• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سرسید،سانٹااورسائنس

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
سرسید،سانٹااورسائنس

ابوالمیزان​
( ایڈیٹر" ماہنامہ دی فری لانسر")​
عجیب اتفاق ہے کہ سین سے سرسید، سین سے سانٹا کلوز اور سین سے ہی سائنس ہوتا ہے۔ اس اتفاق کے علاوہ تینوں میں ایک بہت گہرا سمبندھ بھی ہے۔ وہ یہ کہ جس بات پر سائنس نے سرسید کا کان گرم کیا تھا، آج سانٹاکلوز اسی بات پر سائنس کے کان اینٹھ رہا ہے۔
آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے، ایک تھے سرسید۔ چونکہ وہ مسلمان تھے اس لیے اس وقت کے مسلمانوں کو ہر نئی چیز سے بھاگتا ہوا دیکھ کر بہت افسوس کرتے تھے۔ انگریز اور سائنس کا زمانہ تھا، مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی لوگ نئی تعلیم کو اپنا کر آگے بڑھتے چلے جارہے تھے۔ سرسید صاحب کو اپنی قوم کی غفلت پر بڑا تعجب ہوا۔ کمر کس کے میدان میں اتر آئے اور نئی نسل کو نئی تعلیم سے بہرہ آور کرنے کا بیڑا اٹھالیا۔ اور اس مہم کو سر کرنے کے لیے انھوں نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر چندے اکٹھے کیے۔ پھر کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر نئی تعلیم کا ایک چھوٹا سا پودا لگایا جو آج بوڑھا ہوچکا ہے اور جسے لوگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانتے ہیں۔
اُس زمانے میں بات بات پر ’’بدعت اور حرام‘‘ کہہ کرکے گھوڑوں کی طرح بدکنے والے مسلمانوں خصوصاً علماء طبقے کو اپنی منطق منوانا آسان کام نہیں تھا۔ پھر بھی سرسید صاحب نے اپنی بھر کوششیں کی۔ حتی کہ اس راہ میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے ٹارگیٹ پر ایک دن پہنچے بھی۔
اب یہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ اپنے اس ٹارگیٹ کو پانے کے لیے سرسید صاحب کو بہت بڑی بڑی قیمتیں چکانی پڑیں۔ اور سب سے بڑی قیمت جو انھوں نے چکائی ، وہ یہ کہ کئی موقعوں پر اپنے بنیادی عقیدے سے بھی سمجھوتہ کربیٹھے۔ ان کے سائنس نے جن باتوں کی نفی کردی، چاہے اس کا ثبوت اسلام یعنی قرآن اور حدیث میں موجود ہی کیوں نہ ہو، سرسید صاحب بلاچوں وچرا اس پر ایمان لے آئے۔
سائنس نے کہا شیطان کوئی چیز نہیں ہے۔ میڈیکل سائنس بھوت پریت میں یقین نہیں رکھتا۔ تو قرآن وحدیث میں اس کا تذکرہ ہونے کے باوجود سرسید صاحب نے مان لیا کہ شیطان واقعی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا یہ سمجھوتہ سائنس پر مکمل ایمان لانے کی وجہ سے ہوا تھا یا اسلام اور سائنس میں تطبیق دینے کی وجہ سے، پتا نہیں۔ مگر اتنا تو طے تھاکہ اسلام اور سائنس کے تئیں ایسے نظریے کا حامل شخص ضرور کہیں نہ کہیں آگے جاکر راستے سے بھٹک جائے گا۔
یہاں سرسید کے عقائد میں پیدا ہونے والے لوچ کا تذکرہ کرنا بالکل مقصود نہیں ہے۔اور نہ ہی اس معزز تاریخی کردار کو لعن طعن کرنے کا ارادہ ہے جیسا کہ کچھ لوگ کرتے ہیں۔ بلکہ سائنس کی ترقی یافتہ ایڈیشن کو نگاہ میں رکھتے ہوئے گزرے ہوئے کل اور گزر رہے آج کا ایک تجزیہ کرنا مقصود ہے کہ کس طرح سچائیوں کے اردگرد مفروضات بنا پایل کے گھنگھرو بجابجاکے ناچتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچے پکے خیالات کی بنیادوں پر قائم کیے جانے والے انسانی تصوارت میں سچ سے نظریں ملانے اور جھوٹ سے دامن بچانے کا کتنا مادہ ہوتا ہے۔ بلکہ کس طرح غباروں پر تکیہ کرنے والوں کا سرہوا نکلتے ہی ایک دن زمین سے جالگتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سانٹا کلوز( جو کہیں نہیں ہیں پھر بھی) کرسمس کے موقعے پر دنیا بھر کے اچھے بچوں بچیوں کو گھوم گھوم کر تحفے بانٹا کرتے ہیں۔ وہ اپنی جادوئی بگھی پر سوار ہوکر یہ نیک کام بڑی آسانی سے انجام دیتے ہیں۔
ہوسکتا ہے سانٹا کلوز کے اس خیالی کردار کو کسی قلم کار نے تخلیق کیا ہو مگر اسے پروموٹ کرنے کا کام ضرور کسی تجارتی کمپنی نے کیا ہوگا۔ خاص طور سے کرسمس کے موقعے پر بچوں کا سانٹا سے لگاؤ کروڑوں کا بزنس دیتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں صدیوں سے پل رہے روایتی کرداروں کی نفی کرنے والا سائنس آج ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر سانٹا کلوز کو ایک چلتی پھرتی حقیقت بنانے پر تلا ہوا ہے۔
امریکہ کے North Carolina State University سے میکانیکل اور ایرواسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر Larry Silverberg کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ بریکنگ سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے سانٹا کلوز دنیا بھر کے اچھے لڑکوں اور لڑکیوں کو تحفے بانٹ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اب تک ناممکن تصور کیا جاتا ہے جو بالکل غلط ہے۔ کیونکہ "Santa is using technologies that we are not yet able to recreate in our own labs".یعنی سانٹا جس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے یہ کرشمے انجام دے رہے ہیں اس سے ہم ابھی تک محروم ہیں۔
سائنس دانوں نے ٹھان رکھی ہے کہ سانٹا کلوز کے خیالی کیریکٹر کو ایک نہ دن دنیا بھر کے سامنے کھڑا کرکے ہی دم لیں گے۔ ان کے اپنے لیب میں یہ کام بڑے زور وشور سے جاری ہے۔
کاش کہ سرسید صاحب زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ جس سائنس کے لیے انھوں نے شیطان کے کردار کی نفی کرکے اپنے ایمان کو ہمیشہ کے لیے داغدار بنالیا تھا وہ کتنا ترقی کرگیا ہے کہ آج 2009 میں The science of Santaکا درس دے رہا ہے۔ (ممبئی مرر: 25؍دسمبر2009)
 
Top