• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سسر کے ساتھ عمرہ یا حج کرنا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
اسلام نے عورت کے تحفظ کے لیے بہت سے احکامات دیے ہیں، ان میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے ، چاہے وہ سفر حج یا عمرہ وغیرہ کے لیے ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس کی عزت محفوظ رہے اور وہ فتنوں سے بچ سکے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

لاَ تُسَافِرِ المَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَم (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1862)

’’ کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجو نہ ہو۔‘‘

یہ سن کر ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! میں فلاں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم اس کے ساتھ حج کے لیے جاؤ۔‘‘

ارشاد باری تعالی ہے:

وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (النساء: 23)

’’(حرام کی گئی ہیں تم پر) تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔‘‘​
  • حج پر جانے کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے، سسر بھی اس کا محرم ہے وہ اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ جائے کیونکہ سفر میں بعض معاملات ایسے پیش آ سکتے ہیں جن میں اس کا خاوند سسر کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے اس کی مدد کر سکتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.
 
Top