• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

(شب برآت) 15 شعبان کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

Usman Bashir

مبتدی
شمولیت
مئی 23، 2016
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
9
(شب برآت) 15 شعبان کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں
زیادہ سے زیادہ شیر کریں جزاک الله خیر
القرآن:
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے.
سورة الدخان 44
آيت 3 کا کچھ حصہ
کیا بابرکت رات سے مراد شعبان کی پندرھویں
(15) رات ہے؟
اس رات سے مراد شعبان کی پندرھویں رات نہیں بلکہ اس سے مراد "لیلة القدر" ہے کیونکہ قرآن مجید رمضان کے مہینے میں نازل کیا گیا
(سورة البقرہ 2، آيت 185) اور قرآن ميں اس رات کا نام بھی بتا دیا گیا ہے.
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو لیلة القدر میں نازل کیا.
سورۃ القدر97
آیت 1
سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه نے رسول الله صلی الله عليه وسلم سے پوچھا کہ سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے کیوں رکھتے ہیں؟
تو فرمایا:
یہ (شعبان) وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کے پاس اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتا ہوں میرا عمل اس وقت جائے جب میں روزے سے ہوں.
سنن نسائی 2361
کتاب الصیام جلد 2
15 شعبان کو مخصوص کر کے روزہ رکھنا سنت نہیں ہے.
سنت شعبان کے پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا ہے. سنت ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھنا ہے. سنت شوال کے 6 روزے، 9 کے ساتھ 10 یا 11 محرم کے روزے، 9 ذی الحج کا روزہ، پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا ہے
نوٹ: اس حدیث سے بھی 15 شعبان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی.
پتوں کے جھڑنے والی یا فیصلے والی رات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ سب ضعیف روایات ہیں اس رات میں نوافل اور ان کہ ثواب والی سب احادیث من گھڑت ہیں یا کچھ جو ہیں وہ ضعیف ہیں
صحیحین میں اماں عائشہ رضی الله عنہا سےمروی ہےکہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نےارشادفرمایا " جس نےہماری اس شریعت میں کوئی نئی چیزایجاد کی جواس میں سےنہیں ہے تو وہ لائق رد ہے "اورصحیح مسلم کے الفاظ ہیں جوکو ئی ایساعمل کرےجودین سےبیگانہ عمل ہوتووہ مردود(ردکیاہوا) ہوگا" اورصحیح مسلم کےاندرجابررضی الله عنہ سےمروی ہےکہ الله کےرسول صلی الله علیہ وسلم جمعہ کےخطبہ میں فرمایا کرتےتھے :سب سےبہترین کتاب الله کی کتاب ہے اور سب سےبہترین راستہ محمد صلی الله علیہ وسلم کاطریقہ ہےاورسب سےبرے امور دین میں ایجادکردہ نئی باتیں ہیں ( جنہیں بدعت کہتےہیں ) اورہربدعت ضلالت وگمراہی ہے "اس معنی کی آیتیں اورحدیثیں ڈھیرساری ہیں جواس بات پرواح دلالت کرتی ہیں کہ الله نےاس امت کےلئےاس کےدین کومکمل کردیاہے اور اس میں کچھ بھی نیا پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے
الله پاک عمل کی توفیق دے اور ہر قسم کی بدعات سے بچا کے رکھے آمین

Sent from my SM-J500F using Tapatalk
 
شمولیت
اکتوبر 24، 2019
پیغامات
19
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
36
(شب برآت) 15 شعبان کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں
زیادہ سے زیادہ شیر کریں جزاک الله خیر
القرآن:
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے.
سورة الدخان 44
آيت 3 کا کچھ حصہ
کیا بابرکت رات سے مراد شعبان کی پندرھویں
(15) رات ہے؟
اس رات سے مراد شعبان کی پندرھویں رات نہیں بلکہ اس سے مراد "لیلة القدر" ہے کیونکہ قرآن مجید رمضان کے مہینے میں نازل کیا گیا
(سورة البقرہ 2، آيت 185) اور قرآن ميں اس رات کا نام بھی بتا دیا گیا ہے.
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو لیلة القدر میں نازل کیا.
سورۃ القدر97
آیت 1
سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه نے رسول الله صلی الله عليه وسلم سے پوچھا کہ سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے کیوں رکھتے ہیں؟
تو فرمایا:
یہ (شعبان) وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کے پاس اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتا ہوں میرا عمل اس وقت جائے جب میں روزے سے ہوں.
سنن نسائی 2361
کتاب الصیام جلد 2
15 شعبان کو مخصوص کر کے روزہ رکھنا سنت نہیں ہے.
سنت شعبان کے پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا ہے. سنت ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھنا ہے. سنت شوال کے 6 روزے، 9 کے ساتھ 10 یا 11 محرم کے روزے، 9 ذی الحج کا روزہ، پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا ہے
نوٹ: اس حدیث سے بھی 15 شعبان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی.
پتوں کے جھڑنے والی یا فیصلے والی رات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ سب ضعیف روایات ہیں اس رات میں نوافل اور ان کہ ثواب والی سب احادیث من گھڑت ہیں یا کچھ جو ہیں وہ ضعیف ہیں
صحیحین میں اماں عائشہ رضی الله عنہا سےمروی ہےکہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نےارشادفرمایا " جس نےہماری اس شریعت میں کوئی نئی چیزایجاد کی جواس میں سےنہیں ہے تو وہ لائق رد ہے "اورصحیح مسلم کے الفاظ ہیں جوکو ئی ایساعمل کرےجودین سےبیگانہ عمل ہوتووہ مردود(ردکیاہوا) ہوگا" اورصحیح مسلم کےاندرجابررضی الله عنہ سےمروی ہےکہ الله کےرسول صلی الله علیہ وسلم جمعہ کےخطبہ میں فرمایا کرتےتھے :سب سےبہترین کتاب الله کی کتاب ہے اور سب سےبہترین راستہ محمد صلی الله علیہ وسلم کاطریقہ ہےاورسب سےبرے امور دین میں ایجادکردہ نئی باتیں ہیں ( جنہیں بدعت کہتےہیں ) اورہربدعت ضلالت وگمراہی ہے "اس معنی کی آیتیں اورحدیثیں ڈھیرساری ہیں جواس بات پرواح دلالت کرتی ہیں کہ الله نےاس امت کےلئےاس کےدین کومکمل کردیاہے اور اس میں کچھ بھی نیا پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے
الله پاک عمل کی توفیق دے اور ہر قسم کی بدعات سے بچا کے رکھے آمین

Sent from my SM-J500F using Tapatalk
السلام علیکم
محترم سنن نسائی کی حدیث جس میں اعمال کا اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا اس کا کیا جواب ہے کیونکہ قرآن کی روشنی میں اعمال بھی رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں؟
 
Top