• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کاروائی۔

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,005
پوائنٹ
436
سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کاروائی
سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی کاروائی پر رسول اللہ ﷺ کی خاموشی کو بھی ایسی اہمیت حاصل ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر رحمت عالم ﷺ نے کفار کی شرائط مان کر جو صلح کر لی تھی، حقیقت میں اللہ کی بہت بڑی مصلحتیں اس میں پنہاں تھیں۔ کفار کے چنگل سے بچ کر مدینہ منورہ پہنچنے والے صحابی رسول جناب سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو جب حسب وعدہ واپس کیا گیا تو انہوں نے ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچ کر ایک کافر کو قتل کر دیا، اور دوسرا بھاگ کر مدینہ طیبہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس چلا گیا۔ سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے پیچھے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار دیکھ کر سمجھ گئے کہ اگر پھر میری طلب میں کوئی پہنچا تو مجھے واپس کر دیا جائے گا۔ اس نئے المیہ سے بچنے کے لئے وہاں سے نکل کر جدہ اور ینبع والی پٹی پر ڈیرہ ڈال دیا۔ ادھر مظلوم و محصور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جس کو بھی موقع ملتا وہ بھاگ کر سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی جمعیت میں شامل ہو جاتا۔

اس ہلکی سی جماعت نے کفار مکہ کے تجارتی قافلوں کو اپنا ہدف بنانا شروع کیا، اور قریش کی تجارت پر ایک کاری ضرب لگائی۔ آخر کار انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بھیج کر سوال کیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس بلائیے، اور ہمارے راستہ کو محفوظ بنا دیجیے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے پاس مدینہ طیبہ بلا لیا۔

ان کے اس طرزِ عمل پر رسول اللہ ﷺ کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ جب مسلمان حکمران معاہدوں کے بندھن سے مجبور ہوں، اور عوام اور غیور نوجوان کسی طرح بھی کفار سے ناموس رسالت، مسلمانوں پر ظلم اور مقدسات و شعائر اسلامیہ کے تمسخر کا انتقام لینا چاہیں؛ اور وہ حقیقت میں اپنا کردار ادا بھی کر سکتے ہوں تو مسلمان حکمران کو ان کے ساتھ تعرض نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا بالکل درست، شرعاً جائز اور دشمن کو اس کی حرکات پر سبق پڑھانے کا ایک شرعی وسیلہ ہے۔ کیونکہ ہمیں دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہر جائز وسیلہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۰ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۰ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۰ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (سورۃ الانفال:60)
اور جہاں تک ہو سکے ان کے لئے قوت تیار کر رکھو، اور گھوڑے کہ ان سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا لوگوں پر جنہیں تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے، ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرہ برابر نقصان نہیں کیا جائے گا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قوت کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ اسے بالکل عام رکھا ہے کہ جس وقت جو قوت درکار ہو اسے بروئےکار لایا جائے۔

کتاب شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا سے خوشہ چینی
تالیف: پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی فاضل اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ۔
ناشر مکتبہ قدوسیہ
 
Top