• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عثمانی دور کے آخری مراحل اور اُن کا متعلقہ کلام

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
عثمانی دور کے آخری مراحل اور اُن کا متعلقہ کلام

السلام علیکم۔
حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور پر معترض لوگوں نے آخری ایام کے متعلق کئی قسم کی بحیثیں پیدا کرلی ہیں جو دو راز حقیقت ہیں اور اصل واقعات کے خلاف ہیں مثال کے طور پر۔۔۔

١۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ نے اپنی خلافت کے دوران اپنے اقرباء کو بڑے بڑے مناسب پر مسلط کردیا انہوں نے کئی قسم کی خرابیاں اور مظالم کئے۔ نیز حضرت عثمان رضی اپنے رشتہ داروں کو بیت المال سے ناجائز طور پر موقع بہ موقع اموال کثیر عطا فرمائے۔۔۔

ان چیزوں کی وجہ سے قبائل میں نفرت پیدا ہوتی قبیلہ پرستی کے متعصبانہ نظریات اٹھ کھڑے ہوئے اور تعصب کی دبی ہوئی چنگاریاں بھڑک اٹھیں انہوں نے خلافت راشدہ کے نظام کو جلا کر خاک کردیا اور یہ چیزیں قتل عثمان رضی اللہ وجہ بنیں۔

٢۔ اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اقربا نوازی کے علاوہ عثمان بن عفان رضی اللہ نے شریعت میں کئی قسم کے بدعات پیدا کردیئے لہذا تمام مسلمان ان کے خلاف ہوگئے آخر کار لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔ (منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ لابن المطہرالحلی الشیعی بحث اختتام مطاعن عثمانی جلد ٤ صفحہ ٢٨ مطبوعہ درآخر منہاج السنۃ، طبع لاہور)۔۔۔

مسئلہ ہذا کو صحیح طور پر معلوم کرنے کے لئے بحث خامس میں بیان مراحل کے نام سے چند چیزیں یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں ان میں منصفانہ غور کرنے سے عثمانی دور کے آخری مسائل بہترین طریقہ سے واضح ہوجائیں گے اور وہ نقشہ جو معترض احباب نے ان ایام کے متعلق پیش کیا ہے اس کا بعید ارصواب وخلاف واقعہ ہونا خوب اچھی طرح معلوم ہوسکے گا۔

بیان مراحل۔
حضرت عثمان کے دور کے متعلق کہ دورعثمانی کے آخر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمال اور حکام کی وجہ سے کئی قسم کے منکرات اور برائیاں پھیل گئی تھیں اور احکام شرعی کی خلاف ورزی ہونے لگی تھی جن کی وجہ سے لوگ حضرت عثمان پر طعن کرنے لگے اور اُن کے خلاف نفرت کے جذبات لوگوں میں پھیل گئے واقعات کے خلاف ہے اُمت کے متعدد کبار علماء نے دور ہذا کے متعلق صفائی کے بیان دیئے ہیں اور منکرات اور برائیوں کی نفی کی دی ہے اور فرمایا ہے کہ کوئی کام اس دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا جس پر شرعا طعن کیا جاسکے یا اس کو موجب فسق اور قتل کا سبب قرار دیا جاسکے۔۔۔

امام بخاری کی طرف سے صفائی کا بیان!۔
اب پہلے امام بخاری کی طرف سے حضرت عمثان رضی اللہ عنہ کے دور کے حالات واقعات اور اُن کے حق میں دروغ گوئی کرنے والوں کے جھوٹ کا رد ملاحظہ کیجئے۔۔۔

انہوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے!۔
امیرالمومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان اور حکم بارہ سال چلتا رہا ان کی امارت میں لوگوں نے کوئی برائی نہیں دیکھی حتی کے فاسق لوگ آگئے اور اہل مدینہ نے حضرت عثمان کے معاملہ میں نرمی سے کام لیا (یعنی شدت اختیار نہ کی لہذا وہ مقصد میں کامیاب ہوگئے)۔۔۔ (تاریخ الصغیر امام بخاری صفحہ ٣٢ طبع الٰہ آباد ہند تحت ذکر من مات فی حلافۃ عثمان رضی اللہ عنہ)۔۔۔

ابن العربی المالکی کا قول!۔
حضرت عثمان کے دور میں کوئی برائی نہیں تھی نہ اول دور میں اور نہ آخر دور میں اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اس موقع پر کوئی برائی کی تھی مخاطب کو کہتے ہیں جو تم کو اس واقعہ کی بری خبریں سنائی جاتی ہیں وہ باطل ہیں ان کی طرف التفاب کرنے سے اجتناب کریں (العواصم من القواصم صفحہ٦٠)۔۔۔

