• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شبِ برات احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ اس موضوع پر ڈاکٹر فرحت ھاشمی صاحبہ حفظھا اللہ تعالی کا بھترین لیکچر بھی سماعت فرماے
Dr.Farhat Hashmi - Sha&[URL=http://www.kitabosunnat.com/forum/usertag.php?do=list&action=hash&hash=39]#39aban Ki Haqeeqat - Part 2 of 5. - YouTube[/url]
Dr.Farhat Hashmi - Sha&[URL=http://www.kitabosunnat.com/forum/usertag.php?do=list&action=hash&hash=39]#39aban Ki Haqeeqat - Part 3 of 5. - YouTube[/url]
 
شمولیت
ستمبر 11، 2013
پیغامات
11
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
63
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جزاکم اللہ خیرا
مجھ سے حال ہی میں ایک صاحب نے مطالبہ کیا تھا کہ پندرہ شعبان کے تعلق سے کچھ لکھیں، لیکن تنہائی اور کتابوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کو مفصل جواب نہ دے سکا۔ اور مختصرا موضوع روایتوں کا حوالہ دے کر چلتا کیا۔ لیکن اس مفصل بحث کو پڑھ کر بہت سے حقائق سامنے آئے۔ ابھی رفیق طاہر صاحب کی تحقیق کا مطالعہ نہیں کیا ہوں، اگر ان کی بات درست ہے تب تو ٹھیک ہے، ورنہ شب برات کے متعلق واقعی ہم تفریط پر ہیں۔
اس لئے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں، رفیق طاہر صاحب کی تحقیق پڑھنے کے بعد ہی کچھ کہا جائے گا۔

نوٹ: مضمون نگار اور فورم کے ذمہ داروں سے اطلاعا عرض کروں گا کہ اس مضمون میں مرتب روایات کو میں من وعن اپنے بلاگ پر نقل کروں گا۔ بس احادیث کی تخریج کے لئے کتب تخریج کا رخ کروں گا۔ اس لئے صرف روایتوں کو اپنے بلاگ میں نقل کرنے کے لئے شاید اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں میں فورم کا حوالہ ضرور دوں گا۔ ان شاء اللہ
 
شمولیت
جنوری 21، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
20
مھجے آج تک ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ انکار کرنے والے اور ضعیف کہنے والے اور شعبان کی ۱۵ کا انکار کرنے والے ۱۰۰ سال سے پہلے نہیں تھے یا پھر یہ لوگ سب سے بڑے محدث بن گئے ہیں ۔۔۔
 
شمولیت
جنوری 21، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
20
کیا نبی کریم ﷺ کا کوئی عمل نہ کرنا کسی کام کے حرام ہونے کی دلیل ہے؟؟؟؟؟
 
شمولیت
جنوری 21، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
20
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مُشْرِکٍ اوْ مُشَاحِنٍ لِاخِيْهِ.
’’جب ماہ شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اﷲ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر (اپنے حسب حال) نزول فرماتا ہے پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔‘‘
( بزار المسند،1: 206، رقم: 80)
امام ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بزار کی تاریخِ وفات 292ھ ہے۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوا کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت و خصوصیت تسلیم کرنا اور اس کو بیان کرنا اہل علم کا ابتدائی اَدوار سے طریقہ رہا ہے۔ لہذا موجودہ دور میں کوئی شخص بھی اگر شبِ برات کی غیر معمولی فضیلت کا انکار کرتا ہے تو درحقیقت وہ احادیث مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ناواقفیت کی بناء پر ایسا کر رہا ہوتا ہے۔
 
شمولیت
جنوری 21، 2015
پیغامات
4
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
20
سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب: إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن.
(مجموع فتاوی ابن تيمية، 23: 131)
’’ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے۔‘‘
پتہ چلا کہ اسلاف اس رات کو خصوصیت کے ساتھ اہتمام کیا جو آج کل بحث کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ساری باتیں چھوڑیں اور عبادت کریں شکریہ
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,232
پوائنٹ
402
کیا نبی کریم ﷺ کا کوئی عمل نہ کرنا کسی کام کے حرام ہونے کی دلیل ہے؟؟؟؟؟
اآپ کے سوال میں ہی آپ کی بات کا جواب موجود ہے جب ایک کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت عبادت سے اور تقرب الی اللہ کے لیے نہیں کیا تو اس کے جائز ہونے پر کیا دلیل ہو سکتی ہے؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,232
پوائنٹ
402
سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب: إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن.
(مجموع فتاوی ابن تيمية، 23: 131)
’’ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے۔‘‘
پتہ چلا کہ اسلاف اس رات کو خصوصیت کے ساتھ اہتمام کیا جو آج کل بحث کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ساری باتیں چھوڑیں اور عبادت کریں شکریہ
دین میں حجت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسا کہ میرے محترم بھائی رفیق طاہر حفظہ اللہ نے البانی رحمہ اللہ کی تصحیح پر کلام کیا تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس بارے میں کوئی فتوی دینا دین نہیں بن سکتا
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,232
پوائنٹ
402
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مُشْرِکٍ اوْ مُشَاحِنٍ لِاخِيْهِ.
’’جب ماہ شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اﷲ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر (اپنے حسب حال) نزول فرماتا ہے پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔‘‘
( بزار المسند،1: 206، رقم: 80)
امام ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بزار کی تاریخِ وفات 292ھ ہے۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوا کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت و خصوصیت تسلیم کرنا اور اس کو بیان کرنا اہل علم کا ابتدائی اَدوار سے طریقہ رہا ہے۔ لہذا موجودہ دور میں کوئی شخص بھی اگر شبِ برات کی غیر معمولی فضیلت کا انکار کرتا ہے تو درحقیقت وہ احادیث مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ناواقفیت کی بناء پر ایسا کر رہا ہوتا ہے۔
ذرا اس کی سند بھی دیکھ لیں صرف صحابی کے نام سے کسی بھی حدیث کو نقل کر دینا اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا
اس طرح تو سو سے زائد روایات ہیں جس میں اکثر ضعف کا شکار ہیں تو کسی حدیث کق نقل کرنے میں محدثین کا منھج کو سامنے رکھیں کہ سند اور متن دونوں کو سامنے رکھا جاتا ہے
 
Top