ابو عکاشہ
مشہور رکن
- شمولیت
- ستمبر 30، 2011
- پیغامات
- 412
- ری ایکشن اسکور
- 1,492
- پوائنٹ
- 150
سیدنا عمیر بن وھب رضی اللہ عنہ و ارضاہ کے ایمان لانے کا قصہ
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔عمیر بن وہب غزوہ بدر کے چند ہی دنوں کے بعد صفوان بن امیہ کے ساتھ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ عمیر قریش کے انتہائی خبیث طینت انسانوں میں سے تھے اور انہوں نے رسول اﷲ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بیحد اذیتیں پہنچائی تھیں اور مکہ کے قیام کے زمانہ میں ان کی وجہ سے بڑی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ انکا بیٹا
وہب بن عمیر بدر کے قیدیوں میں گرفتار ہوا تھا ۔
یہ آپس میں جنگ بدر کا تذکرہ کر رہے تھے جس میں ان کے ستر (70)آدمی قتل کر کے کنویں میں ڈالے گئے تھے اور جن کو مصیبت پہنچائی گئی تھی ۔صفوان نے کہا اللہ کی قسم ان مقتولین کے بعد اب زندگی تلخ ہے ۔عمیر نے کہا بیشک تم صحیح کہتے ہو ، اگر مجھ پر ایسا قرضہ نہ ہوتا جس کی ادائیگی کا فی الحال میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں ، نیز اپنے پیچھے بال بچوں کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ابھی میں سوار ہو کر محمد (ﷺ) کے پاس جاتا اور اس کو (نعوذ باﷲ ) قتل کر دیتا ، میری تو وہاں جانے کی ایک معقول وجہ ہے اس لئے کہ میرا بیٹا ان کے ہاں قید ہے ۔
صفوان بن امیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہا تمہارے قرضہ کی ادائیگی کل کی میرے ذمہ ہے اور تمہارے بال بچوں کی پرورش میرے بال بچوں کے ساتھ ہو گی ۔میں ان کی اس وقت تک پرورش کروں گا جب تک وہ زندہ رہیں گے اور اُس وقت تک میں ان کی پرورش سے عاجز نہ آؤں گا ۔عمیر نے کہا اچھا اس راز کو اپنے اور میرے درمیان پوشیدہ رکھنا ۔صفوان نے کہا ایسا ہی کروں گا ۔
عمیر نے اپنی تلوار کے تیز کئے جانے اور زہر میں بجھائے جانیکا حکم دیا ۔ چنانچہ تلوا رہر آلود کی گئی اور یہ وہاں سے مدینہ آگیا اور ادھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ چند مسلمانوں میں بیٹھے ہوئے غزوہ بدر کا تذکرہ کر رہے تھے اور اﷲ پاک کی نوازش اور اس کی کرم فرمائی کا اور اپنے دشمنوں پر فتح یابی کو جو اﷲ نے دکھلایا اس کا تذکرہ چھیڑ رکھا تھا ۔
اچانک سیدناعمر رضی اﷲ عنہ کی نظر عمیر بن وہب پر پڑی جس نے مسجد نبوی کے سامنے اونٹنی بٹھائی تھی اور تلوار کاندھے میں پڑی ہوئی تھی کہا یہ کتا خدا کا دشمن عمیر بن وہب شرو فساد کے لئے آیا ہے ۔یہ وہی ہے جس نے یوم بدر میں لڑائی کی آگ بھڑکائی تھی اور ہمارے لئے قوم کو جمع کیا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے اسی وقت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اﷲ کے نبی ! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب تلوار لٹکائے ہوئے آگیا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ۔اسکو میرے پاس لے آؤ ۔چنانچہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور عمیر کی تلوار کے پر تلے کو اس کی گردن میں ہی دے کر پکڑا اور انصاری ساتھیوں سے کہا کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس چل کر بیٹھ جاؤ اور اس خبیث سے رسول اللہ ﷺ کی پوری حفاظت رکھو ۔مجھے اس کی طرف سے اطمینان نہیں ۔اس کے بعد سیدناعمر رضی اﷲ عنہ ،عمیر کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسی طرح حاضرہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا اے عمر ! اسے چھوڑ دو اور عمیر سے کہا قریب آکر بیٹھو ۔چنانچہ عمیر قریب بیٹھا ۔اورکہا انعم صبا حا یعنی صبح بخیر باد، سلام جاہلیت یہی تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اﷲ پاک نے ہم کو ایک ایسے سلام کے ساتھ نوازا ہے ۔ اے عمیر !وہ تمہارے سلام سے بدر جہا بہتر ہے اور وہ سلام اہل جنت کا سلام ہے ۔عمیر نے کہا اللہ کی قسم اے محمد ! میرے لئے تو یہ ایک نئی بات ہے ۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ۔اے عمیر کس غرض سے آنا ہوا۔ عمیر نے کہا میں تو اپنے اس قیدی کے لئے آیا ہوں جو آپ کے یہاں گرفتار ہے کہ آپ اُس کے بارے میں احسان اور کرم کریں۔
آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ۔ پھر یہ تلوار گلے میں کیسی ہے ؟
عمیر نے کہا خدا ان تلواروں کا برا کرے ۔ ان سے پہلے کیا فائدہ ہوا؟
آپ ﷺ نے کہا صاف صاف کہو کس ارادہ سے آنا ہوا ہے ؟عمیر نے کہا کہ محض یہی غرض تھی جو عرض کی آپ ﷺ نے فرمایا ۔ نہیں نہیں
تم اور صفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر قریش کے ان ستر آدمیوں کا جو بدر کے کنویں میں ڈالے گئے تھے ذکر کیا تھا تو تو نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مجھ پر قرض اور بال بچوں کی فکر نہ ہوتی تو میں یہاں سے جا کر محمد (ﷺ)کو قتل کر دیتا ۔(نعوذ باﷲ))
صفوان بن امیہ نے تمہارے قرضہ اور بال بچوں کی ذمہ داری لی تھی ۔اس وجہ سے کہ تم مجھے قتل کر دو اور اللہ تمہارے اور تمہارے اس ارادے کے درمیان حائل ہے ۔
یہ سنتے ہی عمیر نے گواہی دی کہ بیشک آپ اﷲ کے رسول ہیں اور اس کے بعد کہا یا رسول اﷲ ﷺ آپ جو چیز ہمارے سامنے آسمان کی خبروں سے لاتے تھے اور جو کچھ آپ پر وحی اترتی تھی ہم ان سب کی تکذیب کیا کرتے تھے اور یہ تو ایک ایسا قصہ ہے کہ جس میں سوائے میرے اور صفوان کے کوئی موجود نہیں تھا۔ پس اللہ کی قسم مجھے یقین آ گیا کہ اس بات کی اطلاع دینے والا آپ کو سوائے اﷲ کے اور کوئی نہیں ۔ اس اﷲ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اور اس کیلئے حمد و ثناء ہے جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ۔ اور مجھے اس راستے پر لگا یا اس کے بعد سچے دل سے حق کی شہادت دی ۔
رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ) فرمایا اپنے بھائی عمیر کو دین کی باتیں سکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم دو اور ان کے قیدی کو چھوڑ دو ، چنانچہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے ایسا ہی کیا ۔
سیدنا عمیر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ میں نے اﷲ کے نور کے بھجانے میں انتہائی کوشش کی تھی اور جو لوگ اﷲ کے دین پر تھے ۔انہیں نے بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔میں پسند کرتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جا کر لوگوں کو اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلاؤں اور اسلام کی دعوت دوں ۔ شاید اﷲ پاک اہل مکہ کو ہدایت دے اور اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو میں ان دین کے بارے میں ایذار سانی میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا ۔جس طرح میں نے آپ کے اصحاب کو ان کے دین کے بارے میں تکلیفیں پہنچائیں۔ رسول اﷲ ﷺ نے انہیں اجازت دیدی اور یہ مکہ پہنچ گئے
ادھر صفوان نے انکے مکہ سے نکلنے کے بعد ہی ڈھول پیٹ دیا کہ اے لوگو ! چند ہی دنوں کی بات ہے تم لوگوں کے پاس ایک ایسی بشارت آنے والی ہے جو تمہیں بدر کی ساری مصیبتیں بھلا دے گی اور صفوان آنے والے سواروں سے عمیر کی خبر پوچھا کرتاتھا ۔ ایک دن ایک سوار نے عمیر کے اسلام کی خبر سنائی صفوان نے قسم کھالی کہ عمیر سے زندگی بھر بات نہ کروں گا اور کبھی عمیر کو میری جانب سے نفع نہ پہنچے گا۔