حضرت شیخ جیلانی کا فرمان!۔
حضرت عثمان کا مقام بیان کرتے ہوئے پیران پیر حضرت شیخ جیلانی نے غنیہ الطالبین میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اوراُن کے دور کی بہترین صفائی پیش کی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ برحق امام تھے یہاں تک کہ وہ شہید کئے گئے اور ان کے دور میں کوئی ایسی بات نہیں پائی گئی تھی جس کی وجہ سے ان کو مطعون کیا جاسکے یا ان کی طرف فسق کی نسبت کی جاسکے یا اُن کے قتل کا سبب قرار دیا جاسکے (غنیہ الطالبین مترجم صفحہ ١٣٧، فصل یعتقد اہل السنہ۔۔۔۔ الخ شیخ جیلانی المتوفی ٥٦١ھ طبع لاہور)۔۔۔

دوسری یہ چیز ذکر کی جاتی ہے کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صحیح انتظامات تھے اور عوام کی شکایات رفع کرنے کے لئے پوار اہتمام کیا جاتا تھا حکام کو امربالمعروف (بہتر کاموں کا حکم کرنا) اور ونہی عن المنکر (برائیوں سے روکنا) ادا کرنے کا حکم جاری ہوتا تھا۔۔۔

اس طریقہ سے قیام دین کی صحیح صورت قائم تھی اور ملکی انتظامات ٹھیک طریقے سے چلتے تھے اور عوام میں پریشانی کی اثرات نہیں تھے اس چیز کے متعلق مؤرخین کے مندرجہ زیل بیانات ملاحظہ فرمائیں پہلے اس دور کے وفد کی ایک رپورٹ پیش خدمت ہے پھر اس کی تائید میں اس دور کے اکابر حضرات جناب سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔ عبداللہ بن زبیر جیسے معتمد کے بیانات حاضر خدمت ہیں اُمید ہے کہ ان کو ملاحظہ کرنے کے بعد اطمینان کا سامان ہوجائے گا۔۔۔

ارسال وفود کا واقعہ اور اُن کی واپسی!۔
مؤرخین طبری اور ابن خلدون وغیرہ نے یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ خلافت عثمانی کے ایام میں بعض لوگوں کی طرف سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ شکایات پیش ہوئیں اس سلسلہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چند بااعتماد حضرات کو مختلف جہات میں ان پیش آمدہ شکایات کی حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے بطور وفد ارسال کیا۔ محمد بن مسلمہ انصاری صحابی کو کوفہ کی طرف اور اُسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ فرمایا اور حضرت عثمان نے ان کے ماسوا آدمی بھی مختلف مقامات میں پھیلائے (تاکہ حالات کی صحیح واپسی رپورٹ حاصل ہوسکے) اور حضرت عمار ضی اللہ عنہ بن یاسر کو مصر کی طرف روانہ کیا تھا۔۔۔

عمار کی واپسی سے قبل روانہ کئے ہوئے مذکورہ لوگ واپس آگئے انہوں نے واپس آکر اطلاع کی اے لوگو! ہم نے کوئی بری بات وہاں نہیں دیکھی عوام المسلمین اور خواص دونوں طبقوں نے کوئی بری بات نہیں معلوم کی مسلمانوں کا معاملہ ٹھیک چل رہا ہے اور مسلمانوں کے حکام ان میں انصاف کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔۔۔

تاحال عمار رضی اللہ عنہ واپس نہ ہوئے تھے اس تاخیر کو لوگوں نے محسوس کیا آخر کیا بات ہے؟ کسی عارضہ میں عمار مبتلا تو نہیں ہوگئے یہی انتظار اور پریشانی کا عالم تھا کہ ناگہاں عبداللہ بن سعد ابی سرح کا مصر سے خط پہنچا اس میں اطلاع درج تھی کہ مصر میں ایک قوم (یعنی معترضین ومخالفین عثمان رضی اللہ عنہ تھی) جس نے عمار کو (بہلا پھسلا کر اپنی باتوں کیطرف مائل کر لیا ہے اور عمار کے پاس وہ جمع ہوتے ہیں ان کے نام ہیں، عبداللہ بن سبا، خالد بن ملجم، سودان بن حمران، کنانہ بن بشیر وغیرہ) (تاریخ طبری جلد ٥ صفحہ ٩٩ تحت ٣٥ھ ذکر سیرمن سار الی ذی خشب من اہل مصر)۔۔۔

ارسال وفود کا مذکورہ واقعہ تاریخ ابن خلدون میں بھی مذکور ہے عبارت او ترجمہ دینے میں تطویل ہوتی ہے اس بناء پر صرف کتاب درج سے رجوع فرما کر تصدیق کرلیں(تاریخ ابن خلدون (عبدالرحمٰن بن خلدون المغربی) جلد ٢ صفحہ ٢٧)۔۔۔
مندرجہ بالا اطلاع کے ذریعے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ عثمانی خلافت کے ایام میں منکرات نہیں تھے اورعوام وخواص اس دور میں کوئی برائی نہیں دیکھتے تھے یہ سارا نظآم دین اور شریعت کے ماتحت تھا یعنی اسلامی نظام رائج تھا اور لوگوں میں انصاف قائم کیا جاتا تھا اور اس دور کے عمال وحکام ظالم نہیں تھے بلکہ نیک اور صالح لوگ تھے جو عوام کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔۔۔

