• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سخاوت کی فضیلت (خطبہ جمعہ)

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
سخاوت کی فضیلت..... 20-ربیع الاول- 1434

خطبہ جمعہ حرم مدنی
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبیتی

پہلا خطبہ:
الحمد لله القائل: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى [الليل: 5- 7]، أحمده - سبحانه - وأشكرُه على نعَمه التي لا تُعدُّ ولا تُحصَى، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له القائل: وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا [الإسراء: 20]، وأشهد أن سيدَنا ونبيَّنا محمدًا عبدُه ورسولُه قال له ربُّه: وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى [الضحى: 5]، صلَّى الله عليه وعلى آله وصحبه.
أما بعد!
میں اپنے آپ اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102]
اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت آئے تو صرف اور صرف اسلام کی حالت میں۔
اللہ کے بندو! سخاوت ایک عبادت اور اللہ کی نعمتوں کے شکر کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سخاوت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔ آپﷺ نے ہر چیز کو اللہ کی راہ میں لُٹا دیا اور جتنا بھی تھا سارا اللہ کی راہ میں دے دیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ رکھا۔
جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے جب کسی نے مانگا آپ نے اس کو انکار نہیں کیا،حتی کہ ایک آدمی نے بکریوں سے بھری وادی کا سوال کیا تو آپﷺ نے اسے وہ بھی دے دی۔ آپﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ اپنے تن پر موجود قمیض بھی اتار کر دے دی۔
یہ بھی آپکی سخاوت ہی ہے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی امت کی خیر خواہی کیلئے وقف کردی، اسی بات کا اعلان اللہ نے قرآن میں کچھ یوں کیا:
إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ [سبأ: 46]
وہ تو محض ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں ڈرانے والا ہے۔
یہ بھی آپ کی سخاوت کی ہی ایک مثال ہے کہ امت کو ایسی محبت دی جس کا کوئی ثانی نہیں۔ اور ایسی شفقت سے نوازا جس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ اسی لیے آپﷺ اکثر کہا کرتے تھے:
’’اگر مجھے اپنی امت کا ڈر نہ ہو تو میں انہیں فلاں فلاں کام کا حکم دے دیتا....‘‘
ایک دفعہ ایک آدمی نے آپﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج کرنا واجب ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اگرمیں "ہاں" کہہ دوں تو یہ واجب ہو جائے گا، اور تم ہر سال کر نہیں سکو گے۔
اسی امت کیلئے آپ کہتے رہے: ’’اے اللہ! میری امت! میری امت کو بچانا۔‘‘
یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے فرما دیا:
’’یقیناً ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور ان کے بارے میں کوئی بری بات سامنے نہیں آئے گی۔‘‘
آپ ﷺ کے فیضِ خیر اور برکت کا ہی خاصہ ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ آپﷺ کے بعد آپ کے صحابہ کرام اور پیروکار بھی اسی منہج پر چلے، حتیٰ کہ بلند وبالا پہاڑوں کی طرح جود و سخا میں سب کے سامنے عیاں ہوگئے۔
آپﷺ نے فرمایا:
ابو بکر کے مال نے مجھے جتنا فائدہ دیا ہے کسی چیز نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا۔ ابوبکر سن کر رو دیے اور کہا: اللہ کے رسول ﷺ میں اور میرے مال کے اصل مالک آپکے علاوہ ہے کون؟