جب سیدنا عمیر رضی اﷲ عنہ مکہ واپس تشریف لائے، اسلام کی دعوت و تبلیغ میں لگ گئے اور جس نے اس بارے میں ان کی مخالفت کی اسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، چنانچہ ان کی کوششوں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے ۔
مصدر : السيرة النبوية لابن هشام » غزوة بدر الكبرى » إسلام عمير بن وهب ،
ھیثمی نے مجمع الزوائد 8/287 میں مرسل جید اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے
یہ آپس میں جنگ بدر کا تذکرہ کر رہے تھے جس میں ان کے ستر (70)آدمی قتل کر کے کنویں میں ڈالے گئے تھے اور جن کو مصیبت پہنچائی گئی تھی ۔صفوان نے کہا اللہ کی قسم ان مقتولین کے بعد اب زندگی تلخ ہے ۔عمیر نے کہا بیشک تم صحیح کہتے ہو ، اگر مجھ پر ایسا قرضہ نہ ہوتا جس کی ادائیگی کا فی الحال میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں ، نیز اپنے پیچھے بال بچوں کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو ابھی میں سوار ہو کر محمد (ﷺ) کے پاس جاتا اور اس کو (نعوذ باﷲ ) قتل کر دیتا ، میری تو وہاں جانے کی ایک معقول وجہ ہے اس لئے کہ میرا بیٹا ان کے ہاں قید ہے ۔
صفوان بن امیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہا تمہارے قرضہ کی ادائیگی کل کی میرے ذمہ ہے اور تمہارے بال بچوں کی پرورش میرے بال بچوں کے ساتھ ہو گی ۔میں ان کی اس وقت تک پرورش کروں گا جب تک وہ زندہ رہیں گے اور اُس وقت تک میں ان کی پرورش سے عاجز نہ آؤں گا ۔عمیر نے کہا اچھا اس راز کو اپنے اور میرے درمیان پوشیدہ رکھنا ۔صفوان نے کہا ایسا ہی کروں گا ۔
عمیر نے اپنی تلوار کے تیز کئے جانے اور زہر میں بجھائے جانیکا حکم دیا ۔ چنانچہ تلوا رہر آلود کی گئی اور یہ وہاں سے مدینہ آگیا اور ادھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ چند مسلمانوں میں بیٹھے ہوئے غزوہ بدر کا تذکرہ کر رہے تھے اور اﷲ پاک کی نوازش اور اس کی کرم فرمائی کا اور اپنے دشمنوں پر فتح یابی کو جو اﷲ نے دکھلایا اس کا تذکرہ چھیڑ رکھا تھا ۔
اچانک سیدناعمر رضی اﷲ عنہ کی نظر عمیر بن وہب پر پڑی جس نے مسجد نبوی کے سامنے اونٹنی بٹھائی تھی اور تلوار کاندھے میں پڑی ہوئی تھی کہا یہ کتا خدا کا دشمن عمیر بن وہب شرو فساد کے لئے آیا ہے ۔یہ وہی ہے جس نے یوم بدر میں لڑائی کی آگ بھڑکائی تھی اور ہمارے لئے قوم کو جمع کیا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے اسی وقت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اﷲ کے نبی ! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب تلوار لٹکائے ہوئے آگیا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ۔اسکو میرے پاس لے آؤ ۔چنانچہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور عمیر کی تلوار کے پر تلے کو اس کی گردن میں ہی دے کر پکڑا اور انصاری ساتھیوں سے کہا کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس چل کر بیٹھ جاؤ اور اس خبیث سے رسول اللہ ﷺ کی پوری حفاظت رکھو ۔مجھے اس کی طرف سے اطمینان نہیں ۔اس کے بعد سیدناعمر رضی اﷲ عنہ ،عمیر کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسی طرح حاضرہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا اے عمر ! اسے چھوڑ دو اور عمیر سے کہا قریب آکر بیٹھو ۔چنانچہ عمیر قریب بیٹھا ۔اورکہا انعم صبا حا یعنی صبح بخیر باد، سلام جاہلیت یہی تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اﷲ پاک نے ہم کو ایک ایسے سلام کے ساتھ نوازا ہے ۔ اے عمیر !وہ تمہارے سلام سے بدر جہا بہتر ہے اور وہ سلام اہل جنت کا سلام ہے ۔عمیر نے کہا اللہ کی قسم اے محمد ! میرے لئے تو یہ ایک نئی بات ہے ۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ۔اے عمیر کس غرض سے آنا ہوا۔ عمیر نے کہا میں تو اپنے اس قیدی کے لئے آیا ہوں جو آپ کے یہاں گرفتار ہے کہ آپ اُس کے بارے میں احسان اور کرم کریں۔
آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ۔ پھر یہ تلوار گلے میں کیسی ہے ؟
عمیر نے کہا خدا ان تلواروں کا برا کرے ۔ ان سے پہلے کیا فائدہ ہوا؟
آپ ﷺ نے کہا صاف صاف کہو کس ارادہ سے آنا ہوا ہے ؟عمیر نے کہا کہ محض یہی غرض تھی جو عرض کی آپ ﷺ نے فرمایا ۔ نہیں نہیں
تم اور صفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر قریش کے ان ستر آدمیوں کا جو بدر کے کنویں میں ڈالے گئے تھے ذکر کیا تھا تو تو نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مجھ پر قرض اور بال بچوں کی فکر نہ ہوتی تو میں یہاں سے جا کر محمد (ﷺ)کو قتل کر دیتا ۔(نعوذ باﷲ))
صفوان بن امیہ نے تمہارے قرضہ اور بال بچوں کی ذمہ داری لی تھی ۔اس وجہ سے کہ تم مجھے قتل کر دو اور اللہ تمہارے اور تمہارے اس ارادے کے درمیان حائل ہے ۔
یہ سنتے ہی عمیر نے گواہی دی کہ بیشک آپ اﷲ کے رسول ہیں اور اس کے بعد کہا یا رسول اﷲ ﷺ آپ جو چیز ہمارے سامنے آسمان کی خبروں سے لاتے تھے اور جو کچھ آپ پر وحی اترتی تھی ہم ان سب کی تکذیب کیا کرتے تھے اور یہ تو ایک ایسا قصہ ہے کہ جس میں سوائے میرے اور صفوان کے کوئی موجود نہیں تھا۔ پس اللہ کی قسم مجھے یقین آ گیا کہ اس بات کی اطلاع دینے والا آپ کو سوائے اﷲ کے اور کوئی نہیں ۔ اس اﷲ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اور اس کیلئے حمد و ثناء ہے جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ۔ اور مجھے اس راستے پر لگا یا اس کے بعد سچے دل سے حق کی شہادت دی ۔
رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ) فرمایا اپنے بھائی عمیر کو دین کی باتیں سکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم دو اور ان کے قیدی کو چھوڑ دو ، چنانچہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے ایسا ہی کیا ۔
سیدنا عمیر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ میں نے اﷲ کے نور کے بھجانے میں انتہائی کوشش کی تھی اور جو لوگ اﷲ کے دین پر تھے ۔انہیں نے بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔میں پسند کرتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جا کر لوگوں کو اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلاؤں اور اسلام کی دعوت دوں ۔ شاید اﷲ پاک اہل مکہ کو ہدایت دے اور اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو میں ان دین کے بارے میں ایذار سانی میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا ۔جس طرح میں نے آپ کے اصحاب کو ان کے دین کے بارے میں تکلیفیں پہنچائیں۔ رسول اﷲ ﷺ نے انہیں اجازت دیدی اور یہ مکہ پہنچ گئے
ادھر صفوان نے انکے مکہ سے نکلنے کے بعد ہی ڈھول پیٹ دیا کہ اے لوگو ! چند ہی دنوں کی بات ہے تم لوگوں کے پاس ایک ایسی بشارت آنے والی ہے جو تمہیں بدر کی ساری مصیبتیں بھلا دے گی اور صفوان آنے والے سواروں سے عمیر کی خبر پوچھا کرتاتھا ۔ ایک دن ایک سوار نے عمیر کے اسلام کی خبر سنائی صفوان نے قسم کھالی کہ عمیر سے زندگی بھر بات نہ کروں گا اور کبھی عمیر کو میری جانب سے نفع نہ پہنچے گا۔
جب سیدنا عمیر رضی اﷲ عنہ مکہ واپس تشریف لائے، اسلام کی دعوت و تبلیغ میں لگ گئے اور جس نے اس بارے میں ان کی مخالفت کی اسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، چنانچہ ان کی کوششوں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے ۔
مصدر : السيرة النبوية لابن هشام » غزوة بدر الكبرى » إسلام عمير بن وهب ،
ھیثمی نے مجمع الزوائد 8/287 میں مرسل جید اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے