• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوشل میڈیا پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,782
پوائنٹ
1,069
7 جنوری 10:30 ﺷﺎﻡ

koi ghair muslim agar mange bagair masjid ko chanda deta hai to uska kya hukm hai daleel ke saath rahnumai farmaain shukriya.

کوئی غیر مسلم اگر مانگے بغیر مسجد کو چندہ دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے - دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمائے - شکریہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,782
پوائنٹ
1,069
Malik Khalid Mehmood Talokar

7 جنوری 10:12 ﺷﺎﻡ


Bhi jaan masjid nabavi ya makkah mukarmah main main namaz ky duran koi hadami hagy say guzar jay kya durost ha quran or hadees ka hawalay say maslah batain bhi

بھائی جان مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا مسجد الحرام میں نماز کے دوران کوئی آدمی نمازی کے آگے سے گزر جائے کیا درست ہے - قرآن و حدیث کی حوالے سے مسلہ بتائے -

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,782
پوائنٹ
1,069

Aslamualykum bahi sab kia hal ha !! ALLAH ap ko achi siat de or sada kosh rakhy

Razahat k bary me malumaat chaye thi !!!
6 maa k bad paida hony wala bacha jaiyaz ha ya na jaiyz ???
PLZ is bary me koi Dalil ho to send kijiye
JAZAK ALLAH khair

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ -

رضاعت کے بارے میں معلومات چاھیے -

6 ماہ کے بعد پیدا ہونے والے بچہ جائز ہے یا ناجائز پلیز اس بارے میں کوئی دلیل ہو تو بتا دے - جزاک اللہ خیر
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
7 جنوری 10:30 ﺷﺎﻡ
کوئی غیر مسلم اگر مانگے بغیر مسجد کو چندہ دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے - دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمائے - شکریہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مسجد کی تعمیر میں غیر مسٰلم سے تعاون لینا
شروع از بتاریخ : 14 February 2013 02:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا مسجد کی تعمیر میں غیر مسلم کا روپیہ لگانا جائز ہے؟
______________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر غیر مسلم حلال اور پاکیزہ کمائی سے مسجد کی تعمیر میں امداد کرے تو اس کے حلال پیسے کا مسجد میں لگانا درست ہے چونکہ یہ تعاون علی البر والتقویٰ ہے اور مشرکین مکہ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر اپنے حلال پیسے سے کی تھی، جس کا نمونہ اب تک موجود ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اس کو منہدم نہیں کرایا، بلکہ اس کو باقی رکھا، گو تعمیر کا حق مسلمان ہی کو ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
﴿ مَا كَانَ لِلْمُشْرِ‌كِينَ أَن يَعْمُرُ‌وا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ‌ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ‌ هُمْ خَالِدُونَ﴾

تعمیر اور تعاون کرنے پر مشرک کو ثواب نہیں ملے گا، کیوں کہ ایمان نہیں ہے اور بغیر ایمان کے کوئی خدا کے نزدیک مقبول نہیں ہے، حافظ عینی، عمدۃ القاری شرح بخاری جلد سوم ص۳ سے ۷ میں اسی آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:
ان التعاون فی بناء المسجد المعتبر الذی فیه الاجر إنما کان للمومنین ولم یکن ذالك للکافرین" (الی آخرہ)

’’یعنی مسجدوں کی تعمیر میں تعاون کرنے پر اجر صرف مومنوں کو ملتا ہے، کافروںکو نہیں ملتا ۔‘‘
اگرچہ وہ ایسی مسجد بنائیں جس مین عبادت باطلہ کی جائے، چنانچہ حضرت عباس کو جنگ بدر کے موقعہ پر گرفتار کیا گیا اور انہیں کفر پر عار دلائی گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان پر سختی بھی کی، تو حضرت عباس نے سرخروئی کے طور پر کہا کہ ہم لوگوں نے بیت اللہ کو بنایا ہے (پھر کیوں ہم پر سختی کرتے ہو) اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت اتار دی کہ ’’مشرکین کو مسجد تعمیر کا حق نہیں پہنچتا اور جن لوگوں نے کفر کی حالت میں مسجد کی تعمیر کی حصہ لیا ہے ان کا یہ عمل رائیگاں گیا، پھر مسلمانوں کے حق میں یہ آیت اتار ی
﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ‌ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ ﴾الایة

’’یعنی قابل اعتبار وہ مسجد ہے جس کو ایمان والوں نے بنایا ہے۔‘‘
اور جو غیر مسلم بنائیں وہ کسی گنتی اور شمار میں نہیں ہے۔ وانتھیٰ کلام عمدۃ القاری،
(مولانا) عبد السلام بستوی ، ترجمان دھلی جلد نمبر ۶، ش نمبر ۱۴)