حضرت عمر کی سخاوت ملاحظہ کیجئےکہ ہر رات ایک نابینا بوڑھی عورت کے گھر کی صفائی ستھرائی کرتے۔
مصعب بن عمیر  بھی سخاوت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں: یہ اہل مدینہ میں ہجرت سے پہلے آگئے اور ایک سال کے اندر اندر مدینہ کی اکثر آبادی کو مشرف با اسلام کردیا۔
ادھر سعد بن معاذ انصار کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے مال و جان آپ کی بارگاہ میں پیش کر دیتے ہیں انہوں نے آپﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دیکر بھیجا ہے، اگر آپ چاہو اپنے ساتھ ہمیں اس سمندر میں لے چلو، آپ جس سے چاہو ہاتھ ملا لو، جس سے چاہو دور ہو جاؤ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہماری دولت ساری آپ کے کنٹرول میں ہے جتنی چاہو خرچ کر دو، ہمیں کل دشمن سے ٹکراؤ پر کوئی گھبراہٹ نہیں، ہم جم کر لڑنے والے جنگجو ہیں اور اللہ سے امید ہے کہ آپ ہمیں دیکھں گے تو آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔
دوسری طرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سخاوت کا انداز دیکھیں: حرمِ مکی میں آپ فجر کی نماز پڑھ کر بیٹھ جاتے اور آواز لگاتے : جس نے قرآن پڑھنا ہے سیکھنا ہے آجائے، قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے والے سورج طلوع ہونے تک آپ کے پاس رہتے پھر فرماتے: تم چلے جاؤ اور جنھوں نے حدیث نبوی پڑھنی ہے انہیں بلاؤ، وہ آکر آپ سے اپنے مسائل دریافت کرتے۔ پھر فرماتے: جاؤ اور جس نے فقہ پڑھنی ہے انہیں بھیج دو، اسکے بعد تفسیر پڑھاتے، عربی پڑھاتے انھوں نے اپنے شاگردوں کی یوں ہی تربیت کی اور ہر قسم کی نیکی اپنی سخاوت میں جمع کردی۔ علم بھی سکھایا اور مال بھی خرچ کیا۔
انھوں نے ہر میدان میں سخاوت کی۔ انھوں نے حالات و واقعات کے دھارے کو ہی بدل کر رکھ دیا ایک نئی تاریخ رقم کی، یہ کتنا زبر دست منظر ہے کہ ہر مسلمان سخاوت سے بھر پور نظر آتا ہے دوسروں کیلئے جینا چاہتا ہے، اسی لئے توحقیقی معنوں میں سخاوت کی کوئی حد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کوئی شرط ہوتی ہے، جس کو جانتے ہو اس کو دو اور جسے نہیں جانتے اسے بھی دو اور ا س پر بھی سخاوت کرو۔
سخی حضرات نہ بخل کو جانتے ہیں نہ ہی کنجوسی کو، جب کسی کو آپ کچھ دو گے تو اس سے کئی گنا زیادہ آپ کو نفع ملے گا۔ آپ کی سخاوت سے اس یتیم بچے کے چہرے پر خوشی دیکھنے کو ملے گی جس کو دالدکی شفقت نہیں ملی، جس کا دل دکھوں سے چور ہو چکا ہے، اس بیوہ کو امید کی کرن نظر آئے گی جس کے سر کا تاج اتر گیا ہے۔ اسی سخاوت سے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتے ہو، اسی طرح میاں بیوی کے مابین سخاوت پیار، محبت اور نرمی کی شکل میں ہے۔
سخاوت کے بہت ہی زیادہ طریقے ہیں، ظالم کو معاف کردو، جس نے آپ سے زیادتی کی اس سے در گزر کردو، جوقطع کلامی کرے اس سے تعلق بناؤ، مسلمانوں کی اصلاح کرو، غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دو، کسی کا عذر قبول کروِ، اور اگر آپ اپنے بعض حقوق سے کسی کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں یہ بھی سخاوت ہے۔
