• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زندگی کے لمحات کو غنیمت سمجھیے!! (خطبہ جمعہ)

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
زندگی کے لمحات کو غنیمت سمجھیے!!...... 13 ربیع الاول 1434

خطبہ جمعہ حرم مدنی
خطیب: عبدالرحمٰن الحذیفی
پہلا خطبہ:
الحمد لله الذي خلق كلَّ شيءٍ فقدَّرَه تقديرًا، يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ [الزمر: 5]، أحمد ربي وأشكره، وأتوبُ إليه وأستغفِرُه، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له الواحدُ القهَّار، وأشهد أن نبيَّنا وسيدَنا محمدًا عبدُه ورسولُه المُصطفى المُختار، اللهم صلِّ وسلِّم وبارِك على عبدك ورسولِك محمدٍ، وعلى آله وصحبِه المُتقين الأبرار.
أما بعد!
اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، جو شخص اللہ سے ڈرگیااللہ تعالیٰ نے اسے برائیوں اور ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچا لیا، اسے ہر طرح کی رسوائی سے عافیت دےدی اور ایسا شخص روز قیامت اللہ کی رضاکر لے گا اور جنتوں کا مہمان بن جائے گا۔
اللہ کے بندو!
تمہارے رب نے اس دنیا کو دار العمل بنایا اس میں ہر چیز ایک خاص مدت تک ہے۔ اور آخرت کو دار الجزاء بنایا۔ اس دنیا میں جس کے اعمال اچھے ہونگے اس کا بدلہ بھی اچھا ہوگا اور جس کے اعمال برے ہوں گے اس کی سزا بھی بُری ہوگی۔ارشاد باری تعالی ہے:
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى [النجم: 31]
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے (جس کا تقاضا یہ ہے) کہ وہ برائی کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے اچھے عمل کئے انہیں اچھا بدلہ دے۔
ایک مقام پر فرمایا: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا [الكهف: 7]
جو کچھ زمین پر موجود ہے اسے ہم نے اس کی زینت بنا دیا ہے تاکہ ہم انھیں آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کو انسانوں کے تابع بنا کر ان کی مدد بھی کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً [لقمان: 20]
کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ نے تمہارے لئے کام پر لگا دیا ہے اور اس نے اپنی تمام ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر پوری کردی ہیں۔
ایک مقام پر فرمایا: اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (12) وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [الجاثية: 12، 13]
اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے تابع کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں۔ اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو [12] اور جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سب کچھ ہی اس نے تمہارے لئے کام پر لگا رکھا ہے۔ غوروفکر کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
مزید فرمایا:
وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ (32) وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (33) وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ [إبراهيم: 32- 34]
اور دریاؤں کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا[32] اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا جو لگاتار چل رہے ہیں اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام پر لگا دیا[33]اور جو کچھ بھی تم نے اللہ سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔ اور اگر اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے۔ انسان تو ہے ہی بے انصاف اور ناشکرا ۔
اگر انسان غور و فکر کرےتو اللہ کی نعمتیں جان لےاور انسان عطا کردہ خوبیوں کا ادراک کر لے، جو نیکیوں کے کرنے اور برائیوں سے دور رہنے کی طاقت اللہ نے دی ہے اس کو سمجھ لے، اس کے ذہن میں یہ بھی آجائے کہ آخرت کی زندگی نہ ختم ہونے والی ہے۔ یا وہ دائمی نعمتوں کی شکل میں ہوگی یا پھر سخت ترین عذاب کی شکل میں۔ تو یقینا انسان اپنے وقت کی حفاظت کرے، اس کا پوراخیال رکھے، اپنی پوری زندگی کو اعمال صالحہ سے معمور کر لے اور شریعت اسلامیہ کے مطابق بنالےاور اس کی یہ دنیاوی زندگی اپنے اور دوسروں کیلئے بہتری کا باعث ہو اور اس کا انجام بھی اچھا ہو۔
