• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کا گناہ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورئہ براۃ میں ) فرمایا

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کا گناہ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورئہ براۃ میں ) فرمایا

وقول الله تعالى ‏{‏والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم * يوم يحمى عليها في نار جهنم فتكوى بها جباههم وجنوبهم وظهورهم هذا ما كنزتم لأنفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون‏}‏‏. کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آخر آیت ﴿ فذو قواما کنتم تکنزون ﴾ تک۔ یعنی اپنے مال کو گاڑنے کا مزہ چکھو۔

آیت میں کنز کا لفظ ہے کنز اسی مال کو کہیں گے جس کی زکوٰۃ نہ دی جائے۔ اکثر صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ آیت اہل کتاب اور مشرکین اور مومنین سب کو شامل ہے۔ امام بخاری نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور بعض صحابہ نے اس آیت کو کافروں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ ( وحیدی )

حدیث نمبر : 1402
حدثنا الحكم بن نافع، أخبرنا شعيب، حدثنا أبو الزناد، أن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، حدثه أنه، سمع أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تأتي الإبل على صاحبها، على خير ما كانت، إذا هو لم يعط فيها حقها، تطؤه بأخفافها، وتأتي الغنم على صاحبها على خير ما كانت، إذا لم يعط فيها حقها، تطؤه بأظلافها، وتنطحه بقرونها‏"‏‏. ‏ وقال ‏"‏ ومن حقها أن تحلب على الماء‏"‏‏. ‏ قال ‏"‏ ولا يأتي أحدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار، فيقول يا محمد‏.‏ فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت‏.‏ ولا يأتي ببعير، يحمله على رقبته له رغاء، فيقول يا محمد‏.‏ فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت‏"‏‏. ‏
ہم سے ابولیمان حکم بن نافع نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ہر مزا عرج نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘ آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ ( قیامت کے دن ) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق ( زکوٰة ) نہ ادا کیا کہ اس سے زیادہ موٹے تازے ہوکر آئیں گے ( جیسے دنیا میں تھے ) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے۔ بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوکر آئیں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ بھی ہے کہ اسے پانی ہی پر ( یعنی جہاں وہ چرا گاہ میں چر رہی ہوں ) دوہا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس طرح نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر ایک ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو چلارہی ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے عذاب سے بچائیے میں اسے یہ جواب دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا ( میرا کام پہنچانا تھا ) سو میں نے پہنچا دیا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ لیے ہوئے قیامت کے دن نہ آ : ے کہ اونٹ چلارہا ہو اور وہ خود مجھ سے فریاد کرے‘ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے بچائےے اور میں یہ جواب دے دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ کو ( خدا کا حکم زکوٰة ) پہنچادیا تھا۔

تشریح : مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ منہ سے کاٹیں گے۔ پچاس ہزار برس کا جو دن ہوگا اس دن یہی کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ بندوں کا فیصلہ کرے اور وہ اپنا ٹھکانا دیکھ لیں۔ ( بہشت میں یا دوزخ میں ) اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے اموال اونٹ یا بکری وغیرہ میں سے مقررہ نصاب کے تحت زکوٰۃ نہیں ادا کریں گے‘ قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا جو یہاں مذکور ہوا۔ فی الواقع وہ جانور ان حالات میں آئیں گے اور اس شخص کی گردن پر زبردستی سوار ہوجائیں گے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیے پکارے گا مگر آپ کا یہ جواب ہوگا جو مذکور ہوا۔ بکری کو پانی پر دوہنے سے غرض یہ کہ عرب میں پانی پر اکثر غریب محتاج لوگ جمع رہتے ہیں وہاں وہ دودھ نکال کر مساکین فقراءکو پلایا جائے۔ بعضوں نے کہا یہ حکم زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تھا‘ جب زکوٰۃ فرض ہوگئی تو اب کوئی صدقہ یا حق واجب نہیں رہا۔ ایک حدیث میں ہے کہ زکوٰۃ کے سوا مال میں دوسرا حق بھی ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اونٹوں کا بھی یہی حق ہے کہ ان کا دودھ پانی کے کنارے پر دوہا جائے۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں وانما خص الحلب بموضع المآءلیکون اسہل علی المحتاج من قصد المنازل وارفق بالماشیۃ یعنی پانی پر دودھ دوہنے کے خصوص کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہاں محتاج اور مسافر لوگ آرام کے لیے قیام پذیر رہتے ہیں۔

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قیامت کے دن گناہ مثالی جسم اختیار کرلیں گے۔ وہ جسمانی شکلوں میں سامنے آئیں گے۔ اسی طرح نیکیاں بھی مثالی شکلیں اختیار کرکے سامنے لائی جائیں گی۔ ہر دو قسم کی تفصیلات بہت سی احادیث میں موجود ہیں۔ آئندہ حدیث میں بھی ایک ایسا ہی ذکر موجود ہے۔

حدیث نمبر : 1403
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن أبيه، عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من آتاه الله مالا، فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاعا أقرع، له زبيبتان، يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه ـ يعني شدقيه ـ ثم يقول أنا مالك، أنا كنزك ‏"‏ ثم تلا ‏{‏لا يحسبن الذين يبخلون‏}‏ الآية‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے والد سے بیان کیا‘ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰة نہیں ادا کی توقیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا۔ اس کی آنکھوں کے پاس دوسیاہ نقطے ہوں گے۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑلے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی “ اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے۔ قیامت میں اس کا طوق بناکر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔

تشریح : نسائی میں یہ الفاظ اور ہیں۔ ویکون کنز احدکم یوم القیامۃ شجاعا اقرع یفرمنہ صاحبہ ویطلبہ انا کنزک فلا یزال حتی یلقمہ اصبعہ یعنی وہ گنجا سانپ اس کی طرف لپکے گا اور وہ شخص اس سے بھاگے گا۔ وہ سانپ کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پس وہ اس کی انگلیوں کا لقمہ بنالے گا۔ یہ آیت کریمہ ان مالداروں کے حق میں نازل ہوئی جو صاحب نصاب ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرتے بلکہ دولت کو زمین میں بطور خزانہ گاڑتے تھے۔ آج بھی اس کا حکم یہی ہے جو مالدار مسلمان زکوٰۃ ہضم کرجائیں ان کا یہی حشر ہوگا۔ آج سونا چاندی کی جگہ کرنسی نے لے لی ہے جو چاندی اور سونے ہی کے حکم میں داخل ہے۔ اب یہ کہا جائے گا کہ جو لوگ نوٹوں کی گڈیاں بنابناکر رکھتے اور زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ان کے وہی نوٹ ان کے لیے دوزخ کا سانپ بن کر ان کے گلوں کا ہار بنائے جائیں گے۔
 
Top