اپنی ڈیوٹی کے دوران آپ نے ایک اچھی اقتراح پیش کی یا معاشرے میں کسی بگاڑ کو درست کیا تو یہ بھی ایک سخاوت ہے۔ مال خرچ کرنا سخاوت ہے، علم و معرفت اور اپنا تجربہ کسی کو دینا بھی سخاوت ہے۔کسی کی عزت افزائی بھی سخاوت ہے،اپنا وقت کسی کو دینا بھی سخاوت ہے، کسی کی (حق پر ) سفارش کردینا بھی سخاوت ہے، کسی کی خدمت کرنا بھی سخاوت ہے،تکلیف دہ اشیاء کو ہٹا دینا بھی سخاوت ہے، لوگوں کی خدمت کیلئے ان کے ساتھ چلنا بھی سخاوت ہے اور اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنا بھی سخاوت ہے۔
سخاوت کا دروازہ ہر طبقہ کے لوگوں کیلئے ہر وقت کھلا ہے، سب سے آسان ترین سخاوت؛ ایک مسکراہٹ ہے، یا کسی کی خیریت دریافت کرنے کیلئے ملاقات کرنا بھی ہے۔ اچھی بات کہنا، دعا دینا، کسی کی تھوڑی بہت مدد کرنا، دوا خرید کر دینا۔ یہ سب کچھ سخاوت ہی ہے۔تو ہم اس دروازے میں داخل کیوں نہیں ہوتے؟ ہم سخاوت کے طریقے کیوں نہیں سیکھتے؟ ہم اس چشمے سے اپنے معاشرے، قوم اور ملک کی آبیاری کیوں نہیں کرتے؟
زندگی کا مزا تو یہاں آتا ہے، تعلقاتِ عامہ کا یہاں پتہ چلتا ہے، احساسات کو یہاں روحانی غذا ملتی ہے۔ جب دوسروں کو دیتے ہوئے خود تو تھک جائے لیکن ان کو سیر کردے۔ صرف اس لیےکہ اس سخاوت کا بدلہ قیامت کے دن پا لے۔
اس امت میں کوئی شخص ایسا نہیں جو سخاوت پر قادر نہ ہو، ہاں اگر کوئی خود سے پیچھے ہٹے اور اپنی سر گرمیوں کو جامد کردے، اپنے آپ کو مٹی تلے دبا لے، اپنی صلاحیتوں کو تباہ کرلے اور اپنے جسم کو مردہ بنالے (تو الگ بات ہے) ہمارے معاشرے کا ہر فرد سخی بننے پر قادر ہے۔ وہ اس پوری قوم کی اپنی زبان اور اعضا سے خدمت کر سکتا ہے، بس کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ سے ان رکاوٹوں کو دور کریں جو ہمیں اس کام سے روک رہی ہیں۔ جس میں سرِ فہرست عاجز ہو نا ہے۔ اس سے رسول ﷺ نے بھی پناہ مانگی اور فرمایا: (اللهم إني أعوذبك من العجز) اے اللہ میں عاجز بننے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
عام طور پر ناکامی اور نقصان کا باعث یہ ہی بنتا ہے۔
فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
(اللہ سے مدد مانگو اور سستی مت دیکھاؤ) یہ سستی ہمت کمزور کر دیتی ہے، انسان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتی ہےاور آخر کار انسان سخاوت سے منہ موڑ لیتا ہے اور اسکے بعد بہت ہی بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اسی نیم مردہ حالت میں زندگی گزارتا ہے۔ اس کے بعد عاجز شخص اپنے لئے بڑے حیلے بہانے تلاش کرنے لگتا ہے۔
اسی قسم کے بہت سے سست لوگ دینے کی بجائے مانگنے لگ جاتے ہیں اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ مانگتے مانگتے ان کا پیٹ نہیں بھرتا، اور لالچی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ان کی ہمت جواب دے چکی ہوتی ہے اور آنکھیں دوسروں کی تھالی کی طرف ہوتی ہیں، اللہ کا دیا سب کچھ ان کے پاس ہونے کے باوجود اپنی زندگی فقیروں کی سی گزارلیتےہیں لیکن اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔
اللہ کے بندے! اللہ سے مدد مانگو اور سستی مت دکھاؤ، اٹھو، کھڑے ہوجاؤ، چلو اور جلدی کرو اللہ سے مدد مانگو تمہیں چھلکتی ہوئی خیر ملے گی۔ تمھاری اس راستے میں مدد کرنے والے بڑھتے چلے جائیں گے اور اللہ کی طرف سے مدد اور کامیابی تمہارے آگے آگے ہوگی۔