بے شبہ ایسی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں جس کا کنٹرول دین قیم کے پاس نہ ہو، ایسی زندگی بالکل بے فائدہ ہے جس کی نگرانی اسلام کے ہاتھ میں نہ ہو،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا (18) وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا (19) كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا [الإسراء: 18- 20]
جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں، دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کردی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہوگا[18] اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے اور مومن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی[19] ہم ہر طرح کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں خواہ یہ ہوں یا وہ ہوں اور یہ بات آپ کے پروردگار کا عطیہ ہے اور آپ کے پروردگار کا یہ عطیہ (کسی پر) بند نہیں۔
مزید فرمایا:
فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ [التوبة: 55]
ان لوگوں کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ انہیں دنیا کی زندگی میں سزا دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت یہ کافر ہی ہوں۔
اورفرمایا:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ [الأعراف: 32]
آپ ان سے پوچھئے کہ ''اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو زینت اور کھانے کی پاکیزہ چیزیں پیدا کی ہیں انہیں کس نے حرام کردیا؟''آپ کہیے کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ایمان لائے اور قیامت کے دن تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔
کیا ابھی بھی تمھیں اس میں شک ہے کہ دنیا کی زندگی ختم ہونے والی ہے؟ ابھی بھی اس غفلت میں ہو تو سابقہ قوموں سے عبرت حاصل کرو، عقلمندوں کیلئے اس میں عبرت کا بہت سا سامان ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ فرما دیا ہے: بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى [الأعلى: 16، 17]
بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو[16]حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
تو اب ہمیشہ کی زندگی کیلئے عمل کرو، نہ ختم ہونیوالی نعمتوں کو پانے کیلئے محنت کرو، تا کہ انتہائی گہری کھائی اور دہکتی آگ سے بچ جاؤ،جہاں کھانے کو کانٹوں والا تھوہر، پینے کو کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (19) يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ (20) وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ (21) كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ [الحج: 19- 22]
جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا[19] جس سے ان کی کھالیں گل جائیں گی اور وہ کچھ بھی جو ان کے بطنوں میں ہے[20]نیز ان کے لئے لوہے کے ہنٹر ہوں گے[21]جب بھی وہ رنج کے مارے دوزخ سے نکلناچاہیں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا کہ) چکھو اب جلانے والے عذاب کا مزا۔
انس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«يُؤتَى بأنعَم أهل الدنيا من أهل النار فيُصبَغُ في النار صبغَةً، ثم يُقال له: يا ابنَ آدم! هل رأيتَ خيرًا قط؟ هل مرَّ بك من نعيمٍ قط؟ فيقول: لا والله يا ربِّ، ما رأيتُ نعيمًا قط، ويُؤتَى بأشدِّ الناس بُؤسًا من أهل الجنة، فيُصبَغُ صبغةً في الجنة، فيُقال له: يا ابنَ آدم! هل رأيتَ بُؤسًا قط؟ هل مرَّ بك من شدَّةٍ قط؟ فيقول: لا والله يا ربِّ، ما مرَّ بي بُؤسٌ قط، ولا رأيتُ شدَّةً قط»
’’
قیامت کے دن دنیا کے امیر ترین آسائشوں میں پلنے والے جہنمی انسان کو لایا جائے گا اور اس کو جہنم میں صرف ایک بار غوطہ دے کر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم!کیا تو نے کبھی سکھ اور چین دیکھا بھی تھا؟ کیا تمھیں کبھی کوئی نعمت بھی نصیب ہوئی تھی؟ تو جواب میں وہ کہے گا: نہیں اللہ کی قسم!میں نے تو کبھی بھی کوئی نعمت دیکھی ہی نہیں تھی۔ اسی طرح ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس کی زندگی تنگی اور تکلیف ہی میں گزری تھی اس کو جنت کا ایک غوطہ لگوا کر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا کبھی کوئی تنگی دیکھی تھی؟ کوئی تکلیف تمہیں کبھی پہنچی ہو؟ تو وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ کبھی تنگی دیکھی اور نہ ہی مجھے کبھی کوئی تکلیف پہنچی۔[صحیح مسلم]
اللہ کے بندو!