قاعدہ للاکثر حکم الکل!۔
یہاں توجہ کے لائق یہ چیز ہے کہ ملک میں انتظامی شکایت معلوم کرنے کی خاطر متعدد وفود (مشتمل اکابرین صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین) ارسال کئے گئے تو سوائے ایک عمار رضی اللہ عنہ کے سب کی واپسی رپورٹ یہ ہے کہ خلافت کے معاملات سب ٹھیک چل رہے ہیں ملکی نظام رعایا کہ حق میں درست ہے مظالم نہیں ہورہے بلکہ عدل وانصاف قائم ہے پس عام قاعدہ یہ ہے کہ (للکثر حکم الکل)۔۔۔

تو اس مقام میں بھی یہی صورت صحیحہ ہے جو سب حضرات نے آکر بیان کی ہے مخالفین عثمان رضی اللہ عنہ کی باتوں سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے متاثر ہوجائے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لہذا اکثر حضرات کی اطلاّ کو صحیح سمجھا جائے گا اور ایک شخص کی رائے کو متفرد رائے کا درجہ دیا جائے گا۔۔۔

عثمانی دور کی کیفیت کے متعلق سالم بن عبداللہ کا بیان!۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سالم بن عبداللہ دور عثمانی کی کیفیت کو اپنے مندرجہ ذیل بیان میں پیش کرتے ہیں وہ ملاحظہ کرتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں کہ!۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب سے خلیفہ المسلمین مقرر ہوئے تھے آخر حج کے بغیر تمام سالوں میں انہوں نے خود حج کرائے (ان کے دور میں لوگ امن وامان میں تھے حضرت عثمان کی طرف سے حکام اور دکانداروں کو حکم لکھ کر ارسال کیا جاتا اور جن لوگوں کو اُن کے متعلق کوئی شکایت ہوتی ان کو بھی لکھ دیا جاتا کہ دونوں فریق ہر سال حج کے موقع پر حاضر ہوں (تاکہ شکوہ شکایات سُن کر ان کا ازالہ کیا جاسکے) اور شہروں میں لوگوں کی طرف حضرت عثمان تحریری فرمان ارسال کرواتے کہ نیکی کا حکم کیا کرو اور برائی سے باز رہو۔۔

اور کوئی مسلمان اپنے آپ کو ذلیل وعاجز نہ سمجھے میں قوی شخص کے مقابلے میں ضعیف آدمی کے ساتھ ہوں جب تک وہ مظلوم ہے ان شاء اللہ۔۔۔

لوگوں کی یہی حالت رہی اور اسی حالت پر قائم تھے حتٰی کے بعض حکموں نے اس طریق کار کو تفریق امت کا ذریعہ اور افتراق قوم کا وسیلہ بنایا (یعنی جا وبے جا اعتراض کھڑے کرکے اختلاف کی راہ پیدا کرلی (تاریخ الطبری جلد ٥ صفحہ ١٣٤ تحت ٣٥ھ ذکر بعض سیرہ عثمان رضی اللہ عنہ)۔۔۔۔

حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کا بیان!۔
عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ اس دور کے معتمد ومعتبر لوگوں میں سے ہیں ان کی زبانی عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کا نقشہ مصنفین نے نقل کیا ہے۔۔۔

عبداللہ مرصوف کے دور خلافت میں خارجیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کئے ( یہ وہی اعتراضات تھے جو سبائی ذہنیت والے لوگوں نے حضرت عثمان پر تجویز کئے ہوئے تھے) ان کے جواب میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دیانت، صداقت، حسن کردار اور حسن عمل کی خوب صفائی پیش کی۔۔۔
یعنی خارجیوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے کردار وعمل کے متعلق سوالات کئے ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے جو جوابات ذکر کئے ہی وہ اُن کو ناگوار اور بُرے معلوم ہوئے۔۔۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے ذکر کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایمان وتصدیق کے ساتھ متصف تھے صاحب عدل وانصاف تھے احسان واکرام ان کی صفت تھی عمدہ اخلاق وکردار کے مالک تھے حق بات کو قبول کرنے والے تھے جب بھی حق سامنے آتا جب عثمان سیرت کا یہ نقشہ انہوں نے سنا تو ابن زبیر سے متنفر ہوگئے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر الگ ہوگئے ( اس لئے کہ سبائیوں کی طرح خارجی بھی عثمان رضی اللہ عنہ کے خباف تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ اُن کی رائے کے موافق رہے تو ساتھ دینگے ورنہ تعاون چھوڑ دیں گے)۔۔۔۔۔ مورخ ابن جریر طبری نے ٦٤ھ کے تحت جلد سابع میں واقعہ ہذا کو بڑا مفصل لکھا ہے مگر میں نے اختصار کے پیش نظر البدایہ کے حوالہ پر اکتفا کیا ہے۔

