• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلہ حدیث

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
صحيح مسلم

كِتَاب الْإِيمَانِ
باب بَيَانِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَوُجُوبِ الْإِيمَانِ بِإِثْبَاتِ قَدَرِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَبَيَانِ الدَّلِيلِ عَلَى التَّبَرِّي مِمَّنْ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ وَإِغْلَاظِ الْقَوْلِ فِي حَقِّهِ

قال ابو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري رحمه الله: بعون الله نبتدئ وإياه نستكفي، وما توفيقنا إلا بالله جل جلاله. ¤ حدثني ابو خيثمة زهير بن حرب ، حدثنا وكيع ، عن كهمس ، عن عبد الله بن بريدة ، عن يحيى بن يعمر . ح وحدثنا وهذا حديثه، عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا كهمس ، عن ابن بريدة ، عن يحيى بن يعمر ، قال: كان اول من قال في القدر بالبصرة: معبد الجهني، فانطلقت انا وحميد بن عبد الرحمن الحميري، حاجين او معتمرين، فقلنا: لو لقينا احدا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسالناه عما يقول هؤلاء في القدر، فوفق لنا عبد الله بن عمر بن الخطاب داخلا المسجد، فاكتنفته انا، وصاحبي، احدنا عن يمينه والآخر عن شماله، فظننت ان صاحبي سيكل الكلام إلي، فقلت: ابا عبد الرحمن، إنه قد ظهر قبلنا ناس يقرءون القرآن، ويتقفرون العلم، وذكر من شانهم، وانهم يزعمون ان لا قدر، وان الامر انف، قال: فإذا لقيت اولئك، فاخبرهم اني بريء منهم، وانهم برآء مني، والذي يحلف به عبد الله بن عمر، لو ان لاحدهم، مثل احد ذهبا، فانفقه ما قبل الله منه، حتى يؤمن بالقدر، ثم قال: حدثني ابي عمر بن الخطاب ، قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، إذ طلع علينا رجل شديد، بياض الثياب، شديد، سواد الشعر، لا يرى عليه اثر السفر، ولا يعرفه منا احد، حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فاسند ركبتيه إلى ركبتيه، ووضع كفيه على فخذيه، وقال: يا محمد، اخبرني عن الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الإسلام ان تشهد ان لا إله إلا الله، وان محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا "، قال: صدقت، قال: فعجبنا له يساله، ويصدقه، قال: فاخبرني عن الإيمان، قال: " ان تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر خيره وشره "، قال: صدقت، قال: فاخبرني عن الإحسان، قال: " ان تعبد الله كانك تراه، فإن لم تكن تراه، فإنه يراك "، قال: فاخبرني عن الساعة، قال: ما المسئول عنها باعلم من السائل، قال: فاخبرني عن امارتها، قال: " ان تلد الامة ربتها، وان ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء، يتطاولون في البنيان "، قال: ثم انطلق فلبثت مليا، ثم قال لي: يا عمر اتدري من السائل؟ قلت: الله ورسوله اعلم، قال: فإنه جبريل، اتاكم يعلمكم دينكم.
‏‏‏‏

امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج اس کتاب کے مؤلف فرماتے ہیں ہم شروع کرتے ہیں کتاب کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اسی کو کافی سمجھ کر۔ اور نہیں ہے ہم کو توفیق دینے والا مگر اللہ تعالیٰ بڑا ہے جلال اس کا۔
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی بصرے میں (جو ایک شہر ہے دہانہ خلیج فارس پر آباد کیا تھا اس کو عتبہ بن غزوان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں۔ سمعانی نے کہا: بصرہ قبہ ہے اہل اسلام کا اور خزانہ ہے عرب کا۔ اور درحقیقت بصرہ ایک شہر ہے جس سے تجارت اہل ہند اور فارس کے ساتھ بخوبی قائم ہو سکتی ہے اور شاید اسی مصلحت سے اس شہر کی بنا ہوئی ہو گی) وہ معبد جہنی تھا، تو میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں مل کر چلے حج یا عمرے کے لئے اور ہم نے کہا: کاش! ہم کو کوئی صحابی رسول مل جائے جس سے ہم ذکر کریں اس بات کا جو یہ لوگ کہتے ہیں تقدیر میں تو مل گئے ہم کو اتفاق سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما مسجد کو جاتے ہوئے۔ ہم نے ان کو بیچ میں کر لیا یعنی میں اور میرا ساتھی داہنے اور بائیں بازو ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میرا ساتھی (حمید) مجھ کو بات کرنے دے گا (اس لئے کہ میری گفتگو اچھی تھی) تو میں نے کہا اے ابا عبدالرحمٰن (یہ کنیت ہے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی) ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور علم کا شوق رکھتے ہیں یا اس کی باریکیاں نکالتے ہیں اور بیان کیا حال ان کا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہاں ہو گئے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو جب ایسے لوگوں سے ملے تو کہہ دے ان سے میں بیزار ہوں اور وہ مجھ سے۔ اور قسم ہے اللہ جل جلالہ کی کہ ایسے لوگوں میں سے (جن کا ذکر تو نے کیا جو تقدیر کے قائل نہیں) اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو پھر وہ اس کو خرچ کرے اللہ کی راہ میں تو اللہ قبول نہ کرے گا جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے پھر کہا کہ حدیث بیان کی مجھ سے میرے باپ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آن پہنچا جس کے کپڑے نہایت سفید تھے اور بال نہایت کالے تھے۔ یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے اور کوئی ہم میں سے اس کو پہچانتا نہ تھا، وہ بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اور اپنے گھٹنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے (جیسے شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے) پھر بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! بتائیے مجھ کو اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے (یعنی زبان سے کہے اور دل سے یقین کرے) اس بات کی کہ کوئی معبود سچا نہیں سوا اللہ کے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور قائم کرے نماز کو اور ادا کرے زکوٰۃ کو اور روزے رکھے رمضان کے اور حج کرے خانہ کعبہ کا اگر تجھ سے ہو سکے۔“ (یعنی راہ خرچ ہو اور راستے میں خوف نہ ہو) وہ بولا: سچ کہا آپ نے، ہم کو تعجب ہوا کہ آپ ہی پوچھتا ہے پھر آپ ہی کہتا ہے کہ سچ کہا (حالانکہ پوچھنے والا لاعلم ہے اور سچ کہنے والا وہ ہوتا ہے جس کو علم ہو تو یہ دونوں کام ایک شخص کیوں کرے گا) پھر وہ شخص بولا: مجھ کو بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے (دل سے) اللہ پر، فرشتوں پر (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی طاقت دی ہے) اور اس کے پیغمبروں پر (جن کو اس نے بھیجا خلق کو راہ بتلانے کے لئے) اور پچھلے دن پر (یعنی قیامت کے دن پر جس روز حساب کتاب ہو گا اور اچھے اور برے اعمال کی جانچ پڑتال ہو گی) اور یقین کرے تو تقدیر پر کہ برا اور اچھا سب اللہ پاک کی طرف سے ہے۔“ (یعنی سب کا خالق وہی ہے) وہ شخص بولا: سچ کہا آپ نے۔ پھر اس شخص نے پوچھا: مجھ کو بتائیے احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس طرح دل لگا کر جیسے تو دیکھ رہا ہے۔“ اگر اتنا نہ ہو تو یہی سہی کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا: بتائیے مجھ کو قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو جس سے پوچھتے ہو وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ وہ شخص بولا تو مجھے اس کی نشانیاں بتلائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ تو دیکھے گا ننگوں کو جن کے پاؤں میں جوتا نہ تھا، تن پہ کپڑا نہ تھا، کنگال بڑی بڑی عمارتیں ٹھونک رہے ہیں۔“ راوی نے کہا: پھر وہ شخص چلا گیا۔ میں بڑی دیر تک ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عمر! تو جانتا ہے یہ پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے تم کو تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔“
اس حدیث مبارک سے متعلقہ میرے محفوظ کردہ فوائد و مسائل / تشریحات / پوائنٹس / اسباق
✿ نوٹ: ➊ اسناد سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اہل علم اور اہل معرفت ہیں اور آم آدمی کو صرف یہی کافی ہے کہ علمائے حدیث جس حدیث کو صحیح کہتے ہیں اس پر عمل کرے۔ ❀ فوائد: ➊ یعنی تقدیر کی نفی کی اور بدعت نکالی اور مخالفت کی اہل حق کی کیونکہ اہل حق تقدیر کو ثابت کرتے ہیں۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا:”قدریہ مجوس ہیں اس امت کے“.کیوں کہ مجوسی بھی دو خدا خیر و شر کے قائل ہیں.اسی طرح قدریہ نے خیر اللہ کی طرف اور شر کو دوسروں کی طرف منصوب کیا۔ ➌ اور فلاسفہ کہتے ہیں اللہ کو جزئیات کا علم نہیں ہوسکتا اگر ہو بھی تو ایک طرح کا اجمالی ہوگا تفصیلی علم نہیں۔ ➍ ہم اہلیحدیثوں کا عقیدہ ہے تقدیر کے تعلق سے کہ خالق کوئی نہیں سوائے اللہ کے اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق یہاں تک کے انسانوں کے افعال خیالات اور ارادے کا بھی مگر اللہ نے بندوں کو ایک قسم کا اختیار دیا ہے جس پر عذاب و ثواب ہوگا.پر اس اختیار کو خلق نہیں کہتے۔ ➎اسلام آم ہے اور ایمان خاص تو ہر مومن مسلم ہے لیکن ہر مسلم کو مومن ہونا ضروری نہیں۔ ➏ دلائل میں غور کرنے سے یقین (ایمان) میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے۔ ✔ الحكم أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ✔ التخریج سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْقَدَرِ) حکم: صحیح (الألباني) جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم (بَابُ مَا جَاءَ فِي وَصْفِ جِبْرِيلَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم الإِيمَانَ وَالإِسْلاَمَ) حکم: صحیح (الألباني) سنن النسائي: كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ (بَابُ نَعْتِ الْإِسْلَامِ) حکم: صحیح (الألباني) سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْإِيمَانِ) حکم: صحیح (الألباني)
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
صحیح بخاری

