1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شبِ برات احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏دسمبر 12، 2011۔

  1. ‏فروری 12، 2012 #11
    مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2011
    پیغامات:
    520
    موصول شکریہ جات:
    2,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    171

    السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ اس موضوع پر ڈاکٹر فرحت ھاشمی صاحبہ حفظھا اللہ تعالی کا بھترین لیکچر بھی سماعت فرماے
    Dr.Farhat Hashmi - Sha&#39aban Ki Haqeeqat - Part 2 of 5. - YouTube
    Dr.Farhat Hashmi - Sha&#39aban Ki Haqeeqat - Part 3 of 5. - YouTube
     
  2. ‏جون 13، 2014 #12
    عبدالرحیم رحمانی

    عبدالرحیم رحمانی سینئر رکن
    جگہ:
    کرلا، ممبئی
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2012
    پیغامات:
    1,117
    موصول شکریہ جات:
    1,051
    تمغے کے پوائنٹ:
    234

    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا
     
  3. ‏جون 13، 2014 #13
    ظفر ابن ندوی

    ظفر ابن ندوی رکن
    جگہ:
    کٹیہار، بہار
    شمولیت:
    ‏ستمبر 11، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاکم اللہ خیرا
    مجھ سے حال ہی میں ایک صاحب نے مطالبہ کیا تھا کہ پندرہ شعبان کے تعلق سے کچھ لکھیں، لیکن تنہائی اور کتابوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کو مفصل جواب نہ دے سکا۔ اور مختصرا موضوع روایتوں کا حوالہ دے کر چلتا کیا۔ لیکن اس مفصل بحث کو پڑھ کر بہت سے حقائق سامنے آئے۔ ابھی رفیق طاہر صاحب کی تحقیق کا مطالعہ نہیں کیا ہوں، اگر ان کی بات درست ہے تب تو ٹھیک ہے، ورنہ شب برات کے متعلق واقعی ہم تفریط پر ہیں۔
    اس لئے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں، رفیق طاہر صاحب کی تحقیق پڑھنے کے بعد ہی کچھ کہا جائے گا۔

    نوٹ: مضمون نگار اور فورم کے ذمہ داروں سے اطلاعا عرض کروں گا کہ اس مضمون میں مرتب روایات کو میں من وعن اپنے بلاگ پر نقل کروں گا۔ بس احادیث کی تخریج کے لئے کتب تخریج کا رخ کروں گا۔ اس لئے صرف روایتوں کو اپنے بلاگ میں نقل کرنے کے لئے شاید اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں میں فورم کا حوالہ ضرور دوں گا۔ ان شاء اللہ
     
  4. ‏جون 02، 2015 #14
    محمد سہیل عارف

    محمد سہیل عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 21، 2015
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    مھجے آج تک ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ انکار کرنے والے اور ضعیف کہنے والے اور شعبان کی ۱۵ کا انکار کرنے والے ۱۰۰ سال سے پہلے نہیں تھے یا پھر یہ لوگ سب سے بڑے محدث بن گئے ہیں ۔۔۔
     
  5. ‏جون 02، 2015 #15
    محمد سہیل عارف

    محمد سہیل عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 21، 2015
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    کیا نبی کریم ﷺ کا کوئی عمل نہ کرنا کسی کام کے حرام ہونے کی دلیل ہے؟؟؟؟؟
     
  6. ‏جون 02، 2015 #16
    محمد سہیل عارف

    محمد سہیل عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 21، 2015
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مُشْرِکٍ اوْ مُشَاحِنٍ لِاخِيْهِ.
    ’’جب ماہ شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اﷲ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر (اپنے حسب حال) نزول فرماتا ہے پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔‘‘
    ( بزار المسند،1: 206، رقم: 80)
    امام ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بزار کی تاریخِ وفات 292ھ ہے۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوا کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت و خصوصیت تسلیم کرنا اور اس کو بیان کرنا اہل علم کا ابتدائی اَدوار سے طریقہ رہا ہے۔ لہذا موجودہ دور میں کوئی شخص بھی اگر شبِ برات کی غیر معمولی فضیلت کا انکار کرتا ہے تو درحقیقت وہ احادیث مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ناواقفیت کی بناء پر ایسا کر رہا ہوتا ہے۔
     
  7. ‏جون 02، 2015 #17
    محمد سہیل عارف

    محمد سہیل عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 21، 2015
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب: إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن.
    (مجموع فتاوی ابن تيمية، 23: 131)
    ’’ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے۔‘‘
    پتہ چلا کہ اسلاف اس رات کو خصوصیت کے ساتھ اہتمام کیا جو آج کل بحث کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ ساری باتیں چھوڑیں اور عبادت کریں شکریہ
     
  8. ‏جون 02، 2015 #18
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اآپ کے سوال میں ہی آپ کی بات کا جواب موجود ہے جب ایک کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت عبادت سے اور تقرب الی اللہ کے لیے نہیں کیا تو اس کے جائز ہونے پر کیا دلیل ہو سکتی ہے؟
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 02، 2015 #19
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    دین میں حجت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نہ کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسا کہ میرے محترم بھائی رفیق طاہر حفظہ اللہ نے البانی رحمہ اللہ کی تصحیح پر کلام کیا تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس بارے میں کوئی فتوی دینا دین نہیں بن سکتا
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 02، 2015 #20
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ذرا اس کی سند بھی دیکھ لیں صرف صحابی کے نام سے کسی بھی حدیث کو نقل کر دینا اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا
    اس طرح تو سو سے زائد روایات ہیں جس میں اکثر ضعف کا شکار ہیں تو کسی حدیث کق نقل کرنے میں محدثین کا منھج کو سامنے رکھیں کہ سند اور متن دونوں کو سامنے رکھا جاتا ہے
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں