• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کتمان حدیث کا الزام

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,006
پوائنٹ
97
(محمد حسین میمن)

امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں حدیث ذکر فرماتے ہیں:
''عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال: حفظت من رسول اللہ وعاءین فاما احدھما فبثثتہ، واما الاٰخر فلو فبثثتہ قطع ھذا لبلعوم''(رواہ البخاری، کتاب العلم، رقم الحدیث: ۱۴۰)
''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو برتن یاد رکھے ہیں۔ ایک کو تو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا اور اگر دوسرے کو میں پھیلاؤں تو یہ حلق کاٹ دیا جائے گا۔''
بخاری کی اس حدیث سے اعتراض کرنے والوں نے بغیر فہم کے اعتراض کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ذمے لگا دیا کہ وہ دوسرا جس برتن کا ذکر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کیا اسے بغیر بتائے دنیا سے چلے گئے ۔ گویا کتمانِ حدیث کا الزام ان پر عائد کیا جا رہا ہے جو کہ صرف الزام اور تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی کسی حدیث کو نہیں چھپایا۔ بلکہ انہوں نے جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا بعین امت تک پہنچا دیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امت میں کسی فتنے اور شر و فساد کی صورت کو برداشت نہیں کرتے تھے ، اور انہیں اس بات کا بھی ڈر لا حق تھا کہ اگر میں اس راز کو فاش کرتا ہوں تو میری بات کو کوئی تسلیم نہ کرے گا۔ لہٰذا اس فتنے سے بچنے کے لیے انہوں نے اس حدیث کے ایک ٹکڑے کو حکمت کے تحت لوگوں کو نہ سنایا۔ لیکن مبہم الفاظوں میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کو حکمتوں کے ساتھ واضح بھی کر دیا۔ کیونکہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہوئے راقم ہیں:
''اعوذباللہ من راٴس الستین وامارة الصبیان یشیر الی خلافة یزید بن معاویة لانھا کانت ستین من الھجرة، استجاب اللہ دعاء ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ فما قبلھا بسنة'' (فتح الباری، ج:۱، ص:۱۹۷)
''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا ساٹھ ہجری اور چھوکروں کی امارت سے یہ اشارہ ہے یزید بن معاویہ کی خلافت کا جو کہ ساٹھ ہجری میں قائم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا کو قبول فرمایا کہ وہ ایک سال قبل ہی دینا سے رخصت ہوگئے۔''
یہ اس مسئلے پر واضح دلیل ہے کہ وہ پیالہ جس کے بارے میں انہوں نے انکشاف سے کنارہ کشی کی وہ کچھ چھوکروں کی خلافت کی تھی کہ وہ اگر حکمت کو نہ استعمال کرتے تو انہیں قتل کر دیا جاتا۔
انور شاہ کشمیری فیض الباری میں رقمطراز ہیں:
''۔۔۔ والعلم اخر انما لم یبثہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لانہ لان یتعلق بالفتن واسماء امراء الجور۔'' (فیض الباری، ج:۱، ص۳۰۷)
''اور دوسری قسم کا جو علم تھا اس کا تعلق فتنوں اور ظالم حکمرانوں سے تعلق رکھتا ہے۔''
یعنی اس علم کا تعلق کسی شرعی احکام سے متمسک نہیں تھا بلکہ کچھ لوگوں کے نام تھے اور اس کا تعلق سیاست ارو امراء کے ناموں کے ساتھ خاص تھا۔
 
