• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیطان دوستی اور وعدہ وعید

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
شیطان دوستی اور وعدہ وعید

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَہ شَيْطٰنًا فَہُوَلَہ قَرِيْنٌ۳۶ وَاِنَّہُمْ لَيَصُدُّوْنَہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۳۷ حَتّٰٓي اِذَا جَاءَنَا قَالَ يٰلَيْتَ بَيْنِيْ وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ۳۸ وَلَنْيَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۳۹
الزخرف
’’اور جو شخص رحمن کی یاد سے اغماض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کر دیتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور شیاطین انہیں اللہ کی راہ سے روکتے رہتے ہیں۔ تاہم گناہ گار اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ جب گناہ گار ہمارے جناب محمد رسول اللہ میں حاضر ہوگا تو وہ اپنے ساتھی شیطان کو دیکھ کر کہے گا۔ اے کاش! میرے اور تمہارے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ رہا ہوتا۔ سو بہت ہی برا ساتھ ہے اور جب کہ تم نے ظلم کیا ہے،تو آج یہ بات کچھ فائدہ نہ دے گی کہ تم عذاب میں باہم شریک ہو۔‘‘
اور فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُمَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾ إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِنيَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ اللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿١١٨﴾ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا﴿١٢٠﴾
النساء
’’اللہ تعالیٰ یہ تو معاف نہیں کرتا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک گردانا جائے۔ البتہ اس سے کم جس کو چاہے معاف کرے اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک گردانا وہ دور بھٹک گیا، یہ اللہ کے سوا تو بس عورتوں ہی کو پکارتے ہیں اور شیطان سرکش ہی کو پکارتے ہیں۔ جس کو اللہ نے پھٹکار دیا اور وہ لگا کہنے کہ میں تو تیرے بندوں سے ایک حصہ ضرور لیا کروں گا اور ان کو ضرور ہی بہکائوں گا اور ان کو امیدیں ضرور دلائوں گا اور ان کوضرور حکم کروں گا، وہ جانوروں کے کان ضرور چیرا کریں گے اور ان کو سمجھائوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو ضرور بدلا کریں گے اور جو شخص اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنائے تو وہ صریح گھاٹے میں آگیا۔ شیطان ان کو وعدے دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ نرا دھوکا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَندَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّاأَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَاأَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٢﴾
ابراہیم
’’اور جب فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور وعدہ تو تم سے میں نے بھی کیا تھا مگر میں نے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی کی اور تم پر میری کچھ زبردستی تو تھی نہیں بات اتنی ہی تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میرا کہنا مان لیا تو اب مجھے الزام نہ دو بلکہ اپنے آپ کو دو نہ تو میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔ میں تو مانتا ہی نہیں کہ تم مجھ کو پہلے شریک بناتے تھے، اس میں شک نہیں کہ جو لوگ نافرمان ہیں، ان کو بڑا درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘
اور فرمایا:
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْإِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَهَ ۚ وَاللَّهُ شَدِيدُالْعِقَابِ ﴿٤٨﴾
الانفال
’’اور جب شیطان نے ان کی حرکات ان کو عمدہ کر دکھائیں اور کہا کہ آج لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جو تم پر غالب آسکے اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں۔ پھر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں، اپنے الٹے پائوں چلتا بنا اور لگا کہنے کہ مجھ کو تم سے سروکار نہیں۔ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم کو نہیں سوجھ پڑتی، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کی مار بڑی سخت ہے۔‘‘
اور صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بدر میں فرشتوں کی صف بندی کر رہے تھے اور جب شیاطین نے اللہ کے ان فرشتوں کو دیکھا جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومن بندوں کی مدد فرماتا ہے تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
(موطا امام مالک ، کتاب الحج باب جامع الحج۔ حدیث:۳۴۵۔)
اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی فرشتوں کے ذریعہ مدد فرماتا ہے۔ فرمایا:
اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَۃِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَاٰمَنُوْا
الانفال
’’اے پیغمبر! اس وقت کو یاد کرو، جب تمہارا پروردگار فرشتوں کی طرف وحی بھیج رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس مسلمانوں کو جمائے رکھو۔‘‘
اور فرمایا:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْانِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا
الاحزاب
’’اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو ، جب کہ تمہارے پاس فوجیں آئیں تو ہم نے ان پر طوفانِ ہوا بھیجا اور وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا تھا۔‘‘
اور فرمایا:
اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہ عَلَيْہِ وَاَيَّدَہ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا
التوبۃ
’’جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوست (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہہ رہے تھے کچھ فکر نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر تسلی نازل کی اور اسے ان فوجوں کے ذریعے مدد دی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔‘‘
اور فرمایا:
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُنْزَلِيْنَ۱۲۴ۭ بَلٰٓى۰ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْبِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ مُسَوِّمِيْنَ۱۲۵
آلعمران
’’اے پیغمبر! (جنگ بدر کا وہی واقعہ یاد کرو) جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تم کو اتنا کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے بلکہ اگر تم ثابت قدم رہو اور تقویٰ اختیار کیے رکھو اور دشمن ابھی اسی دم تم پر چڑھ آئیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار ایسے فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے گا۔ جو جنگی نشان سے آراستہ ہوں گے۔‘‘

الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان
 
Top