مختصر یہ کہ سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ دو کے بیانات نے واضح کردیا کہ وفد کی مذکورہ بالا رپوٹ جو حضرت عثمان رضی اللہ کے عہد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے لاکر پیش کی تھی وہ صحیح تھی اور عہد عثمانی رضی اللہ عنہ میں دینی وملکی انتظامات درست تھے انصاف قائم تھا اور عوام میں قبائیلی عصبیت کی وجہ سے کسی قسم کی پریشانی اور بےچینی ہرگز موجود نہیں تھی۔۔۔(البدایہ لابن کثیر جلد ٨ صفحہ ٢٣٩ تحت امارہ عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنھا)۔۔۔

مذکورہ بالامندرجات کے ذریعے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں دینی وانتظامی معاملات درست تھے اور اکثر وبیشتر اوقات کسی قسم کی خرابی واقع نہیں تھی لیکن اس دور کے آخری ایام میں جس قسم کے تغیرات پیدا ہوئے ان کی ایک خاص نوعیت تھی اور اُن کے دواعی واسباب مخصوص قسم کے تھے۔۔۔

آغاز تغیرات!۔
دور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر اب تک بےشمار قومیں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں اور اسلام کا ہردور میں بول بالا ہوتا گیا اللہ کا کلمہ تمام ممالک پر غالب آگیا تمام اقوام نے دین اسلام کو قبول کرلیا غلطہ اسلام کو روکنے کے لئے کسی قوم کو جرآت نہ رہی تمام مذاہب شریعت اسلامیہ کا حکم تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔۔۔

اس صورتحال میں جن اقوام کو اسلام کے ساتھ خاص عداوت اور دشمنی تھی وہ ظاہر میں اسلام کے غلطہ کو روکنے کے لئے دسترس نہیں رکھتی تھیں انہوں نے اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کا دوسرا راستہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ درپردہ اسلام میں باہمی اختلافات کی اسکیم چلائی جائے ظاہر میں اسلام کو خیرخواہی اور اسلام پرستی کا دعوٰی قائم رکھا جائے زبان پر دین اسلام کی محبت واطاعت ظاہرا جاری رہے اور باطن میں اسلام واہل اسلام کے ساتھ عناد ونفاق کے سلسلہ کو چلایا جائے یہ اسلام میں افتراق پیدا کرنے کی گہری سازش تھی جو درپردہ شروع کی گئی۔۔۔

حسد وعناد پیش نظر تھا!۔
ان لوگوں نے عثمانی خلافت کے آخری ایام میں حسد وعناد کی بناء پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تھی میں یہاں پر حاسدین کے حسد پر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ودیگر علماء کے بیانات ذکر کردوں اس کے بعد اس بات کو واضح کریں گے کہ حسد وعناد کرنے والے اور شروفساد اٹھانے والے کون لوگ تھے؟؟؟۔۔۔ جنہوں نے منافقانہ طور پر تحریک چلائی اور قتل عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ تک نوبت پہنچا دی۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد!۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطور سوال یہ بات پیش کی گئی کے حضرت عثمان کے قاتلین کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ پر کس چیز نے برانگیختہ کیا تھا؟؟؟۔۔۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ حسد نے انہیں اس کام پر آمادہ کیا۔۔۔

چنانچہ فرمان ہذا کو امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے کتاب السنہ میں بالفاظ ذیل باسند نقل کیا ہے (کتاب السنہ الامام احمد صفحہ ١٩٧ طبع مکہ المکرمہ سن طباعت ١٣٤٩ھ)۔۔۔

اسی طرح تاریخ طبری، جلد پنجم ٣٥ھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ منقول ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعض لوگوں کو اس موقع پر حسدو عناد کرنے کے معاملے کو ذرا وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔۔۔ چنانچہ لکھا ہے کہ۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا حمدوثنا کی صلوہ والسلام کہا پھر جاہلیت کے دور اور اس کی شقارت کا ذکر کیا اور مذہب اسلام پھر اس کی سعادت کا بیان فرمایا اس کے بعد اللہ تعالی کے اس خاص انعام کا ذکر کیا جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک خلیفہ پر تمام امت کے مجتمع ہونےکی صورت میں فرمایا ہے پھر اس کے بعد دوسرے خلیفہ کے دور کا پھر اس کے بعد تیسرے خلیفہ یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کا ذکر فرمایا پھر اُن حوادث اور مصائب کا ذکر کیا جن کو امت پر بعض اقوام کھینج کر لائیں اور لاکر کھڑا کردیا ہے۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ اقوام دنیا کی طالب ہیں انہوں نے اس فضیلت پر حسد کیا ہے جو اللہ تعالٰی نے اس اُمت پر لوٹائی تھی اُمت کو جو چیز فضل وکمال کی حاصل ہوئی ہیں ازراہ حسد ان کو پس پشت ڈال دینے کا ان لوگوں نے ارادہ کر رکھا ہے۔۔۔

اللہ تعالٰی اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے جو ارادہ وہ فرماتے اس کی وہ تکمیل کرنے والا ہے۔ (تاریخ طبری جلد ٥ صفحہ ١٩٤ تحت ٣٦ھ عنوان نزول امیر المومنین ذاقار)۔۔۔

قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ کا قول!۔
ابن العربی نے اپنی مشہور کتاب العواصم میں اس موقعہ پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش کھڑا کرنے والوں کی پوزشن درج کی ہے۔۔۔

وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک قوم عناد وکینہ کی بناء پر جمع ہوئی اس قوم نے یہ اپنا نطریہ بنا رکھا تھا وہ ایسے لوگ تھے کہ جنہوں نے ایک مقصد حاصل کرنا چاہا مگر وہ اس کی طرف نہیں پہنچ سکے اور وہ لوگ حسد کرنے والے تھے انہوں نے اپنی حسد کی بیماری کو ظاہر کیا اور ان چیزوں پر ان لوگوں کو اپنے دین کی قلت اور یقین کے ضعف نے اٹھایا تھا اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے نےاس پر برانگیختہ کیا (العواصم من القواصم)۔

شروفساد کھڑا کرنیوالے کون لوگ تھے!۔
مذکورہ مندرجات نے وضاحت کر دی ہے کہ اسلام واہل اسلام کے ساتھ خاص حسد وعناد رکھنے والی بعض قوتیں تھیں جنہوں نے تمام شروفساد کو کھڑا کرنے کی سازش کو ہوا دی اور مرکز اسلام یعنی خلیفہ المسلمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کرکے اسلام میں پھوٹ ڈالنے کی سازش کی۔۔۔

اب قارئیں! کی خدمت میں تشریح پیش خدمت ہے۔۔۔ تمام سازش تیار کرنے والے اور اس کو چلانے والے کون لوگ کیا تاریخ ان کی کوئی نشاندہی کرتی ہے یا ان کا تعین کرنے میں کوئی رہنمائی کتب تاریخ سے حاصل ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔

تو اس کے متعلق عرض ہے کہ شیعہ وسنی مؤرخین نے اس مسئلہ کو بڑی وضاحت سے اپنی اپنی کتابوں میں حسب موقع درج کردیا ہے قلیل سی محنت کرنے سے وہ مواد حاصل ہوسکتا ہے۔۔۔

قارئین کرام! آپ کی سہولت کے لئے میں چند حوالہ جات پیش کرتا ہوں جن میں غور وفکر کرنے سے مسئلہ مذکورہ پوری طرح صاف ہوکر نظر آئے گا۔۔۔

اس کا اجمالی نقشہ یہ ہے کہ انتشار فی الاسلام کا یہ مسئلہ (عبداللہ بن سبا یہودی ) نے نو مسلم نے اٹھایا اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مختلف مقامات پر مختلف قوموں میں اپنے عقیدے کا پرچار کیا لوگوں کو اپنا ہمنوا بنایا اس کی منافقانہ چالوں اور دام تزدیر میں جو لوگ آگئے ان کو آمادہ کر کے خلیفہ اسلام پر وار کرنے کے لئے مدینہ المنورہ پر چڑھائی کی مرکز پر حملہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کیا اس طرح اہل اسلام میں افتراق وانتشار کا باب ہمیشہ کے لئے مفتوح کردیا۔۔۔

عبداللہ بن سبا کی ابتدائی کارگزاری اور بنیادی طریق کار!۔
حافظ ابن کثیر نے مسئلہ ہذا کو مندرجہ ذیل کی شکل میں پیش کیا ہے فرماتے ہیں کہ۔۔۔
حضرت عثمان رضی اللہ کے خلاف جو جماعتیں مذموم مقاصد کے تحت میں وجود میں آئیں تھیں اُس کے پس منظر میں یہ چیز تھی کہ!۔

ایک شخص یہودی (جس کو عبداللہ بن سبا کہتے تھے) بظاہر اسلام لایا پھر اس کو مصر کی طرف نکالا گیا ایک مضمون جو اس نے اپنی طرف سے اختراع کر لیا تھا وہ لوگوں کو ایک جماعت کے سامنے پیش کیا وہ مضمون یہ تھا کہ!۔

١۔ پہلے دریافت کرتا تھا کہ عیٰسی علیہ السلام آسمان سے واپس تشریف لائیں گے؟؟؟۔۔۔لوگ کہتے کہ ہاں آئیں گے۔۔۔ تو کہتا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیٰسی علیہ السلام سے یقینا افضل ہیں تو پھر ان کے لوٹ کرآنے سے کیوں انکار ہے؟؟؟۔۔۔

٢۔ پھر یہ چیزیں پیش کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کی تھی (یعنی ان کو اپنا وصی اور اپنا قائم مقام مقرر کیا تھا) پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور علی المرتضی خاتم الاوصیاء ہیں۔۔۔۔

٣۔ اس کے بعد یہ بات سامنے رکھتا کہ خلافت اور امارت کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حضرت علی بن ابی طالب زیادہ حقدار ہیں اور عثمان نے اپنی خلافت کے دوران کئی قسم کی زیادتیاں کرڈالی ہیں جو اُن کے مناسب نہیں تھیں۔۔۔

