• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ریاض العلوم شنکرپور : ایک تعارف

شمولیت
فروری 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
36
محمد صادق جمیل تیمی

جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکر پور بہار کی ایک علمی ،تعلیمی و تربیتی اور ثقافتی ممتاز دانشگاہ ہے جہاں روضہ اطفال سے فضیلت تک کی جدید سہولیات و تقاضوں کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے -یہاں کے پر کیف و سدا بہار دلکش مناظر ہر آنے والے کی نگاہوں کو خیرہ کر دیتے ہیں - اس ادارہ کی داغ بیل سرزمین بہار کے مردم خیز علاقہ ٹاپو کی ایک چھوٹی سی بستی شنکر پور کا ایک جواں دل و علم دوست جیالہ اختر عالم سلفی رحمہ اللہ علیہ نے رکھی -سلفی صاحب اپنے علاقے میں سیکرٹری صاحب اور عوامی حلقوں میں حاجی اختر کے نام سے مشہور تھے- قبل اس کے کہ ادارہ کی تاسیس و تعمیر ،اس کی تعلیمی صورتحال اور ترقی کے مراحل قلم بند کیا جائے ،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ کی حالت،جغرافیائی کیفیت کو چند سطور میں بیان کر دی جائے -
شنکر پور کا محل وقوع : شنکرپور سرحد نیپال سے متصل " علاقہ ٹاپو" کی ایک مشہور و معروف بستی ہے ،نیپال سے مغرب ،مدھوبنی سے شمال ،ارریہ سے جنوب مشرقی اور پورنیہ سے شمال مشرق کی جانب واقع ہے -
علاقہ کی تعلیمی و اقتصادی صورتحال : ریاست بہار کے ضلع سپول کا یہ علاقہ "ٹاپو " کے نام سے جانا جاتا ہے ،آج سے تقریباً تیس سال قبل تعلیم و تعلم میں پسماندہ ،اقتصادیات میں پیچھے ،قوت و طاقت کے اعتبار سے کمزور الغرض دینی و سماجی ،معاشی و معاشرتی ہر لحاظ سے ادبار و پسماندگی کا شکار تھا اس جانب مسیحا شیر شاہ آبادی مرحوم مبارک ایم ایل اے کٹیہار نے اپنے سرکردہ و قوم کے تئیں حساس دوستوں کے ساتھ توجہ دلائی -چو ں کہ یہ شیر شاہ بادی تھے اور سپول کے اس علاقہ میں شیر شاہ آبادیوں کی ایک بڑی تعداد ہے- اس کے بعد دینی ادارے ،مدارس و معاہد کی بنیاد رکھی گئی ،لوگوں کے اندر تعلیمی بیدار ی قائم ہوئی ،لوگ اپنے علاقے سے باہر کی دنیا میں علم کی تلاش و جستجو میں نکلے اور پڑھ لکھ کر اپنی قوم کی پسماندگی و پچھڑے پن کو دور کیا -بلکہ یوں کہیے کہ لوگ تعلیمی و اقتصادی کی سنگلاخ وادی سے نکل کر گلستان دین و تعلیم اور چمن زار اقتصادی خوشحالی میں قدم رنجہ ہونے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی اور آج اللہ کے فضل سے بڑی خوش حالی و فارغ البالی کے ساتھ اپنی مستعار حیات کو پورے جوش و جذبے اور علمی طمطراق کے ساتھ بسر کررہے ہیں-
لوگوں کے اندر ایک علمی جوت جگانے ،تعلیمی و اقتصادی اعتبار سے انہیں ایک قدم آگے بڑھانے میں جن قابل قدر مخلصین کا نام آتاہے ان میں ایک اہم نام اختر عالم سلفی کا ہے جنہوں نے قوم کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار نبھایا اور نسل نو کے تابناک مستقبل کے لئے جہاں کئی رفاہی تنظیمیں قائم کیں وہیں پر ایک تعلیمی سوسائٹی کے تحت کئی شعبہ جات کی بھی تاسیس عمل میں لائی جن کو اختصار کے ساتھ ذیل کی سطور میں پیش کی رہی ہیں :
جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم : اس میں ابتدائیہ سے درجہ فضیلت تک کی تعلیم دی جاتی ہے اس میں تقریبا ہر سال 450 بچے ہاسٹل میں رہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہر سال اوسط کے مطابق 26 بچے علم کے زیوار سے آراستہ ہوکر اپنی مروجہ تعلیم مکمل کرکے قریہ قریہ محلہ محلہ دعوت و تبلیغ کے ساتھ خدمت خلق کا کام انجام دیتے ہیں اور ملک و بیرون ملک میں اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے کام بھی کرتے ہیں - اس کی بنیاد علاقے کے مشہور و معروف عالم دین ،خطیب بے باک اور آپ کے چچا داؤود اصلاحی (م 2010) کے دست مبارک سے 1987 میں عمل میں آئی -ان کے انتقال کے بعد 1994 میں اس کی پروش و پرداخت کی ذمہ داری آپ کے کاندھے میں آئی اور آپ نے پچیس سالوں تک اپنی مسلسل جد و جہد اور عمل پیہم سے اس کو اپنی منزل بحسن خوبی رواں دواں کیا - اس دوران آپ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے دائرہ کار کو وسیع سے وسیع تر کرنے کے لئے مختلف شعبہ جات کا قیام عمل میں لائے جن میں سے قابل ذکر شعبہ جات کے احوال پیش خدمت ہیں -