اللہ کے ہاں موجود اجر و ثواب اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا اور سن لو ! اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے اور اللہ کا سودا جنت ہی ہے۔
مکلف کی پوری زندگی ہی تجارت ہے اگر اس وقت کو نیک کاموں میں صرف کیا تو نفع حاصل کرلے گا اور اگر نفسانی خواہشات اور حرام کاموں میں ضائع کرے گا تو خسارہ اس کا مقدر ہو گا۔ تمام لوگوں میں اچھی زندگی اور نفع بخش حیات کا وہ حق دار ہے جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے، کیونکہ آپ ﷺ کا طریقہ کامل ترین ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ اپنے ہر خطبہ میں فرمایا کرتے:
«إن أحسنَ الحديث كتابُ الله، وخيرَ الهديِ هديُ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وكلُّ بِدعةٍ ضلالةٌ»
تو جو بھی اپنی زندگی میں نبی کریمﷺ کے طریقے کو اپنائے گاوہ یقیناً تمام قسم کی خیر و برکات حاصل کر لے گا اور نعمتوں والی جنتوں کو پا لے گا اور جتنا آپﷺکے طریقہ سے دور ہوگا اتنی ہی مقدار میں وہ خیر و برکات سے محروم رہے گا۔ حتیٰ کہ جو مکمل طور پر آپﷺ کے طریقہ کو چھوڑے گا وہ مکمل طور پر خیر و برکات سے محروم رہے گا۔
اس لئے بعض صحابہ کہا کرتے:
’’ہم اپنے بچوں کو سیرت النبی ﷺ ایسے سکھایا کرتے تھے جیسے ہم انھیں قرآن سکھاتے۔‘‘
اُن کا مقصد فقط یہ تھا کہ یہ بچے نبی کریمﷺ کی سیرت کو اپنائیں۔ اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے۔ اسی لئے تو لوگوں کو دین پہنچانے کیلئے بہترین امت قرار پائے۔
اگر آج ہر مسلمان اپنا موازنہ نبی کریمﷺ کی سنت کے ساتھ کر ے کہ وہ آپﷺ کی سنت کےمطابق اپنی عبادات، تجارت، لین دین اور تمام معاملات میں کس حد تک قائم ہے تو اسے اپنے اعمال میں کمی ضرور نظر آئے گی پھر وہ اس کمی کو اللہ کی مدد سے پورا کرنے کی کوشش کرے گا جس کے نتیجے میں وہ صراطِ مستقیم پر بھی گامزن ہو جائے گا۔
ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے اوقات غفلت میں نہیں گزارنا چاہئیں۔ ا س کو چاہیے کہ وہ علمِ نافع اور عمل صالح کے قریب تر ہونے کی کوشش کرے اور بے فائدہ چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہ کرے، خاص طور پر نوجوان طبقہ جنہیں پورے معاشرے میں دین، اخلاقی اقدار اور ذمہ داریوں کے تحفظ کی شدید ترین ضرورت ہے، اسی کی بنیاد پر انکا مستقبل محفوظ اور تابناک ہوگا۔
یہ بات حتمی ہے کہ انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل گذشتہ مرحلے سے متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے تمام مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوان طبقہ کیلئے خطرناک چیزوں میں سے ایک انٹرنیٹ پر ضرر رساں ویب سائٹس ہیں جن سے اسلامی اقدار تباہ ہو جاتی ہیں، مزید برآں لادینیت پر مشتمل کتب کا مطالعہ کیا جا رہا ہے، برے لوگوں کی دوستی اپنائی جا رہی ہے اور حیا باختہ سلسلہ وار ٹی وی ڈراموں کو دیکھا جا رہاہے جن میں گندے معاشرے کو روشن خیالی کے نام پر مسلم معاشرے میں ترویج دی جا رہی ہے۔
انھی بری عادات میں ایک یہ بھی ہے کہ رات کو دیر تک جاگتے رہنا اور دن میں دیر تک سوئے رہنا۔ یہ عادت انسانی مزاج کو تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے اور جس نے بھی اس عادت کو اپنایا وہ کچھ نہیں کر پاتا۔ پڑھائی میں کمزور ہو جاتا ہے، کتنے ہی نوجوان ہیں جو اس عادت کی وجہ سے اپنی پڑھائی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ہی نہیں اس عادت سے نفسیاتی اور جسمانی امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ ان کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اسی وجہ سے وہ کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتے، اپنے فرائض کی ادائیگی میں سست نظر آتے ہیں اور شیاطین کا ایسے لوگوں پر تسلط مضبوط ہو جاتا ہے، کیونکہ رات کے وقت شیطان کا زور انسان پر دن سے زیادہ چلتا ہے، رات کی بجائے صرف دن کے وقت سونے کی عادت ڈالنا زندگی ضائع کرنے والی بات ہے۔ اور کبھی تو راتوں کو جاگنا نشہ آور اشیاء کے استعمال پر بھی ابھارتا ہے اور نمازیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔
نوجوانوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں، اور ان تمام مسائل کی دوا رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ والدین، اساتذہ اور دانشمند طبقے کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں اور خاص طور پر بچوں کیلئے اچھا نمونہ پیش بنیں، کیونکہ بچے خود تو نیک لوگوں کی سوانح پڑھ نہیں سکتے اس لیے وہ ہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
آپس میں اصلاحی ماحول پیدا کرنے کے بارے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بھی ترغیب دلائی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’آپس میں محبت اور انس و پیار میں مؤمنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، اگر ایک عضو میں تکلیف ہو تو اسکی وجہ سے سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (18) وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (19) لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ[الحشر: 18- 20]
اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کےلئے کیا سامان کیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ یقینا اس سے پوری طرح باخبر ہے[18] اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول [٢٥] گئے تو اللہ نے انہیں ایسا بھلایا کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول گئے، یہی لوگ فاسق ہیں[19] اہل دوزخ اور اہل جنت کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اہل جنت ہی (اصل میں) کامیاب ہیں۔
بارك الله لي ولكم في القرآن العظيم، ونفعني وإياكم بما فيه من الآيات والذكر الحكيم، ونفعَنا بهدي سيِّد المُرسَلين وقولِه القَوِيم، أقول قولي هذا وأستغفرُ الله لي ولكم وللمسلمين.
دوسرا خطبہ:
الحمد لله العليِّ العظيم، يهدِي من يشاءُ إلى صراطٍ مُستقيم، لربِّنا النعمةُ والفضلُ وله الثَّناءُ الحسن، يغفرُ لمن يشاءُ ويتوبُ على من يشاءُ، وهو الغفورُ الرحيم، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له العزيز الحكيم، وأشهد أن نبيَّنا وسيدَنا محمدًا عبدُه ورسولُه المبعوثُ رحمةً للعالمين، اللهم صلِّ وسلِّم وبارِك على عبدك ورسولِك محمدٍ، وعلى آله وصحبِه المتقين.
امابعد!
اللہ سے ہر حال میں ڈرتے رہو، تقویٰ تمھارے اعمال کی اصلاح کرے گا اور تمھاری دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہوگا۔
اے مسلمانو!
اللہ کی ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کو یاد کرو اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے حسب استطاعت فرائض اور مستحبات کی ادائیگی کرو۔ کیونکہ اللہ کا شکر اسکی اطاعت کرنے اور نافرمانی ترک کرنے سے ادا ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے بتا دیا ہے کہ اس امت کیلئے خیر و عافیت پہلے حصے میں ہوگی اور آخر میں آنےوالوں کو برائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اللہ نے اس امت کے پہلے حصے میں خیر و عافیت اس لئے رکھی تھی کہ انہوں نے عقیدہ اور سنت کو مضبوطی سے تھاما، اور آخری حصہ کو بُرے کاموں کا سامنا اپنے کیے ہوئے اعمال کی بنا پر کرنا پڑا۔
رسو ل اللہ ﷺ نے ہمیں نجات کا راستہ بھی بتا دیا ہے، فرمایا:
’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگر تم پر کسی غلام کو بھی حاکم بنا دیا جائے تو اسکی اطاعت کرنا، اور جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہٍذا تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو انتہائی مضبوطی اور طاقت سے تھامے رکھنا ، اور اپنے آپ کو دین میں نئے کاموں سے بچانا؛ اس لئے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘[جامع ترمذی]
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [الأحزاب: 56]؛ فقد أمرَكم الله بذلك؛ ففي قوله - عز وجل - في هذه الآية: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ، في ذلك من الأجر العظيم ما لا يقدُرُ قدرَه إلا الله - عز وجل -، وقد قال - صلى الله عليه وسلم -: «من صلَّى عليَّ صلاةً واحدةً صلَّى الله عليه بها عشرًا».
