• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عالم ہدایت پر ہو تو بھی دین میں اس کی تقلید نہ کرو

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
846
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
عالم ہدایت پر ہو تو بھی دین میں اس کی تقلید نہ کرو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

٨٧١٥ - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَثَلَاثَةً: زَلَّةَ عَالِمٍ، وَجِدَالَ مُنَافِقٍ، وَدُنْيَا تَقْطَعُ أَعْنَاقَكُمْ. فَأَمَّا زَلَّةُ عَالِمٍ فَإِنِ اهْتَدَى فَلَا تُقَلِّدُوهَ دِينَكُمْ، وَإِنْ زلَّ فَلَا تَقَطَّعُوا عَنْهُ آمَالَكُمْ.

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے بچو، عالم کی غلطی، منافق کا مجادلہ کرنا، اور دنیا سے جو تمہاری گردنیں کاٹ دے، رہی عالم کی غلطی تو اگر وہ ہدایت پر ہو تو بھی دین میں اسکی تقلید نہ کرو، اور اگر وہ پھسل جائے تو اس سے نا امید نہ ہو جاؤ۔


[المعجم الأوسط للطبراني، ج : ٨، ص : ٣٠٧، حديث : ٨٧١٥]

IMG-20250712-WA0000.jpg

IMG-20250712-WA0001.jpg

یہ حدیث تقلید کی جڑ کاٹ دیتی ہے، اور دلیل پسندی کا درس دیتی ہے لیکن آج برصغیر کے اہلِ حدیث منبروں، مدارس، طبقات اور عوام الناس کے اندر ایک فتنہ سرایت کر رہا ہے، وہ ہے "مدخلیت" یہ ایک ایسی باطل فکر ہے جس نے اہلِ حدیث کے خوشبودار چمن میں نقب لگا کر تقلید، شخصیت پرستی، اور درباری غلامی کو عین دین کا نام دے دیا۔

ربیع مدخلی اس فرقے کا سرغنہ تھا وہ اس حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت کرتے ہوئے کہتا ہے "إن التقلید واجب" یعنی تقلید واجب ہے۔

یہ کلمہ وہی ہے جسے سن کر حافظ زبیر علی زئی نے فرمایا: میں نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟شیخ ربیع المدخلی نے دوبارہ کہا: "إن التقلید واجب" یہ سن کر میں نے (کچھ کہا اور) اپنا سامان (بیگ) اٹھایا اور عوالی کو خیرباد کہہ کر حرم (بیت اللہ) چلا آیا-" [تحقیقی و علمی مقالات، جلد ۲، ص ۵۰۰]

سبحان اللہ! حافظ زبیر علی زئی جیسے اہل حدیث عالم ایسی تقلیدی بات کو برداشت نہ کر سکے۔ اور ایک یہ مداخلہ ہیں جو اس تقلیدی فتنے کو "منہج سلف" کا نام دیتے ہیں۔

افسوس صد افسوس! آج برصغیر کے اہلِ حدیث حلقوں بھی تقیہ باز مداخلہ "اہلِ حدیث" کا لبادہ اوڑھ کر، "منہج" کے نام پر درحقیقت مدخلی فکر کی خفیہ و خاموش تائید کر رہے ہیں؛ مدخلیت کے سرغنہ ربیع مدخلی اور اس کے پروردہ رحیلی و امثالہ کی گمراہ کن تقلیدی فکر کو سلفی منہج کے طور پر بیان کر کے سادہ لوح اہل حدیث عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف اور قطعی پیغام ہے "فَإِنِ اهْتَدَى فَلَا تُقَلِّدُوهُ دِينَكُمْ" یعنی عالم ہدایت پر ہو تو بھی دین میں اس کی تقلید نہ کرو۔ یہی منہجِ اہل الحدیث ہے، یہی اصل "سلفیت" ہے لیکن مداخلہ کا منہجی قائد ربیع مدخلی کہتا ہے "إن التقلید واجب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقلید سے روکتے ہیں اور ربیع مدخلی تقلید کو واجب قرار دیتا ہے۔ اے اہلِ حدیثوں! مدخلیت تمہیں اسی تقلید کی طرف لوٹا رہی ہے جس کا ہمارے سلف صالحین اور بعد کے اکابرین اہلِ حدیث نے ہمیشہ رد کیا۔

ہمارے اکابر علماء نے ہمیشہ دلیل کو معیار بنایا، شخصیت کو نہیں۔ مدخلیت دراصل اہل حدیث عوام کو گمراہ کرنے کا سب سے بڑا فتنہ ہے، جو "منہجیت" کا نقاب اوڑھ کر آیا ہے۔ یہ اہل علم کی مخالفت، عوام کو جاہل بنانا، اور طاغوتی حکمرانوں کی چاپلوسی کو دین بنا کر پیش کرنے کا مکروفریب ہے۔

مدخلیوں نے جس تقلید پرستی اور شخصیت پرستی کو "منہج سلف" کا نام دیا، وہ دراصل باطل کی ترویج ہے لہذا ربیع مدخلی اور اس کے مقلدین کا رد کرنا دفاعِ دین اور تحفظِ سلفی منہج کا فریضہ ہے۔

و ما علینا إلا البلاغ ۔
 
Top