ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 871
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
فضیلۃ الشیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کی پکار: غزہ کی نسل کشی، طواغیت کی خیانت اور امت کی خاموشی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غزہ پر جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس نے کہیں زیادہ ہولناک اور مکّار شکل اختیار کر لی ہے۔
اب بھی آسمان سے بم برستے ہیں۔
اب بھی بچے موت کی آغوش میں جاتے ہیں۔
محاصرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔
اور اب، تباہ شدہ گھروں اور اجڑی ہوئی زندگیاں کے ملبے پر، یہ حملہ بھوک، خاموشی، اور دانستہ و بے رحم بے پرواہی کی صورت میں نئی جنگ بن چکا ہے۔
یہ جنگ اب صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جا رہی، بلکہ غذائی قلت سے، امداد کی بندش سے، اور اُس بھیانک خاموشی سے لڑی جا رہی ہے جو دنیا نے اپنے ضمیر پر طاری کر رکھی ہے، تاکہ حقیقت کو نظر انداز کر سکیں۔
جب غزہ تباہی کے بوجھ تلے لہولہان ہو رہا ہے، دنیا بے حسی کے گدّوں پر سکون سے لیٹی ہے۔
تاریخ گواہ رہے:
جب ٹرمپ غزہ پر جنگ کا کھلا شریک ہے، تو اسے بلاد الحرمین میں پرتپاک خیرمقدم دیا جاتا ہے۔
اور اب وہ فخر سے اعلان کرتا ہے کہ اُس نے خلیجی طواغیت سے صرف چند گھنٹوں میں 5.1 ٹریلین ڈالر بطور جزیہ وصول کیے، اتنی بڑی رقم جو پورے فلسطین کو ٹینکوں سے بھر دے، اور اس کے آسمان کو جنگی طیاروں سے سیراب کر دے۔
لیکن وہی طواغیت، غزہ کے بچوں کے لیے چند دانے اناج، ایک شیشی دوا، یا ایک قطرہ صاف پانی بھی فراہم نہیں کر سکتے۔
قطر کا طاغوت ٹرمپ کو نجی طیارہ تحفے میں دیتا ہے
اور کوئی یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا:
اس کی بجائے غزہ کو امداد کیوں نہیں بھیجی گئی؟
ایک ایسے شخص کو انعام کیوں دیا جا رہا ہے جو ہمارے قاتلوں کو جرأت دلاتا ہے؟
ان لوگوں کو طاقت کیوں دی جا رہی ہے جو ہماری بربادی پر جشن مناتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ آوازیں جو پہلے غزہ کے لیے گرجا کرتی تھیں؟
کہاں ہیں وہ اثرو رسوخ رکھنے والے افراد جنہوں نے غزہ کی اذیت کو اپنی شہرت کا زینہ بنایا اور اب جب سچ بولنا نفع بخش یا مقبول نہ رہا، تو وہ گم ہو گئے؟
بلاد الشام کا غدار صہیونیوں اور امریکا سے قربتیں بڑھا رہا ہے، اور اُن تمام لوگوں کو کچل رہا ہے جو توحید کا پرچم بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنے نئے امیر، ٹرمپ، سے کی گئی بیعت پوری کر رہا ہے۔
باقی سب خاموش ہیں، ایسی خاموشی جو قبرستان کی سی سنّاٹے جیسی ہے۔
کیا ہم اس بے عملی کو تب تک برداشت کرتے رہیں گے جب تک نسل کشی سب کو نگل نہ لے؟
میڈیا کی توجہ کہیں اور جا چکی ہے۔
موقع پرست غائب ہو چکے ہیں۔
لیکن وہ لوگ جو صرف اللہ کے لیے کھڑے ہوئے تھے، ان کے قدم نہیں ڈگمگانے چاہییں۔
اب، پہلے سے کہیں زیادہ، انہیں غزہ کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ وفاداری سے کھڑا ہونا ہوگا، پختہ ایمان اور غیر متزلزل وفا کے ساتھ۔
آج غزہ گھٹ رہا ہے، خاموشی میں، تنہائی میں۔
اور پھر بھی، یہ اس امت کے ضمیر پر ایک زخم کی مانند باقی ہے
جو ہر لمحہ غفلت اور بے حسی سے سڑ رہا ہے۔
یا اللہ! بے شک انہوں نے زمین میں حد سے تجاوز کیا ہے اور فساد کو ہر سمت پھیلایا ہے؛
پس تُو اُن پر اپنا سخت ترین عذاب نازل فرما۔
یا اللہ!
جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، لیکن ٹرمپ جیسے ظالم کو ووٹ دیتے ہیں؛
انہیں اس سے بھی زیادہ ذلت و اذیت دے جو غزہ کے لوگوں نے برداشت کی ہے۔
احمد موسیٰ جبرئیل
۴ ذو الحجہ ۱۴۴۶ ھ