یعنی ایک تولہ آج تقریبا پچاس ہزار کا ہے آج ایک تولہ قرضہ دے دیا جائے اور کل کو لوٹانے پر اس ایک تولے سونے کی قیمت ستر ہزار ہو جائے تو لوٹانے والا بیس ہزار زیادہ دے گا۔تو کیا یہ زیادتی کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
آپ غور کریں ایک سوچنے کا انداز وہ ہے جیسے آپ سوچ رہے ہیں کہ سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ایک سوچنے کا انداز یہ ہے کہ سونے کی قیمت نہیں بڑھی بلکہ روپے کی قیمت یا قوت خرید یا ویلیو کم ہو گئی ہے۔
اس پر آپ کو ایک لطیفہ سناؤں کہ مصر میں ایک عدالت میں ایک خاتون نے اپنے شوہر سے علیحدگی پر حق مہر کا دعوی دائر کیا اور جیسا کہ عدالتوں میں ہوتا ہے اس مقدمہ میں فیصلہ ہونے میں ١٥ سال لگ گئے۔ جب خاتون نے دعوی دائر کیا تھا تو اس وقت تو اس حق مہر کی ویلیو کافی تھی لیکن جب اسے ادا ہوا یعنی ١٥ سال بعد تو وہ اس حق مہر سے رکشے کا کرایہ ادا کر کے گھر پہنچ گئی۔ پیسے یا کرنسی کی قیمت بھی تو بہت تیزی سے گرتی ہے۔ جن ممالک کی کرنسیاں مضبوط ہوتی ہیں جیسا کہ ڈالر اور یورو تو ان کے ہاں سونے کی قیمت میں اس قدرغیر معمولی اتار چڑھاو بھی نہیں ہوتا ہے۔
یہ بات بھی ہے کہ کسی شخص کو کسی نے مجبور تو نہیں کیا ہے کہ وہ سونا ہی بطور قرض لے وہ کرنسی میں بھی قرض لے سکتا ہے لیکن کرنسی میں قرض لینے کی صورت میں قرض دینے والے کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ دو، چار یا دس سال بعد اس کرنسی کی تعداد تو اتنی ہی ہوتی ہے لیکن اس کی ویلیو اتنی نہیں ہوتی ہے مثلا آپ نے کسی شخص کو ایک لاکھ روپیہ دس سال پہلے قرض دیا تھا اور اگر آج وہ آپ کو لوٹاتا ہے تو آپ کا نقصان ہے کیونکہ آج ایک لاکھ میں وہ چیزیں نہیں ملتی ہیں جو دس سال پہلے ملتی تھیں۔
پس قرض دینے والے اپنے آپ کو اس نقصان سے بچانے کے لیے سونے میں قرض دیتا ہے اور قرض لینے والا کرنسی میں لینا چاہتا ہے۔
ایک درمیانی راہ میرے خیال میں یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سونے کی بجائے کسی ایسی کرنسی کو معیار بنا لیا جائے جس کی قدر مستحکم رہتی ہو اور اس میں سونے کی طرح زیادہ اتار چڑھاو بھی نہ ہو جیسا کہ ڈالر یا یورو وغیرہ ہیں۔