ابن سبا کی حامی جماعت نے حضرت عثمان کے حق میں کئی چیزوں کا انکار کیا اس معاملہ کو بظاہر امربالمعروف ونہی عن المنکر کا رنگ دیتے اور اصلاحی شکل میں پیش کرتے تھے۔۔۔

مصر وغیرہ کے بہت سے لوگ ان کے پروپگنڈے سے متاثر ہوکر فتنوں میں مبتلا ہوئے ان لوگوں نے کوفہ وبصرہ کے عوام کی جماعتوں کی طرف مراسلت وخط وکتابت جاری کر رکھی تھی شکایات عثمانی ان مراسلات کا موضوع ہوتا تھا اس طریق سے انہوں نے لوگوں کو مخالفت عثمانی پر مجتمع کیا اور کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بحث وجدال کرنے کے لئے مدینہ ارسال کئے وہاں جاکر انہوں نے کبار صحابہ کو معزول کرنے اور اپنے رشتہ داروں کو عامل بنانے کے طعن ذکر کئے اس طرح لوگوں کے قلوب میں شبہات ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔۔۔ (البدایہ لابن کثیر جلد ٧ صفحہ ١٦٧-١٦٨ تحت ٣٤ھ)۔۔۔

ابن خلدون کا بیان!۔

علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اس مقام پر عبداللہ بن سبا کا تعارف اور اس کی کارستانیاں ذہل میں مختصرا بیان کی ہیں۔۔۔
١۔ اس دور کے شریر اور فسادی عنصر میں ایک شخص عبداللہ بن سبا تھا جو ابن السوداء کے نام سے معروف تھا (السوداء اس کی ماں کانام تھا)۔
٢۔ یہ یہودی نسل سے تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ظاہرا اسلام لایا لیکن اس کا اسلام لانا صحیح نہیں تھا (اسکی منافقانہ چال تھی)۔۔۔
٣۔ (اپنے کردار کی وجہ سے) بصرہ سے نکال دیا گیا پھر کوفہ میں داخل ہوا پھر وہاں سے شام چلا گیا شام سے بھی اسے نکالا گیا پھر مصر میں داخل ہوا۔۔۔
٤۔ حضرت عثمان پر یہ بہت طعن کیا کرتا تھا اور درپردہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اولاد علی رضی اللہ عنہ کے لئے لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔۔۔
٥۔ اور لوگوں کو کہتا تھا کہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح واپس اس دنیا میں تشریف لائیں گے جس طرح حضرت عیٰسی علیہ السلام واپس تشریف لائیں گے یہاں سے اہل رجعت کے نزدیک رجعت کا مسئلہ لیا گیا۔۔۔
٦۔ اور کہتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں لیکن وصیت کو پورا نہیں کیا گیا ( یعنی ان کا حق غصب کیا گیا ہے)۔
٧۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کو ناحق طور پر لے لیا ہے لوگوں کو اس مسئلہ پر برانگیختہ کیا کرتا تھا۔۔۔
٨۔ حکام وعمال عثمانی پر کئی قسم کے طعن پیدا کرکے لوگوں کو اپنی طرف بلاتا تھا اور مختلف شہروں کی طرف خط وکتاب کر کے اس چیز کا پروپیگنڈا کرتا تھا اس کام میں ابن سبا کے ساتھ مندرجہ ساتھی تھے۔

خالد بن ملجم، سود بن حمران، کنانہ بن بشیر ان ہی لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو مدینہ واپس جانے سے روک رکھا تھا۔۔۔(تاریخ ابن خلدون جلد ٢)۔۔۔

تبنیہ!۔
عبداللہ بن سبا کی اسلام دشمنی اور افتراق بین المسلمین کی مختصر کارگزاری میں نے ذکر کی ہے مزید اس کے حالات اگر ملاحظہ کرنے مطلوب ہوں تو مندرجہ ذیل مقامات کی طرف توجہ دیں۔۔۔
١۔ تاریخ ابن جریر طبری جلد ٥ صفحہ ٩٠۔۔۔
٢۔ تاریخ ابن جریر طبری صفحہ ٩٨-٩٩ تحتی ٣٥ھ۔۔۔
٣۔ میزان الاعتدال للذھبی جلد ٢ صفحہ ٤٠ تحت حرف العین (عبداللہ بن سباء)۔۔۔
٤۔ لسان المیزان لابن حجر جلد ٣ صفحہ ٢٨٩ تحت حرف العین (تذکرہ عبداللہ بن سبا)۔۔۔
٥۔ کتاب التمہید والبیان فی مقتل الشہید عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ ٨٨ تحت ذکر بعث ابن سوداء دھاتہ فی البلاد۔۔۔