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,006
پوائنٹ
97
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
'' ان ھذا الذی کتمہ لیس من امر الشریعة، فانہ لا یجوز کتمانھا ، وقد کان ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یقول: لو لا ایة فی کتاب اللہ ما حدثتکم ، وھی قولہ: ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی، الایة، فکیف یظن بہ لانہ یکتم شیئا من الشریعة بعد ھذہ الایة وبعد امر رسول اللہ ﷺ ان یبلغ عنہ۔۔۔ وانما ھذا المکتوم مثل ان یقول: فلان منافق ستقتلون عثمان، وھلاک امتی علی یدی اغلیمة من قریش بنو فلان فلو صرح باسمائہم لکذبوہ وقتلوہ۔'' (کشف المشکل، ج:۱، ص۱۱۹)
''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس مسئلہ کا چھپانہ کسی شریعت کے حکم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا، کیونکہ شریعت کا چھپانا جائز نہیں ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود فرمایا کرتے تھے اگر کتاب اللہ میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں کبھی حدیث بیان نہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''یقیناً جو لوگ چھپاتے ہیں جو ہم نے اترا دلائل اور ہدایت۔۔''(البقرہ:۱۵۹) تو پھر کس طرح سے یہ گمان کیا جائے کہ اس آیت کے بعد انہوں نے کسی شریعی مسئلے کو چھپایا؟ اور اس کے بعد کہ جب رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم ہے کہ آپ ﷺ کی حدیث کو پہنچایا جائے۔۔۔ بات یہ ہے کہ جس علم کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے چھپایا وہ اس طرح سے ہوگا کہ فلاں منافق ہے، عنقریب عثمان قتل کر دیئے جائیں گے یا میری امت کی ہلاکت کچھ قریش کے چھوکروں کے سبب ہوگی۔ پس اگر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی صراحت کر دیتے تو ان کو جھٹلایا جاتا اور ان کو قتل کر دیا جاتا۔ ''
نواب صدیق حسن خان القنوجی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس علم کا تعلق ظالم حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ ہے۔ دیکھیے عون الباری ، ج۱، ص۴۳۶-۴۳۷۔
امام ابن کثیر رحٕمہ اللہ نے اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
''وھذا الوعاء الذی کان لا یتظاہر بہ ھوالفتن والملاحم ما وضع بین الناس من الحروب والقتال وما یسقع التی لو اخبربھا قبل کونھا لبادر کثیر من الناس الی تکذیبہ۔۔'' (البدایة والنھایة، ج:۸، ص:۱۵۴)
''۔۔۔ اور جس برتن کو آپ ظاہر نہیں کرتے فرماتے تھے وہ فتنوں ، جنگوں اور لوگوں کے درمیان ہونے والے معرکوں اور قتال اور عنقریب ہونے والے واقعات کا برتن تھا۔ اگر آپ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) ان کے متعلق بتاتے تو بہت سے لوگ آپ کی تکذیب میں جلد بازی سے کام لیتے اور آپ کی سچی باتوں کو رد کر دیتے ۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم کو بتاؤں کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے اور باہم تلواروں سے جنگ کرو گے تو تم میری تصدیق نہ کرتے اور اس حدیث سے ہوس پرست، باطل بدعات اور فاسد اعمال والے تمسک کرتے ہیں اور اسے اس برتن کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جیسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان نہیں کیا اور وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ جس بات پر قائم ہیں وہ اس برتن میں تھی جس کے متعلق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نہیں بتایا تھا اور ہر باطل پرست اپنے اقوال کے تضاد کے باوجود اسی بات کا ادعا کرتا ہے حالانکہ وہ سب جھوٹے ہیں۔ پس اگر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نہیں بتایا تو آپ کے بعد اسے کس نے معلوم کیا ہے؟ اس پر صرف کچھ فتنوں اور جنگوں کا ذکر تھا۔ جیسا کہ ان کے متعلق انہوں نے اور دیگر صحابہ نے بتایا ہے ان میں سے کچھ ہم بیان کر چکے ہیں اور کچھ ہم کتاب الفتن میں عنقریب بیان کریں گے۔ ''
ان تمام اقوال اور تصریحات سے واضح ہوا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی دینی حکم کو نہیں چھپایا بلکہ اس کا تعلق امراء سے تھا ۔ لہٰذا ان پر کتمان کا الزام سراسر باطل ٹھہرا۔ الحمدللہ
 
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,006
پوائنٹ
97
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر جتنی احادیث ان کو اذبر تھیں انہوں نے وباللہ توفیق سب کی سب من و عن امت تک پہنچا دیں اور رسول اللہ ﷺ کی بشارت کے مصداق ٹھہرے کہ اللہ اس کا چہرہ ہر ابھر ارکھے جو ہماری بات سن کے لوگوں سے بیان کرے۔۔۔ اے اللہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہوں اور میرا حشر بھی انہیں کے ساتھ کرنا۔ آمین یا رب العالمین۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیرت کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے ان کتب کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔
۱۔ تاریخ اسلام للذھبی ، ج:۳، ص:۵۱۳۔
۲۔ مسند احمد بن حنبل ۴۴۸/۴
۳۔ طبقات الخلیفة ۱۱۴۔
۴۔ تاریخ الخلیفة ۴۴۵۔
۵۔ اخبار القضاءللوکیع ۱۱۱/۱
۶۔ البرصان والعرجان ۷۹
۷۔ مقدمة مسند بقی بن مخلد ۹، رقم:۱
۸۔ ترتیب الثقات للعجلی رقم ۴۰۶۱
۹۔ حلیة الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی رقم: ۸۵
۱۰۔ تاریخ ابن معین ۷۴۹
۱۱۔ مروج الذھب ۱۴۱۳
۱۲۔ العقدالفریر ۹۵۱۷
۱۳۔ المستدرک ۵۰۶/۳
۱۴۔ الاستبصار ۴۹۱
۱۵۔ فتوح الشام للازدی ۱۲
۱۶۔ التذکرة الحمدوینة ۱/۱۳۷، ۴۲۶
۱۷۔ الکامل ۳/۱۴
۱۸۔ اسد الغابة ۵/۳۱۵
۱۹۔ تہذیب الاسماء واللغات ۱/۲۷۰ رقم ۴۳۲
۲۰۔ وفیات الاعیان ۲/۲۴۲
۲۱۔ مشاہیر علماء الامصار رقم ۴۲
۲۲۔ تاریخ ابی ذرعة ۲/۱۰۲۴
۲۳۔ الکنی والاسماء للدولابی ۱/۲۱
۲۴۔ الاستیعاب ۴/۲۰۲
۲۵۔ تحفة الاشراف ۹/۲۹۲
۲۶۔ تہذیب الکمال ۳/۱۲۵۴
۲۷۔ الوفیات لابن قنفذ ۷۱
۲۸۔ العبر للذھبی ۱/۲۳
۲۹۔ الکاشف ۳/۳۴۱
۳۰۔ مراة الجنان ۱/۱۳۰
۳۱۔ غایة النھایة رقم ۱۵۷۴
۳۲۔ الاصابة رقم ۱۱۹۰
۳۳۔ تہذیب التھذیب رقم ۱۲۱۶
۳۴۔ طبقات الحفاظ ۹
۳۵۔ شذرات الذھب ۱/۲۳
 
Top