"فیصلیہ مبنی برحق ہے کہ 1987 سے قبل مکتب کی شکل میں مولانا مظفر حسین اصلاحی چلا رہے تھے جس کی داغ بیل مولانا داؤد اصلاحی رح نے گاؤں کے چند غیور وذی شعور علماء و عوام کولیکر ڈالی تھی,
1987 میں مدرسہ بورڈ سے منظوری ملی اور اس میں مندرجہ ذیل اساتذہ نامزد کئے گئے تھے:
مولانا مظفر حسین اصلاحی, مولانا عبد الحمید اصلاحی رح, مولانا ابوذر مظہری,مولانا محمد مصطفی سلفی اور کچھ علماء, اور سکریٹری کے عھدے پر فائز تھے مولانا داؤد اصلاحی رح,
1987 کےمعا بعد یہ مدرسہ شدید اختلاف کا شکار ہوگیا, اور لگ بھگ بند ہوچکا تھا,
اس وقت کے سلفی نوجوان عالم دین مولانا شمشیر عالم سلفی اپنی آہنی طاقت اور علمی صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے1990 کی دہائ میں دو بارہ تعلیم کا آغاز کیا جس کو نشاۃ ثانیہ کہا جا سکتا ہے اس وقت کے مشہور اساتذہ مولانا الیاس سلفی, ماسٹر امیر الہدی اور کئ لوگ تھے, غربت کی حالت میں بھی مدرسہ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور اس میں بڑی قربانی مولانا شمشیر عالم سلفی حفظہ اللہ کی تھی, 1993 جس کو نشاۃ ثالثہ کہا جاسکتا ہے, فضیلۃ الشیخ مولانا محمد اختر عالم سلفی جامعۃ الامام ریاض سے پڑہ کر آئے تو مولانا داؤد اصلاحی اس وقت سکریٹری تھے, انہوں نے جنرل میٹنگ طلب کرکے مولانا محمد اختر عالم سلفی کو باتفاق آراء سکریٹری کے لئے منتخب کرلیا, اور اپنے پاس ناظم تعلیمات کا عھدہ رہنے دیا, اس وقت شمشیر عالم سلفی صدر مدرس کے عھدے پر بحال تھے ,1994 میں نئے سکریٹری مولانا محمد اختر عالم سلفی نے پکی دیوار کے ساتھ ٹینا دیکر سب سے پہلا مکان کھڑا کیا اور مدرسہ ریاض العلوم سے جامعہ اسلامیہ ( ریاض العلوم) شنکر پور نام رکھا, اور دھیرے دھیرے پروان چڑھتا گیا,
اتنی تفصیل میں نے اس لئے درج کی تاکہ صحیح تاریخ سامنے آئے ....منصور عالم سلفی. استاد جامعہ ہذا)

