• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے علاوہ کیا کسی شخص کو قطعی طور پر شہید کہنا جائز ہے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جو شخص بھی اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت سے لڑا تووہ شہید ہے۔ لیکن کسی شخص کے جہاد وقتال میں اس کی نیت کیا تھی؟ اس بارے قطعی طور پر یا تو وہ شخص جانتا ہے یا اس کا رب سبحانہ وتعالی۔ ہم ظن غالب کے طور پر قرائن کی روشنی میں اس کی نیت کے بارے حسن ظن یا سوئے ظن رکھ سکتے ہیں لیکن یہ ظن غالب ہو گا نہ کہ قطعی علم۔شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:
وقتا فوقتا xxx لشكر جس ميں مسلمانوں كى تعداد بھى ملى ہوئى ہے اور كيمونسٹ جماعتيں بھى ہيں اور دونوں طرف سے قتل بھى ہوتے ہيں، تھائى لينڈ كى فوج ميں كيمونسٹوں كے خلاف لڑنے والے مسلمانوں كے فوت شدگان كا حكم كيا ہے، اور كيا ہم انہيں شہيد شمار كر سكتے ہيں ؟
الحمد للہ:
ان كا معاملہ اللہ تعالى كے سپرد جو ان كى نيتوں كو جانتا ہے، كيونكہ جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا كہ:
ايك شخص بہادى اور شجاعت كے ليے لڑائى كرتا ہے، اور ايك شخص حميت كےليے اور ايك رياء و دكھلاوے كے ليے لڑتا ہے تو ان ميں سے في سبيل اللہ كون ہے؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑائى كى وہ في سبيل اللہ ہے"
صحيح بخارى ( 1 / 40 ) صحيح مسلم ( 3 / 151 )۔
اور اس بنا پر شہيد اسے شمار كيا جائےگا جو اعلاء كلمۃ اللہ كے ليے لڑتا ہوا قتل ہوا ہو۔
اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے۔
ديكھيں: فتاوى اللجنہ الدئمہ للبحوث العلميہ والافتاء ( 12 / 23 )۔
 
Top