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

باب : اور اللہ پاک نے فرمایا اسکی تفسیر کہ اللہ ہی ہے جس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا ، اور وہی پھر دوبارہ ( موت کے بعد ) زندہ کرے گا اور یہ ( دوبارہ زندہ کرنا ) تو اس پر اور بھی آسان ہے
ترجمۃ الباب 1:
۔ اور ربیع بن خشیم اور امام حسن بصری نے کہا کہ یوں تو دونوں یعنی ( پہلی مرتبہ پیدا کرنا پھر دوبارہ زندہ کردینا ) اس کے لیے بالکل آسان ہے ( لیکن ایک کو یعنی پیدائش کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو زیادہ آسان ظاہر کے اعتبار سے کہا ) ( مشدد اور مخفف ) دونوں طرح پڑھنا جائز ہے اور سورہ قٓ میں جو لفظ اَفَعَیِینَا آیا ہے ، اس کے معنی ہیں کہ کیا ہمیں پہلی بار پیدا کرنے نے عاجز کردیا تھا ۔ جب اس خدا نے تم کو پیدا کردیا تھا اور تمہارے مادے کو پیدا کیا اور اسی سورت میں ( اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ) لُغُوب کے معنی تھکن کے ہیں اور سورہ نوح میں جو فرمایا اَطوَاراً اس کے معنی یہ ہیں کہ مختلف صورتوں میں تمہیں پیدا کیا ۔ کبھی نطفہ ایسے خون کی پھٹکی پھر گوشت پھر ہڈی پوست ۔ عرب لوگ بولا کرتے ہیں عَدَاطَورَہ یعنی فلاں اپنے مرتبہ سے بڑھ گیا ۔ یہاں اطوار کے معنی رتبے کے ہیں ۔قرآن شریف میں سورۃ مریم میں لفظ وہوہین آیا ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مناسب سے اس لفظ کی تشریح کردی کہ ربیع اور حسن کے قول میں یہ لفظ آیا ہے اور سورۃ قٓ اور سورۃ نوح کے لفظوں کی تشریح اس لیے کہ ان آیتوں میں آسمان اور زمین اور انسان کی پیدائش کا بیان ہے اور یہ باب بھی اسی بیان میں ہے۔