فیصل ایجوکیشنل سوسائٹی : ایجوکیشنل سوسائٹی رفاہ عامہ ، خدمت خلق اور سماج میں بسے غریب و لاچار کی بے بسی و باز پرس اور انہیں امداد فراہم کرنے کے لئے شیخ اختر سلفی نے 1996 میں قائم کی اور اسے حکومت بہار و حکومت ہند سے باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کرایا اور اس کے زیر اہتمام قوم و ملت کے محسنین و مخلصین کے تعاون و مدد سے فقرا و مساکین کی حاجت روائی شروع کی ،اس کے تحت مساجد و مکاتب کی تعمیر ،ہینڈ پائپ کی تقسیم ،بیواؤں ،یتمیوں کے درمیان موسم گرما بالخصوص موسم سرما میں گرم کپڑے و راشن کی تقسیم و توزیع،اسی طرح غریب و مفلس افراد کی بیٹیوں کی شادی کرانے میں مالی تعاون فراہم کیا جانا ہے -اور اللہ کے فضل سے آج بھی پورے شد و مد کے ساتھ جاری و ساری ہے -اس نے اپنے یوم تاسیس ہی سے اپنے اغراض و مقاصد میں رواں دواں ہے اور اس کے تحت کئی مدارس و مکاتب کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے -
جامعۃ البنات الاسلامیۃ : مسلم لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اور انہیں عصری و دینی تعلیمات سے بہرور کرنے کے لئے اس شعبہ کا قیام عمل میں آیا ہے - اس میں روضہ اطفال سے فضیلت تک کی تعلیم دی جاتی ہے ،بنات کو فی الوقت سنئیر و جونئیر سمیت 25 اساتذہ اور 15 استانیاں کی سرکردگی حاصل ہے - اس میں تقریبا ہر سال 900 بچیاں ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں جن کی کفالت جامعہ کرتی ہے اور ہر سال 30 لڑکیاں فارغ ہوتی ہیں - اور اپنے اپنے علاقے میں جاکر بچیوں کی تعلیم و تربیت کا سامان بنتی ہیں - جدید عصری تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں سلائی و کڑھائی یا کشیدہ کاری جیسی اہم خانگی پیشہ ورانہ چیزوں کی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے اس کے لئے خصوصی طور پر معلمات کی بحالی ہوتی ہے اور وہ پابندی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی
انجام دیتی ہیں -
معہد عبد اللہ بن مسعود لتحفیظ القرآن : اس شعبہ میں قرآن سے جڑے اصول و ضوابط،ناظرہ قرآن اور تجوید و قرات سکھائی جاتی ہے - 9 محنتی و مخلص حفاظ و قرا ء اسے سنوارنے اور قوم کے نونہالان کی تعلیم کے لئے سرگرداں ہیں،ہر سال تقریبا 200 بچے کا داخلہ ہوتا ہے اور اوسطاً ہر سال بیس بچے حافظ بن کر فارغ ہوتے ہیں - ماشاء اللہ دوسرے ادارہ کے بالمقابل اپنی قرأت و تجوید میں اسے امتیازی حیثیت حاصل ہے - واضح رہے کہ یہی شعبہ بنات میں" معہد زینب لتحفیظ القرآن " کے نام سے ہے جس میں بچیوں کو قرات و ناظرہ قرآن تجوید وغیرہ سکھائی جاتی ہے جس میں دو معلمہ اور تین حفاظ بحال ہیں -

