ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم الله الرحمن الرحيم
زوالِ فہمِ توحید اور امت کا انغماسِ تامّ در تاریکیِ شرک
زوالِ فہمِ توحید اور امت کا انغماسِ تامّ در تاریکیِ شرک
افسوس، ہائے صد افسوس! کہ آج کی امتِ مسلمہ، جو کبھی لوحِ ہدایت کی امین اور پرچمِ توحید کی حامل تھی، اب خود ساختہ تقدس اور زعمِ طہارت کے پردوں میں لپٹی ہوئی ایک ایسے زوالِ فکری و عملی کی دلدل میں غرق ہے، جہاں سے بازگشتِ نجات کی کوئی صدا سنائی نہیں دیتی۔
اس امت کا ایک گمراہ طائفہ، جس کی ذہنی ساخت کج فہمی اور تلبیسِ ابلیس کی پیداوار ہے، یہ مدعی ہے کہ امتِ محمدیہ شرکِ اکبر جیسے لعنتی گناہ میں کبھی گرفتار ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر حقیقت، جس پر نہ صرف قرآن گواہ ہے بلکہ آثارِ نبویہ، روایاتِ صحابہ، اور تاریخِ ملت بھی صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے، وہ اس گمانِ باطل کو پاش پاش کرتی ہے۔
آج لاکھوں نہیں، کروڑوں افراد زبان سے تو کلمۂ توحید کا ورد کرتے ہیں، مگر ان کے قلوب میں غیر اللہ کی عظمت، قبور پرستی، طاغوت پر رضا، اور شرکِ حکمرانی کی نجاست گہرائیوں تک پیوست ہے۔ توحید، جو آتشِ ابراہیمی کی مانند ہر باطل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، آج صرف منبروں کی زیبائش اور خطیبوں کی لفاظی کا عنوان بن چکی ہے۔
ارشادِ ربِ جلیل ہے: "وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ"
(یوسف)
یعنی وہ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں، تو شرک کی آلائش کے ساتھ! اس آیتِ کریمہ کا مفہوم ہی اس دعویٰ پر کاری ضرب ہے کہ امت شرک میں ملوث نہیں ہو سکتی۔ اگر شرک اس امت میں داخل نہ ہونا ہوتا، تو قرآن فرقانِ مبین بن کر کیوں نازل ہوتا؟ اس کا ورود ہی دلیل ہے کہ امت، سابقہ قوموں کی روش پر چلے گی؛ بلکہ اس سے بھی بدتر انجام سے دوچار ہوگی۔
یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناقوسِ بیداری کی صدائے عبرت بلند کی: "لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَن كَانَ قَبْلَكُمْ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ"
(صحیح بخاری)
گویا ایک الٰہی ناقوسِ تنبیہ، ایک صوتِ غضب ناک جو صدیوں کے فاصلے پر کھڑے زمانوں کو جھنجھوڑتی ہے۔ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: "یا رسول اللہ! کیا مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فمن؟" یعنی اگر وہ نہیں، تو اور کون؟
اور پھر وہ مہیب و مہلک خبر: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ حَيٌّ مِن أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى تَعْبُدَ فِئَامٌ مِن أُمَّتِي الأَوْثَانَ"
یعنی قیامت کی گھڑی اس وقت تک سر نہ اٹھائے گی، جب تک میری امت کے ایک گروہ کی پیشانی شرک کی دہلیز پر سجدہ ریز نہ ہو جائے، اور جب تک امت کے قبیلے اصنام پرستی کو اپنا دینی شعار نہ بنا لیں۔
اے قومِ نام نہاد مسلم! تیرے اذکار کے نغمے، تیرے جبّے اور عمامے، تیرے الفاظ کی تقدیس یہ سب اس وقت تک محض فریب ہیں جب تک تیرے قلب کی تہوں میں اللہ کی واحدانیت غیر مشروط اور غیر مشوب نہ ہو۔
امت کے اکثر طبقات، آج قبروں پر چادریں چڑھاتے، مردوں سے حاجت طلب کرتے، حکامِ طاغوت کے دَر پر سجدہ بجا لاتے، اور طاغوتی آئین کو اسلامی نظام کا لیبل عطا کرتے ہیں۔ یہ سب شرکِ اکبر کے زمرے میں داخل ہیں، خواہ لاکھ فقہی مغالطے اسے چھپانے کی سعی کریں۔
یاد رکھ! یہ امت جب کتاب اللہ و سنت رسول سے منہ موڑے گی اور اسلافِ امت کی تعبیرات کو ترک کرکے اجتہادِ تحریف پر عمل پیرا ہوگی، تو اسے وہی ہزیمت نصیب ہوگی جو بنی اسرائیل، نصاریٰ اور مجوس کی قوموں کو نصیب ہوئی۔ بلکہ اس کا زوال زیادہ عبرتناک، اور اس کی گمراہی زیادہ شدید ہوگی، کیونکہ اس کے پاس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے، مگر ان کی سیرت و شریعت سے فرار!