مسلمان بھائی! سخاوت کے اثرات سخی اور معاشرے دونوں پر ظاہر ہوتے ہیں، دینے سے انفرادی اور اجتماعی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں، ترقی کے مزید اُفق روشن ہوتے ہیں۔ معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی اعتماد کی فضا بحال ہوتی ہے، سخی سے پورا معاشرہ محبت کرتا ہے، قوم اس کا احترام کرتی ہے، تمام لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ سخی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے، اس کی عنایت مسلسل ہوتی ہے اور جس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
جب اللہ کے لیے دینے کی عادت پڑ جائے تو جلد ہی اس کی لذت محسوس کرنے لگو گے، کیونکہ دینے کی لذت لینے کے مزے سے بہت زیادہ ہوتی ہے، نیک کاموں میں مشغول رہنا اور دوسروں کی مدد کرنا انسان کو بہت سی سخت تکالیف سے بچا دیتا ہے۔
اپنا نام دینے والوں کی فہرست میں شامل کراؤ، بلکہ سخاوت کی ترویج کرنے والے لوگ بن جاؤ، تمہارا ہاتھ دینے والا ہو، کیونکہ جو دیتا ہے اللہ اسی کو عنایت کرتا ہے، جبکہ اللہ کی عنایت نہ تو کبھی تھمی ہے اور نہ ہی ختم ہوگی۔
امت کو جن معاملات کا سامنا ہے وہ ہمارے سامنے ہے، جنگوں اور فتنوں کی آگ میں یہ جھلس کر رہ گئی ہے، اسی لیے جود و سخا کی بھی اسے اتنی ہی ضرورت ہے۔ آؤ ہم مل کر جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے چھٹ دیں، فقر و فاقہ کی صورتِ حال کو سخاوت اور ترقی سے ختم کر دیں، یتیموں کی کفالت کے ذریعے ان کا خیال کریں، امن و امان کے ذریعے خوف و ہراس کو مٹا دیں، صلح کے ذریعے لڑائی جھگڑا ختم کر دیں اور برائی کا خاتمہ سخت نگرانی اور کڑی نظر رکھ کر کریں۔ یہ سخاوت کا وقت ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ [الزلزلة: 7]
چنانچہ جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔
بارك الله لي ولكم في القرآن العظيم، ونفعني وإياكم بما فيه من الآيات والذكر الحكيم، أقول قولي هذا، وأستغفر الله العظيم لي ولكم، فاستغفروه، إنه هو الغفور الرحيم.
دوسرا خطبہ:
الحمد لله، الحمد لله الذي أنعمَ علينا بنعمةِ الإسلام، أحمدُه - سبحانه - وأشكرُه على الدوام، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له شهادةً أرجُو بها الأمنَ في دار السلام، وأشهد أن سيِّدَنا ونبيَّنا محمدًا عبدُه ورسولُه الداعِي إلى دار السلام، صلّى الله عليه وعلى آله وصحبِه صلاةً قائِمةً على التَّمام.
أما بعد!
میں اپنے نفس کو اور آپ سب سامعین کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔
اگر آپ یہ چاہتے ہو کہ سخاوت اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو تو اپنے آپ کو ریا اور نمودو نمائش سے بچائیں۔ ہمیشہ اللہ کی راہ میں سخاوت کرتے رہنا چاہیے چاہےتھوڑی ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ بہت زیادہ لیکن عارضی سخاوت سے تھوڑی لیکن دائمی سخاوت افضل ہے، جیسے کہ ایک ایک قطرہ مل کر بہت بڑا سیلاب بن جاتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«أحبُّ الأعمال إلى الله أدومُها وإن قلَّ»
اللہ کے ہاں پسندیدہ اعمال میں سے ایک یہ ہے کہ جو ہمیشہ کیا جائے چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے:
ایک فاحشہ عورت نے پیاسے کتے کو پانی پلایا، اللہ نے اسکے سارے گناہ معاف فرما دئے) اور اسی طرح آپکا فرمان ہے: (اللہ کے ہاں محبوب ترین لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو دوسروں کی زیادہ مدد کرتے ہیں۔
ألا وصلُّوا - عباد الله - على رسولِ الهُدى؛ فقد أمركم الله بذلك في كتابه، فقال: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [الأحزاب: 56].