معہد الفیصل : قوم کے معصوم نونہالان کے لئے یہ ایک مستقل شعبہ ہے ،جس میں nursery سے لے کر درجہ 5th تک کی تعلیم دی جاتی ہے ،اسے فی الوقت آٹھ ماہر اساتذہ کی خدمات کا فخر حاصل ہے - یہ محض مقامی بچے کے لئے مختص ہے - آنے والے ایام میں اس میں مزید کلاسیز کا اضافہ کا ارادہ ہے -
شعبہ دعوت و ارشاد : یہ جامعہ کا ایک فعال و سرگرم شعبہ ہے اس کے تحت مختلف اضلاع و پچھڑے ہوئے علاقے کی مساجد میں جاکر ائمہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں- وقتا فوقتا اجلاس و کانفرنس انعقاد کرکے اس میں مایہ ناز علما و دعاۃ کو مدعو کیا جاتا ہے اور عوام و خواص ان سے مستفید ہوتے ہیں -
★ دار الافتاء : دار الافتا ء بھی جامعہ سے جڑا ہوا ایک خاص شعبہ ہے علاقہ میں درپیش مختلف مسائل و قضایا کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کی جاتی ہے جس کے لئے جامعہ نے مشہور و معروف عالم دین و خطیب مولانا منصور عالم سلفی کو مقرر کر رکھا ہے اور ماشاء اللہ شیخ درس و تدریس کے ساتھ پورے کامیابی سے افتا کا بھی کام انجام دے رہے ہیں -
دار الایتام : اس کے تحت باپ کے سایے سے محروم یتیم بچے و بچیوں کی مکمل کفالت کی جاتی ہے ,کپڑے لتے ،کھانااور ان کے لئے رہائش تک کا انتظام و انصرام کیا جاتا ہے - اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری و ساری ہے -
مولانا اختر عالم سلفی سینرل لائبریری : کسی بھی معیاری و علمی ادارہ کی آن بان ،شان لائبریری ہوتی ہے جس سے علوم و فنون کے متلاشی اپنی علمی تشنگی بجھا سکے - چنانچہ انہیں اہمیت کے پیش نظر شیخ اختر سلفی نے ایک سینٹرل لائبریری کی بنیاد رکھی - جس میں فی تمام علوم وفنون کی تقریباً 100000کتابیں ہیں خصوصا مراجع و مصادر کی کتابیں کثیر تعداد میں موجود ہیں - اور ہر سال کم از کم ہر فن کی کچھ جدید کتابیں منگوانی کا سلسلہ جاری و ساری ہے -
تدریب المعلمین : یہ جامعہ کا نیا شعبہ ہے اس شعبہ کو 2018 میں جواں سال و علم دوست چیئرمین جامعہ فیروز عالم ندوی نے دعاۃ و معلمین کی تدریب کے لئے آغاز کیا ،اس میں فی الوقت حدیث ،تفسیر ،فقہ ، عقیدہ ،ادب اور کمپیوٹر جیسے اہم مادے کی پڑھائی ہوتی ہے اور اس میں پڑھنے والے طلبہ کو تدریسی میدان میں قدم رنجہ ہونے کے لئے چار چار گھنٹی جامعہ کے مرحلہ ابتدائیہ و متوسطہ میں دی گئی ہیں - پوری کامیابی و پرزور انداز میں یہ شعبہ اپنی مشن میں رواں دواں ہے -

شعبہ کمپیوٹر : دور حاضر میں الکٹرانک کی ترقی نے ہر شخص کے لئے کمپیوٹر کی تعلیم کو لازم قرار دیا ہے اسی کے تحت بچے و بچیوں کے لئے شعبہ کمپیوٹر کو شروع کیا گیا ہے - اس میں فی الوقت کثیر تعداد میں بچے اور بچیوں شریک ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی نیک فال کی امیدیں وابستہ ہیں - روزانہ عصر کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کو ایک گھنٹہ سکھائی جاتی ہے -

قصہ مختصر یہ ہے کہ جامعہ کے تمام شعبہ ہائے پورے شد و مد کے ساتھ تعلیمی و ثقافتی مراحل کو طئے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں - مستقبل قریب میں بھی ترقی کی شعائیں پورے طور پر نمایاں ہیں ،امت مسلمہ عموماً " علاقہ ٹاپو " خصوصاً اور اس کے مضافات کبھی بھی ان کے کارہائے نمایاں کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں -
 
Top