ابن سباء کی پوزیشن شیعوں کے نزدیک!۔
شیعہ مورخین اور مترجمین کے کبار علماء نے عبداللہ بن سبا کے متعلق اس بات کی تصریح کردی ہے کہ یہ ایک یہودی النسل شخص تھا پھر مسلمان ہوا اور بعد ازاسلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور دوستی کا دم بھرنے لگا یہودیت کے دور میں موسٰی علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون کے حق میں وصی ہونے کا یہ قول کرتا تھا اسلام لانے کے بعد یہی قول (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وصی نبی ہونے کا قول) کرنے لگا اور یہ (اسلام میں) اول وہ شخص تھا جس نے حضرت علی کی امامت کے فرض ہونے کا دعوٰی کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے براءت کرنے کو ضروری قرار دیا یعنی تبرٰی کرنے کو لازم ٹھہرایا) پس اسی وجہ سے شیعہ کے مخالف لوگوں نے یہ قول کیا ہے کہ تشیع اور رفض کا اصل شرچشمہ یہودیت ہے۔۔۔
a1.jpg

a2.jpg

حاصل کلام!۔
عثمانی خلافت کے آخری ایام میں ابن سبا کی یہ منافقانہ تحریک اہل اسلام میں اختلاف ڈالنے کے لئے چلائی گئی تھی اور ابن سبا نے مختلف علاقوں میں اپنے ہمنوا شرپسند افراد پیدا کر لئے تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کرتے اور ان کے عمال کی زیادتیاں شمار کرتے تھے یہ لوگ مشورہ کے ساتھ کوفہ سے بصرہ سے اور مصر سے چڑھائی کرکے مدینہ پر آتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا اہل بصرہ کا سرغنہ عبدالرحمٰن بن عدیس البلوی تھا بصریوں کا لیڈر حکم بن جبلہ العبدی تھا اور اہل کوفہ کی پارٹی کا سربراہ مالک بن حارث الاشترالنخفی تھا۔۔۔

چنانچہ خلیفہ ابن خیاط لکھتے ہیں۔۔۔
پہلے کچھ ایام ان لوگوں نے محاصرہ عثمانی کئے رکھا اس دوران مختلف مطالبات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منوانے کے لئے حیلے اور بہانے بنائے رکھے لیکن اصلی مقصد چونکہ دوسرا تھا (یعنی اسلام کے مرکز کو ختم کرنا مقصود تھا) اس لئے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بھی وہ کسی صورت مطمئن اور راضی نہیں ہوئے تھے آخر کار انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کی طرف اقدام کیا اور مرکز اسلام (خلیفہ المسلمین) کو موقع پاکر شہید کر ڈالا اور حضرت عثمان کی حفاظت کرنے والے حضرات کو بعد میں علم ہوا جبکہ وہ اپنا مطلب پورا کرچکے تھے۔

والسلام علیکم۔۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132

السلام علیکم۔

حضرت شیخ جیلانی کا فرمان!۔
حضرت عثمان کا مقام بیان کرتے ہوئے پیران پیر حضرت شیخ جیلانی نے غنیہ الطالبین میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اوراُن کے دور کی بہترین صفائی پیش کی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ برحق امام تھے یہاں تک کہ وہ شہید کئے گئے اور ان کے دور میں کوئی ایسی بات نہیں پائی گئی تھی جس کی وجہ سے ان کو مطعون کیا جاسکے یا ان کی طرف فسق کی نسبت کی جاسکے یا اُن کے قتل کا سبب قرار دیا جاسکے (غنیہ الطالبین مترجم صفحہ ١٣٧، فصل یعتقد اہل السنہ۔۔۔۔ الخ شیخ جیلانی المتوفی ٥٦١ھ طبع لاہور)۔۔۔


وعلیکم والسلام
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
عثمانی دور کے آخری مراحل اور اُن کا متعلقہ کلام


قاعدہ للاکثر حکم الکل!۔
یہاں توجہ کے لائق یہ چیز ہے کہ ملک میں انتظامی شکایت معلوم کرنے کی خاطر متعدد وفود (مشتمل اکابرین صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین) ارسال کئے گئے تو سوائے ایک عمار رضی اللہ عنہ کے سب کی واپسی رپورٹ یہ ہے کہ خلافت کے معاملات سب ٹھیک چل رہے ہیں ملکی نظام رعایا کہ حق میں درست ہے مظالم نہیں ہورہے بلکہ عدل وانصاف قائم ہے پس عام قاعدہ یہ ہے کہ (للکثر حکم الکل)۔۔۔

تو اس مقام میں بھی یہی صورت صحیحہ ہے جو سب حضرات نے آکر بیان کی ہے مخالفین عثمان رضی اللہ عنہ کی باتوں سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے متاثر ہوجائے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لہذا اکثر حضرات کی اطلاّ کو صحیح سمجھا جائے گا اور ایک شخص کی رائے کو متفرد رائے کا درجہ دیا جائے گا۔۔۔


اگر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی رپوٹ بھی ذکر کردی جاتی تو بہتر تھا کیونکہ صحیح بخاری میں امام بخاری نے احادیث ذکر کی جس کا مفپوم یہ ہےکہ
" اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی حضرت عمار رضی اللہ عنہ کوشیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔۔
صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی ،حدیث نمبر : 3742
صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی ،حدیث نمبر : 3743