ترجمۃ الباب 2:
ربیع بن خثیم اور امام حسن بصری  کہتے ہیں کہ ابتدا اور اعادہ دنوں اس پر آسان ہیں۔ هَيِّنٌ کو مشدد اور مخفف دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے۔ الغرض هَيِّنٌ اور هَيِّنٌ ‘ لين اورلين ‘مَيِّتٌ اور مَيِّتٌ نیز ضَيْقٍ اور ضَيْقٍ کی طرح ہے۔أَفَعَيِينَا کیا ہم تھک گئے، یعنی کیا ہمیں پہلی بار پیدا کرنے نے عاجز کردیاتھا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا اور تمہارے مادے کو پیدا کیا۔لُّغُوبٍ کے معنی تھکاوٹ اور مشقت کے ہیں۔أَطْوَارًا کےمعنی ہیں: کبھی ایک حال کبھی دوسرا حال۔ عدا طورةکے معنی ہیں : وہ اپنی قدرومنزلت سےبڑھ گیا۔فائدہ:امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ کی لغوی تشریح کردی۔ پھر أَفَعَيِينَا ‘لُّغُوبٍ‘أَطْوَارًا ان الفاظ کی تشریح اس لیے کہ ان آیات میں زمین وآسمان اور انسان کی پیدائش کا ذکر ہے جو مذکورہ عنوان کا ماحاصل ہے۔
3194. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ سب خلق کو پیدا کرچکا تو اس نے اپنی کتاب(لوح محفوظ) میں، جو اسی کے پاس عرش پر ہے، یہ لکھا: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ "
حدیث حاشیہ 1:
1۔ایک روایت میں ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہے۔(صحیح البخاری التوحید حدیث 7453)جبکہ صفات باری تعالیٰ میں تقدم و تاخیر نہیں ہے دراصل رحمت کا تعلق غضب کے تعلق سے مقدم ہے کیونکہ رحمت اللہ کی ذات مقدسہ سے متعلق ہے اور غضب انسان کے عمل پر موقوف ہے۔ یہ تعلق حادث ہے اور اس میں تقدیم و تاخیر ممکن ہے۔2۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش کی تخلیق قلم سے پہلے ہوئی جس کے ذریعے سے نوشتہ تقدیر کو ضبط تحریر میں لایا گیا۔3۔واضح رہے کہ رحمت کے غالب ہونے میں اشارہ ہے کہ رحمت کے مستحقین بھی مقدار کے اعتبار سے غضب کے مستحقین پر غالب رہیں گےرحمت ایسے لوگوں پر بھی ہوگی جن سے نیکیوں کا صدورہی نہیں ہوا جبکہ اس کا غضب صرف ان لوگوں پر ہوگا جن سے گناہوں کا صدور ہوا ہوگا۔ بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ابتدائے خلق کو ثابت کیا ہے واللہ اعلم۔

حدیث حاشیہ 2:
اس حدیث سے بھی ابتدائے خلق پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔ صفات الٰہی کے لیے جو الفاظ وارد ہوگئے ہیں ان کی حقیقت اللہ کے حوالہ کرنا اور ظاہر پر بلا چوں و چرا ایمان لانا یہی سلامتی کاراستہ ہے۔ طیبی نے کہا کہ رحمت کے غالب ہونے میں اشارہ ہے کہ رحمت کے مستحقین بھی تعداد کے لحاظ سے غضب کے مستحقین پر غالب رہیں گے، رحمت ایسے لوگوں پر بھی ہوگی جن سے نیکیوں کا صدور ہی نہیں ہوا۔ برخلاف اس کے غضب ان ہی لوگوں پر ہوگا جن سے گناہوں کا صدور ثابت ہوگا۔ اللہم ارحم علینا یا ارحم الراحمین۔

1:شیخ عبد الستارحماد۔
2:شیخ مولانا محمد داودراز۔
 
Last edited:
Top