محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف بال کاٹنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی ہے۔
سيدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً (صحيح مسلم، الطَّهَارَةِ: 599)
’’ہمارے لیے مونچھیں کترانے، ناخن تراشنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔‘‘
سيدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً (صحيح مسلم، الطَّهَارَةِ: 599)
’’ہمارے لیے مونچھیں کترانے، ناخن تراشنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔‘‘
- اگر کسی انسان کے بال زياده بڑھے نہ بھی ہوں، پھر بھی اسے چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ مدت کے مطابق چا لیس دن کے اندر بالوں کی صفائی کر لے۔