اللهم صلِّ وسلِّم على عبدِك ورسولِك محمدٍ، وارضَ اللهم عن خلفائِه الأربعة الراشدين: أبي بكرٍ، وعمر، وعثمان، وعليٍّ، وعن الآل والصحبِ الكرام، وعنا معهم بعفوِك وكرمِك وإحسانِك يا أرحمَ الراحِمين.
اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمُسلمين، اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمُسلمين، اللهم أعِزَّ الإسلامَ والمُسلمين، وأذِلَّ الكفرَ والكافرين، ودمِّر اللهم أعداءَك أعداءَ الدين، واجعَل اللهم هذا البلَدَ آمنًا مُطمئنًّا وسائرَ بلاد المُسلمين.
اللهم إنه قد حلَّ بإخواننا في الشام ما أنت عليمٌ به وقادرٌ على كشفِه، اللهم اكشِف عنهم البلوَى والضرَّاءَ التي نزلَت بهم يا رب العالمين، اللهم إنهم حُفاةٌ فاحمِلهم، وعُراةٌ فاكسُهم، وجياعٌ فأطعِمهم، ومظلومون فانتصِر لهم، ومظلومون فانتصِر لهم، ومظلومون فانتصِر لهم.
اللهم مُنزِل الكتاب، مُجرِيَ السحاب، هازِم الأحزاب، اهزِم عدوَّهم وانصُرهم عليهم يا رب العالمين، اللهم انصُرهم عاجلاً غير آجِل، اللهم انصُر إخواننا في الشام عاجِلاً غيرَ آجِلٍ، اللهم وحِّد صفوفَهم، واربِط على قلوبِهم، واجمَع كلمتَهم، وانصُرهم وسدِّد رميَهم يا رب العالمين، يا رحمنُ يا جبَّار يا قويُّ يا عزيزُ، إنك على كل شيءٍ قدير.
اللهم إنا نسألُك الهُدى والتُّقَى والعفافَ والغِنَى، اللهم إنا نسألُك الجنةَ وما قرَّبَ إليها من قولٍ وعملٍ، ونعوذُ بك من النار وما قرَّبَ إليها من قولٍ وعملٍ.
اللهم أصلِح لنا دينَنا الذي هو عصمةُ أمرنا، وأصلِح لنا دُنيانا التي فيها معاشُنا، وأصلِح لنا آخرتَنا التي إليها معادُنا، واجعل اللهم الحياةَ زيادةً لنا في كل خيرٍ، والموتَ راحةً لنا من كل شرٍّ يا رب العالمين.
اللهم أعِنَّا ولا تُعِن علينا، وانصُرنا ولا تنصُر علينا، وامكُر لنا ولا تمكُر علينا، واهدِنا ويسِّر الهُدى لنا، وانصُرنا على من بغَى علينا.
اللهم اجعَلنا لك ذاكِرين لك شاكِرين، لك مُخبِتين، لك أوَّاهِين مُنيبين.
اللهم تقبَّل توبتَنا، واغسِل حوبتَنا، وثبِّت حُجَّتَنا، وسدِّد ألسِنَتَنا، واسلُل سخيمَةَ قلوبِنا يا رب العالمين.
اللهم إنا نسألُك رِضوانَك والجنةَ، ونعوذُ بك من سخَطِك ومن النار.
اللهم فرِّج همَّ المهمومين من المُسلمين، ونفِّس كربَ المكروبين، واقضِ الدَّينَ عن المدينين، واشفِ مرضانا ومرضى المُسلمين، برحمتِك يا أرحمَ الراحمين.
اللهم وفِّق إمامنا لما تُحبُّ وترضى، اللهم وفِّقه لهُداك، واجعل عملَه في رِضاك يا رب العالمين، وألبِسه ثوبَ الصحةِ والعافيةِ، إنك على كل شيءٍ قدير.
ووفِّق جميعَ وُلاة أمور المُسلمين للعمل بكتابِك، وتحكيم شرعِك يا أرحم الراحمين.
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [الأعراف: 23]، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [البقرة: 201]، رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ [الحشر: 10].
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90].
فاذكروا اللهَ يذكُركم، واشكُروه على نعمِه يزِدكم، ولذِكرُ الله أكبر، واللهُ يعلمُ ما تصنَعون.


لنک
 
Top