فصلُّوا وسلِّموا على سيدِ الأولين والآخرين، اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيدٌ، وسلِّم تسليمًا كثيرًا.
اللهم صلِّ على نبيِّنا محمدٍ وعلى آله وأزواجه وذريَّته، اللهم وارضَ عن الصحابة أجمعين، وعن التابعين ومن تبِعَهم بإحسانٍ إلى يوم الدين، اللهم وارضَ عن الخلفاء الراشدين الأئمة المهديين: أبي بكرٍ، وعمر، وعثمان، وعليٍّ، وعن سائر الصَّحابةِ أجمعين، اللهم وارضَ عنَّا معهم بمنِّك وكرمِك ورحمتك يا أرحم الراحمين.
اللهم أعِزَّ الإسلام والمسلمين، وأذِلَّ الكفرَ والكافرين، اللهم وأذِلَّ الشركَ والمُشركين ودمِّر أعداءَك أعداءَ الدين يا رب العالمين.
اللهم اجعل بلادَنا آمنةً مُطمئنَّةً، سخاءً رخاءً، وسائرَ بلاد المُسلمين يا رب العالمين.
اللهم احفَظ بلادَنا من كل شرٍّ ومكروه، اللهم عافِنا والمُسلمين مما يُغضِبُك علينا يا رب العالمين، اللهم ارزُقنا والمسلمين التمسُّك بسُنَّة رسولِك - صلى الله عليه وسلم -، وارزُقنا والمُسلمين العافيةَ من البدَع التي تهدِمُ الدين يا رب العالمين، إنك على كل شيءٍ قدير.
اللهم آمِنَّا في أوطاننا، وأصلِح اللهم ولاةَ أمورنا.
اللهم وفِّق وليَّ أمرنا خادمَ الحرمين الشريفين لما تحبُّ وترضى، اللهم وفِّقه لهُداك، واجعَل عملَه في رِضاك يا رب العالمين، اللهم وفِّقه وأعِنه على ما فيه الخيرُ لشعبِه ووطنِه والمُسلمين وعِزِّ الإسلام والمُسلمين يا رب العالمين، اللهم وفِّق وليَّ عهده لما تحبُّ وترضَى.
اللهم إنا نسألُك أن تغفِر لموتانا وموتى المُسلمين، اللهم اغفِر لموتانا وموتى المسلمين يا رب العالمين.
اللهم إنا نسألُك أن تُغيثَنا، اللهم أغِثنا يا رب العالمين إنك على كل شيءٍ قدير.
اللهم إنا نسألُك أن ترفعَ الكُربَةَ وأن ترفعَ الضِّيقَ الذي نزلَ بإخواننا المُسلمين في الشام، اللهم ادفَع عنهم يا رب العالمين، اللهم اكفِهم شرَّ أعداء الإسلام يا رب العالمين، اللهم إنا نسألُك أن ترفعَ ما بهم من الضرَّاء، اللهم ارفَع ما نزلَ بهم من الكُرُبات، اللهم إنا نسألُك أن تُطعِمَ جائِعَهم، وأن تكسُوَ عارِيَهم، وأن تُغنِيَ فقيرَهم يا رب العالمين، اللهم لا تكِلهم إلا أحدٍ من خلقِك، اللهم إنه نزلَ بهم من الضُّرِّ والبأساء والكرب ما لا يكشِفُه غيرُك يا رب العالمين.
اللهم عليك بمن ظلمَهم وتسلَّطَ عليهم، وعليك بمن آذاهم يا رب العالمين وتسلَّطَ عليهم، اللهم أنزِل به بأسَك العاجِلَ غيرَ الآجِل، إنك على كل شيء قدير، واجعله عِبرةً للمُعتبِرين، إنك على كل شيء قدير.
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [البقرة: 201].
عباد الله:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ [النحل: 90، 91].
اذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على نِعَمِه يزِدكم، ولذكر الله أكبر، والله يعلم ما تصنعون.


لنک
 
Top