فتاویٰ علمائے حدیث


محدث فتویٰ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گوردوارہ کو مسجد میں تبدیل کرنا
شروع از عطاء اللہ سلفی بتاریخ : 29 May 2012 04:23 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہم 1947ءسے چک نمبر87 ای۔بی ڈاکخانہ قبولہ تحصیل پا کپٹن ضلع منٹگمری آباد ہیں یہاں پر سکھوں کا گوردوارہ ہے جس کو ہم نے نماز کے لئے استعمال کیا اب ایک شخص نے مسجد کی تعمیر کے لئے زمین دی ہے اور وہاں جمعہ جماعت باقاعدگی سے شروع ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ گوردوارہ کو ہی مسجد رہنے دیا جائے نئی مسجد تعمیر نہ کی جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ نئی مسجد تعمیر کرنا چاہیے یا نہیں۔ نئی مسجد میں ثواب زیادہ ہے یا گوردوارہ کی مسجد میں۔؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گوردوارہ اگر سمت کعبہ میں ہے اور اس کی صورت مسجد کی شکل میں ڈھالی جا سکتی ہے تو وہ مسجد بن سکتا ہے۔ نئی مسجد کی تعمیر پر جو رقم خرچ ہو گی اورجو زمین زمیندار نے وقف کر دی ہے۔وہ سب کو ملا کر مسجد کی امدن کا ذریعہ بنالیا جائے۔ سلسلہ حفظ القرآن وغیرہ جاری کر دیا جائے اس میں دونوں کام ہو جائیں گے۔ مسجد بھی اور دینی خدمت بھی اور اگر گوردوارہ مسجد کے نام وقف ہو جائے تو پھر نئی مسجد کی تعمیر بہتر ہے۔اور اگر گوردوارہ وقف نہ ہو سکے تو پہلی صورت پر ہی عمل کیا جائے۔
وباللہ التوفیق


 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
Malik Khalid Mehmood Talokar

7 جنوری 10:12 ﺷﺎﻡ


Bhi jaan masjid nabavi ya makkah mukarmah main main namaz ky duran koi hadami hagy say guzar jay kya durost ha quran or hadees ka hawalay say maslah batain bhi

بھائی جان مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا مسجد الحرام میں نماز کے دوران کوئی آدمی نمازی کے آگے سے گزر جائے کیا درست ہے - قرآن و حدیث کی حوالے سے مسلہ بتائے -

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
سُترہ کے احکام
نماز دین اسلا م کا اہم ترین رکن ہے اور اس کی بجاآوری کے لئے بہت سے احکامات کی پابندی ضروری ہے۔
لیکن اکثر نمازی یا تو ان سے غافل ہیں یا سستی کا شکار ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ ’’سترہ‘‘ کا بھی ہے کہ جس کے بارہ میں
لوگ افراط یاتفریط کا شکار ہیں یعنی کچھ تو سترہ کو فرض و واجب قرار دے کر بغیرسترہ پڑھی جانے والی نماز کے بطلان کے قائلین ہیں ،
جبکہ دیگر سترہ کی عدم فرضیت کا اعتقاد رکھنے کی بناءپر سترہ کو اہمیت دینے سے قاصرہیں جس کے نتیجہ میں ان کی اکثر نمازیں سترہ کے بغیر ادا ہوتی ہیں ،
جو کہ خلاف سنت ہے۔ذیل میں ہم ان دلائل کو پیش کر یں گے جن کے ذریعہ سے حق بات کا علم ہو سکے کہ سترہ رکھنا نمازی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
مگر یہ فرض یا واجب بھی نہیں کہ بغیر سترہ کے نماز ہی نہ ہو۔ بلکہ اگر کو ئی شخص کبھی سترہ کے بغیر نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر اس کو معمول بنانا خلاف سنت ہے۔
سترہ کی اہمیت سیدنا عبد اللہ بن عمر ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ؛ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ». ’’سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ انکا ر کر دے تو اس سے لڑو کیونکہ اس کے ساتھ یقیناً شیطان ہے ۔‘‘
[صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ إلی غیر سترۃ، (800)، صحیح مسلم (506)] ابوسعیدخدری ﷜ فر ماتے ہیں كہ رسول ﷺ نے فرمایا :
إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا». ’’جب تم میں سے کو ئی ایک نماز پڑھے تو وہ ستر ے کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو۔‘‘
[سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، تفریع أبواب السترۃ، باب ما یؤمر المصلي أن یدرأ عن الممر بین یدیہ، (698)] قرہ بن ایاس کہتے ہیں کہ عمر ﷜ نے مجھے دو ستونوں کے درمیا ن نمازپڑھتے ہو ئے دیکھا تو مجھے پکڑ کر سترہ کے قریب کر دیا اور فرمایا: «صَلِّ إِلَيْهَا» ’’اس کی طرف نماز ادا کر ۔ ‘‘
[مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع والإمامۃ وأبواب متفرقۃ، باب من کان یکرہ الصلاۃ بین السواري، (7502)]
سیدنا انس ﷜بیان فرماتے ہیں:
«لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ المَغْرِبِ»، وَزَادَ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسٍ، حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» میں نے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف جلدی کر تے تھے [یعنی مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے لئے ان کو اپنا سترہ بناتے ۔(بخاری: 625)] [صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب الصلوۃ إلی الأسطوانۃ، (503)(481)] یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ «رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا». میں نے انس بن مالك ﷜ كو مسجد حرام میں د یكها كہ وه لاٹهی گاڑ كر اس كی طرف نماز اداكر رہے تھے ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب قدر کم یستر المصلي؟ (2853)] نافع ﷫ فرماتے ہیں: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلاً إلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ لِي : وَلِّنِي ظَهْرَك». عبداللہ بن عمر ﷜ جب مسجد کے ستون میں سے کسی ستون کی جانب کوئی جگہ نہ پاتے تو مجھے کہتے کہ میری طرف اپنی پشت کر دو ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب الرجل یستر الرجل إذاصلی إلیہ أم لا؟ (2878)]

