ثواب۔۔۔ کی شرح
    صحیحین کی روایت ہےنبی ﷺ کا فرمان ہے : من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا( صحيح البخاري:2840 و صحيح مسلم : 1153)
    ترجمہ : جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔

    اس حدیث میں چند مسائل ہیں۔
    (1) صوم سے مراد : اس صوم سے مراد نفلی روزہ ہے ۔

    (2)فی سبیل اللہ سے مراد:
    سبیل اللہ سے کیا مراد ہے ؟ اس سے متعلق علماء میں دو رائیں ہیں ۔ پہلی رائے جہاد ہے اس کے قائلین میں شیخ ابن عثیمینؒ بھی ہیں۔ دوسری رائے اللہ کی خوشنودی ہے اس کے قائلین میں شیخ ابن بازؒ ہیں۔
    ویسے سبیل اللہ کا عام طور سے اطلاق جہاد پر ہی ہوتا ہے ساتھ ہی بسااوقات طاعت کے کاموں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں عام معنی یعنی اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے طور پر مراد لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر اخلاص کے ساتھ روزہ رکھنا معنی ہوگا۔

    (3) لفظ بعد بخاری کا لفظ ہے ، مسلم میں باعد کا لفظ ہے ۔ اس کا معنی ہے دور کرنے کے یعنی جہنم سے دور کرنا ۔

    (4) سبعین خریف : خریف سے مراد سال ہے ، اس طرح اس کا معنی ہوگا ستر سال ۔

    (5) الفاظ کا اختلاف: اس روایت میں سبعین خریف کا لفط ہے جبکہ اس کے برخلاف دوسری صحیح روایات میں سوسال اور اس سے زیادہ بھی آیا ہے ۔
    سوسال والی روایت :
    من صامَ يومًا في سبيلِ اللَّهِ عزَّ وجلَّ باعدَ اللَّهُ منهُ جَهَنَّمَ مَسيرةَ مائةِ عامٍ(صحيح النسائي:2253)
    ترجمہ : جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اسے جہنم سے سوسال کی مسافت کے قریب دور کردیتا ہے ۔
    ٭شیخ البانی نے اسے صحیح النسائی میں حسن قرار دیا ہے ۔
    پانچ سو سال والی روایت :
    من صامَ يومًا في سبيلِ اللَّهِ جعلَ اللَّهُ بينَهُ وبينَ النَّارِ خَندقًا كما بينَ السَّماءِ والأرضِ(صحيح الترمذي:1624)
    ترجمہ : جو آدمی اللہ کے راستے میں ایک دن روزہ سے رہے، اس کے لیے اللہ رب العزت اس کے اور جہنم کے درمیان خندق یعنی گڑھا کھود دیتا ہے، جس کی چوڑائی آسمان وزمین کے برابر ہوتی ہے۔
    ٭ شیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں حسن صحیح قرار دیا ہے ۔
    ٭ یہاں پانچ سو سال کا معنی اس طرح بنتا ہے کہ زمیں سے لیکر آسمان تک کی دوری پانچ سو سال ہے ۔
    ان مختلف مسافت کا علماء نے کئی ایک جواب دیا ہے۔
    پہلا جواب : سبعین سے مراد کثرت ہے یعنی اللہ تعالی بندے کو جہنم سے بہت دور کردے گا ۔ یہ واضح رہے کہ عرب میں سبعین کا استعمال مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔
    دوسرا جواب : روزے کی مشقت وشدت کے اعتبار سے درجے کا فرق ہے ۔
    تیسرا جواب : ستر کا سو یا پانچ سو سےکوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ آسمان کی اکثر مسافت پانچ سو ہے جبکہ اقل سترسال ۔اس طرح ستر اور سو پانچ سو میں داخل ہوگا۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
  8. ‏جون 12، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاک اللہ خیر.
    اللہ آپکے علم میں اضافہ عطا فرماۓ.
    آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں