ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 879
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
شریعت الٰہی کے تعطیل و تبدیل کرنے والوں کا حکم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فتاوی کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ محمد، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ اما بعد!
یہ امر اہل ایمان کے نزدیک آفتاب نیم روز سے زیادہ روشن اور بدیہی ہے کہ حلال و حرام کا اختیار کسی بادشاہ، حکمران، مجلس، پارلیمنٹ، قوم یا ملت کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ یہ حق صرف رب العالمین جل جلالہ کے لیے ہے۔ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا، اسے دنیا کی کوئی طاقت حلال نہیں کرسکتی؛ اور جسے اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا، اسے کسی انسانی تشریع سے حرام نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن جب دنیاوی مصلحت غالب آئیں اور مغربی قوانین و معاشی نظاموں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرے، تو بعض لوگ شریعت کے واضح احکام کو بدلنے، معطل کرنے اور ان کے لیے نئے نئے جواز تراشنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو زمانے کے تقاضوں کے نام پر پس پشت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے مقام پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شریعت اسلامیہ کی عظمت، احکام الٰہیہ کی قطعیت اور حلال و حرام کے باب میں انسانی تصرف کی شناعت پر ایک نہایت واضح اور صریح کلام فرمایا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وَالْإِنْسَانُ مَتَى حَلَّلَ الْحَرَامَ - الْمُجْمَعَ عَلَيْهِ - أَوْ حَرَّمَ الْحَلَالَ - الْمُجْمَعَ عَلَيْهِ - أَوْ بَدَّلَ الشَّرْعَ - الْمُجْمَعَ عَلَيْهِ - كَانَ كَافِرًا مُرْتَدًّا بِاتِّفَاقِ الْفُقَهَاءِ.»
یعنی جب کوئی انسان اس حرام کو حلال قرار دے جس کی حرمت پر اجماع ہو، یا اس حلال کو حرام قرار دے جس کے حلال ہونے پر اجماع ہو، یا اس شریعت کو بدل ڈالے جس پر اجماع ہو، تو وہ فقہاء کے اتفاق کے مطابق کافر اور مرتد ہوجاتا ہے۔
[مجموع فتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية، ج : ٣، ص : ٢٦٧]
مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ حکم اور تشریع کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ بندہ خواہ بادشاہ ہو یا عام آدمی، وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال کو اپنی طرف سے حرام اور حرام کو اپنی طرف سے حلال کرنے کا مالک نہیں۔ اسی لیے شیخ الاسلام کا یہ فرمان «حلَّل الحرامَ المجمَعَ عليه» یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے حرام کردہ امور کو انسانی مصلحت، معاشی ضرورت، ملکی قانون، عرف زمانہ یا حکومتی پالیسی کا نام دے کر حلال بنانے کی جسارت کرے۔
اس کا ایک نہایت نمایاں معاصر نمونہ تقی عثمانی دیوبندی زندیق کا سود کو حلال کرنا ہے۔ قرآن مجید نے ربا کی حرمت کو نہایت صراحت سے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔
لیکن تقی عثمانی زندیق نے سودی معاملے کو محض بینکنگ منافع کے خوش نما نام سے موسوم کر دیا، پس نام بدلنے سے شرعی حقیقت نہیں بدلتی۔ یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے الفاظ پھر سامنے رکھو «حلَّل الحرامَ المجمَعَ عليه» یعنی متفق علیہ حرام کو حلال قرار دینے کا معاملہ!
لہٰذا سودی معاملے کے حرام ہونے کا شرعی حکم جاننے کے باوجود تقی عثمانی زندیق نے اسے شرعا حلال ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ نظریہ گھڑا لیکن اسے محض اس لیے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس نے سود کے لیے کوئی نیا معاشی عنوان تراش لیا ہے۔
اس کے علاوہ وہ حکمران جو شریعت کو معطل کر انسانی قانون کو اصل بناتے ہیں بلکہ ہر وہ شخص جو شرعی نظام کے بجائے موجودہ دور میں نافذ آئین و قوانین کو اصل فیصلہ قرار دے جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے متصادم ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «كان كافرًا مرتدًّا باتِّفاق الفقهاء» وہ فقہاء کے اتفاق کے مطابق کافر و مرتد ہے۔
افسوس کہ بعض لوگوں کے نزدیک شریعت صرف مسجد، نکاح، طلاق، جنازہ اور چند شخصی عبادات تک محدود ہے؛ رہے حکومت، عدالت، معیشت، تجارت اور اجتماعی معاملات تو وہاں انسانی آئین اور زمانے کے قوانین حاکم ہیں!
اسلامی شریعت کے مقابل کوئی دوسرا نظام یا قانون اصل تشریع سمجھنا، یا اللہ کے قطعی حکم کو محض زمانے کے بدلنے سے ناقابل عمل سمجھ لینا صریح کفر و ارتداد ہے۔ جو لوگو کتاب و سنت کے احکام کو قدیم، ناقابل عمل اور زمانے سے متصادم کہہ کر ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ زمانہ بدلتا ہے، رب العالمین کا حکم نہیں بدلتا۔ تمدن بدلتا ہے، نصوص نہیں بدلتے۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، کتاب اللہ اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
حکمرانوں کو شریعت کی تعطیل کا جواز نہیں، کوئی حکمران شریعت سے مستثنیٰ نہیں۔ اقتدار کسی انسان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے، یا شریعت کے متفق علیہ احکام کو محض سیاسی مصلحت کے نام پر معطل کردے۔
جو حکمران شریعت کی پابندی نہیں کرتا اور رعایا کے معاملات میں شرعی احکام نافذ نہیں کرتا بلکہ ایسے قوانین نافذ کرتا ہے جو شرعی احکام کے مخالف ہو تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوتا ہے، اور ہر ایسے طاغوتی حکمران کو کافر و مرتد کہنا اہل سنت کا منہج ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ نہایت جلیل القدر فتوی اہل ایمان کے لیے اصول ہے: «كان كافرًا مرتدًّا باتِّفاق الفقهاء» یعنی جس صورت کا شیخ الاسلام نے ذکر کیا ہے، اس میں فقہاء کے اتفاق کے مطابق کفر و ارتداد کا حکم لگایا جائے گا۔
پس اے مسلمانوں! اپنے رب کے حلال و حرام کو دنیا کے کسی قانون، کسی حکومت، کسی معاشی نظام، کسی سیاسی مصلحت اور کسی انسانی دستور کے تابع نہ بناؤ۔ حلال وہی ہے جسے اللہ تعالٰی نے حلال کیا، اور حرام وہی ہے جسے اللہ تعالٰی نے حرام کیا۔ شریعت اللہ کی ہے، حکم اللہ کا ہے، اور بندے کا کام سر تسلیم خم کرنا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