مندرجہ با لا ادلہ سے معلوم ہوا کہ 1 رسول ﷺ نے بغیر سترہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
2 آپﷺ نے سترہ کا اہتمام کرنے کی تاکید فرمائی ہیں۔
3 اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم دیا ہے ۔ 4 صحابہ کرام ﷢ سترہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ۔ 5 کسی کو بغیر ستر ہ نماز پڑھتے دیکھ کر اس کو ستر ے کے قریب کر دیتے ۔ 6 مسجد میں بھی سترہ کا اہتما م فرماتے ۔ 7 دیوار یا ستون کے پیچھے جگہ نہ ملتی تو لاٹھی وغیرہ کا ستر ہ اپنے آگے رکھ لیتے۔ 8 اور اس کی عدم موجو دگی میں کسی شخص کو سترہ بنا کر نماز ادا کر تے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن سعودی عرب کے معتبر علماء کی مستقل کمیٹی برائے فتوی (اللجنۃ الدائمۃ ) نے فتوی دیا ہے کہ
نمازی کے آگے سے گزرنا حرام ہے ،لیکن مسجد حرام میں نمازی کے آگے گزرنے کو کئی فقہاء و علماء نے ایک حدیث کی بنا پر جائز قرار دیا ہے،
ذیل میں ان کا فتوی اور حدیث درج ہے
وسئل علماء اللجنة الدائمة للإفتاء : هل يجوز المرور بين يدي المصلي في المسجد؟
فأجابوا : يحرم المرور بين يدي المصلي ، سواء اتخذ سترة أم لا ، لعموم حديث : ( لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه ) واستثنى جماعة من الفقهاء من ذلك الصلاة بالمسجد الحرام ، فرخصوا للناس في المرور بين يدي المصلي ؛ لما روى كثير بن كثير بن المطلب عن أبيه عن جده قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حيال الحجر والناس يمرون بين يديه ، وفي رواية عن المطلب أنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من سبعه جاء حتى يحاذي الركن بينه وبين السقيفة فصلى ركعتين في حاشية المطاف وليس بينه وبين الطواف أحد . وهذا الحديث وإن كان ضعيف الإسناد غير أنه يعتضد بما ورد في ذلك من الآثار ، وبعموم أدلة رفع الحرج لأن في منع المرور بين يدي المصلي بالمسجد الحرام حرجا ومشقة غالبا " انتهى.
"فتاوى اللجنة الدائمة" (7/82

) .
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کیا بیت اللہ شریف میں سترہ کی ضرورت ہے یا نہیں ۔
شروع از بتاریخ : 15 May 2013 01:30 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بیت اللہ شریف میں نمازی کے آگے سے گذرنے کی رخصت ہے یا نہیں
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیت اللہ شریف می نمازی کے آگے سے گذرنا درست ہے۔ منتقیٰ میں حدیث ہے مطلب بن ابی وداعہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت اللہ میں) باب بنی سلم کی جانب سے یعنی حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے تھے اور لوگ آگے سے گذرتے تھے آپؐ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ شریف میں سترہ کا حکم نذہیں اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ وہاں ہر وقت طواف ہوتا اور ہر وقت نماز ہوتی ہے اور ہجوم رہتا ہے۔ اس لیے سترہ کا انتظام مشکل ہے۔ اور اس حدیث میں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن سب مذاہب کا تعامل اس کا مؤید ہے اور اس کے ساتھ مجبوری کو بھی شامل کر لیا جائے کہ ہجوم کی وجہ سے سترے کا انتظام وہاں مشکل ہے تو اس سے اور تقویت ہو جاتی ہے۔ پساس حدیث کی بنا پر بیت اللہ شریف سترے کے حکم سے مستثنیٰ ہو گا۔۔

جلد 3 ص 74

محدث فتویٰ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,561
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ -
رضاعت کے بارے میں معلومات چاھیے -
6 ماہ کے بعد پیدا ہونے والے بچہ جائز ہے یا ناجائز پلیز اس بارے میں کوئی دلیل ہو تو بتا دے - جزاک اللہ خیر
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
سورہ لقمان میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے
(۔۔وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا (لقمان آیت نمبر : ۱۵ )
ترجمہ :: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا، اور اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا کل عرصہ زمانہ تیس مہینے ہے )

اس آیت شریفہ کی تفسیر میں علامہ عبد الرحمن کیلانی ؒ فرماتے ہیں :

[٢١] رضاعت کی مدت شمار اور اس کے نتائج :۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ٢٣٣ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رضاعت کی پوری مدت دو سال ہے۔ البتہ اگر والدین کسی ضرورت کے تحت اس مدت میں کمی کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح سورۃ لقمان کی آیت نمبر ١٣ میں فرمایا کہ ماں کو دودھ چھڑانے میں دو سال لگ گئے۔ اور اس مقام پر فرمایا کہ حمل اور رضاعت کی مدت تیس ماہ ہے۔ ان سب آیات کو سامنے رکھنے سے درج ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے۔
(١) رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ اس میں کمی ہوسکتی ہے۔ زیادتی نہیں ۔ لہذا اگر کسی نے دو سال سے زیادہ عمر میں کسی عورت کا دودھ پی لیا ہو تو اس پر احکام رضاعت کا اطلاق نہ ہوگا یعنی وہ احکام جن کا نکاح سے تعلق ہے۔
(٢) حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہوجائے تو وہ موجودہ خاوند کا نہیں بلکہ کسی اور مرد کا بچہ ہوگا۔ زیادہ واضح الفاظ میں وہ لڑکا ولدالزنا ہوگا۔ اور اس کا وراثت سے بھی کچھ تعلق نہ ہوگا اور بچے کی ماں کو زنا کی حد پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ طبی تحقیقات کے مطابق حمل کی کم از کم مدت ٢٨ ہفتے قرار دی گئی ہے۔ اگر یہ تحقیق صحیح ہو تو بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے اس مسئلہ کے ہر دو پہلوؤں سے نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر اس مدت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے چھ ماہ کی مدت قرار دی ہے۔ چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہو تو والد یا عورت کا خاوند اس کے نسب سے انکار کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
١٥۔ ٢ فِصَا لہ،ُ کے معنی، دودھ چھڑانا ہیں ۔ اس سے بعض صحابہ نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ بچہ حلال ہی ہوگا، حرام نہیں ۔ اس لئے کہ قرآن نے مدت رضاعت دو سال (٢٤) مہینے بتلائی ہے، اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔ ‘‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اورڈاکٹر محمد لقمان سلفی تفسیر تیسیر الرحمن میں لکھتے ہیں :

شوکانی لکھتے ہیں، یہ آیت دلیل ہے کہ کم سے کم مدت حمل چھ ماہ ہے، اس لئے کہ کامل مدت ، رضاعت دو سال ہے،
جیسا کہ سورۃ البقرہ آیت (٣٣) میں آیا ہے : (حولین کاملین لمن ارادان یتم الرضاعۃ)’’ جو شخص مدت رضاعت پوری کرنی چاہے وہ جان لے کہ اس کی مدت دو سال ہے‘‘ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کم از کم مدت حمل اور کامل مدت رضاعت بیان کی ے۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہی رائے عثمان، علی اور کئی دیگر صحابہ کرام کی ہے۔الخ

اور علامہ شوکانی ؒ کے الفاظ درج ذیل ہیں :

وحمله وفصاله ثلاثون شهرا أي: مدتهما هذه المدة من عند ابتداء حمله إلى أن يفصل من الرضاع، أي: يفطم عنه، وقد استدل بهذه الآية على أن أقل الحمل ستة أشهر لأن مدة الرضاع سنتان، أي: مدة الرضاع الكامل، كما في قوله: حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة «2»
فذكر سبحانه في هذه الآية أقل مدة الحمل، وأكثر مدة الرضاع. ۔۔۔۔۔۔۔الخ
 
Top