اور آپ یہ فرمارہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مخالفین عثمان کی باتوں میں آگئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور غلط راستے پر چلے گئے اب جس کو اللہ تعالیٰ شیطان مردود سے پناہ دے اس کے بارے میں اس طرح کی رائے کہ وہ غلط راستے پر چلے گئے میری نظر میں صحیح حدیث کا انکار ہے ۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
اس کے علاوہ امام حاکم نے بھی ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا " جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو پھر کس کے ساتھ ہونا چاہئے ؟"نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا اس جماعت کو دیکھو جس میں سمیہ کا بیٹا ہے یعنی حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ
المستدرك على الصحيحين » كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد
اس حدیث میں بیان ہوا کہ جب اختلاف ہوجائے تو اس جماعت کا ساتھ دینا جس میں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معیار حق فرمایا اور آپ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رپورٹ کو کوئی اہمیت ہی دینے لئے تیار نہیں ۔ غور کریں کہیں آپ اہل حدیث ہوتے ہوئے صحیح حدیث کا انکار تو نہیں کررہے ؟؟؟؟؟
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
انتظامیہ سے درخواس ہے کہ بہرام صاحب کی تینوں تحریوں کا ایک تھریڈ بنا کر الگ سے لگا دیا جائے تاکہ۔۔۔
باقی کی باتوں کا رد میں وہاں دوں یہ مضمون بحث ومباحثے کے لئے نہیں ہے۔۔۔
شکریہ
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
انتظامیہ سے درخواس ہے کہ بہرام صاحب کی تینوں تحریوں کا ایک تھریڈ بنا کر الگ سے لگا دیا جائے تاکہ۔۔۔
باقی کی باتوں کا رد میں وہاں دوں یہ مضمون بحث ومباحثے کے لئے نہیں ہے۔۔۔
شکریہ
یہ بحث و مباحثہ نہیں بلکہ آپ کی تحریر میں جو سقم ہے اس کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آپ تصحیح فرمالیں شکریہ
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
یہ بحث و مباحثہ نہیں بلکہ آپ کی تحریر میں جو سقم ہے اس کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آپ تصحیح فرمالیں شکریہ
اس ہی لئے میں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے۔۔۔
تاکہ ایک بار ساری نشاندہیاں آپ اس تھریڈ میں کروا لیں۔۔۔
ویسے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو روکنے والے کون تھے؟؟؟۔۔۔
کیا اللہ کے منع کرنے پر آدم علیہ السلام سے اُس درخت کا پھل نہیں کھا لیا تھا؟؟؟۔۔۔
میں یہاں پر نہیں چاہتا کہ ٹائم پاس ہو اس لئے میں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے۔۔۔
کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ موضوع جنگ جمل اور سفین کی طرف نکل جائے گا کیونکہ عمار بن یاسر رضی اللہ کی۔۔۔
شہادت کی بات کرنے کی وجہ ہی یہ ہے تو ایک ساتھ دو موضوعات پر بات کرنا شاید عقلمندی نہیں۔۔۔
اس لئے صبر کرلیں انتظامیہ حرکت میں آجائے تو۔۔۔برکت ہی برکت ہے ان شاء اللہ۔۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
اس ہی لئے میں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے۔۔۔
تاکہ ایک بار ساری نشاندہیاں آپ اس تھریڈ میں کروا لیں۔۔۔
ویسے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو روکنے والے کون تھے؟؟؟۔۔۔
کیا اللہ کے منع کرنے پر آدم علیہ السلام سے اُس درخت کا پھل نہیں کھا لیا تھا؟؟؟۔۔۔
میں یہاں پر نہیں چاہتا کہ ٹائم پاس ہو اس لئے میں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے۔۔۔
کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ موضوع جنگ جمل اور سفین کی طرف نکل جائے گا کیونکہ عمار بن یاسر رضی اللہ کی۔۔۔
شہادت کی بات کرنے کی وجہ ہی یہ ہے تو ایک ساتھ دو موضوعات پر بات کرنا شاید عقلمندی نہیں۔۔۔
اس لئے صبر کرلیں انتظامیہ حرکت میں آجائے تو۔۔۔برکت ہی برکت ہے ان شاء اللہ۔۔۔
میں نے تو خلوص دل سے آپ کے مضمون میں سقم کی نشاندہی کی تھی سنی کتب کی صحیح احادیث کی دلیل سے مگر جانے کیوں آپ نے کچھ اور سوچ لیا
جہان تک بات ہے جنگ صفین کی تو میں تو کب سے مندرجہ ذیل دھاگہ میں اس پر بات کرنے کے آپ کامنتظرہوں لیکن آپ تو ایسے غائب ہوئے کہ جیسے ۔۔۔۔کے سر سے سینگ امید ہے جلد ہی آپکی تشریف آوری کی برکت ہوگی میں آپ کا منتظر ہوں
http://forum.mohaddis.com/threads/حضرت-عمار-بن-یاسر-رضی-اللہ-عنہ.9472/
 
Top