• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عدت کے دوران مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے اور اسے مجبور کرنے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
939
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
عدت کے دوران مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے اور اسے مجبور کرنے کا حکم

فتاوى عبر الأثير (( 32 ))​

السؤال: امرأة في فترة عدة الطلاق، يريد من كان زوجها إرجاعها، وهي لا تريد الرجوع، فهل له أن يكرهها على العودة؟

ایک عورت طلاق کی عدت گزار رہی ہے۔ اس کا سابقہ شوہر اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے، لیکن عورت واپس اس کے پاس جانے پر آمادہ نہیں۔ کیا شوہر اسے واپس آنے پر مجبور کر سکتا ہے؟

الجواب: إذا لم تنتهِ عدة المطلقة، فللزوج أن يرجعها متى ما شاء، بإذنها وبغير إذنها، وليس لها الحق في المعصية والنشوز، أما إذا انتهت عدتها، وبانت منه بينونة صغرى، فليس له أن يرجعها إلا بإذنها ورضاها، وبعقد ومهر جديدين.

جواب: اگر مطلقہ عورت کی عدت ابھی ختم نہیں ہوئی تو شوہر جب چاہے اس سے رجوع کر سکتا ہے، خواہ عورت کی اجازت ہو یا نہ ہو۔ البتہ عورت کو نافرمانی اور سرکشی کا حق حاصل نہیں۔ لیکن اگر عورت کی عدت ختم ہو جائے اور وہ شوہر سے جدائی صغریٰ کے ساتھ جدا ہو جائے، تو شوہر اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس سے رجوع نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے لیے نیا نکاح اور نیا مہر ضروری ہوگا۔

قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: «وقد أجمعوا على أن الحر إذا طلق الحرة بعد الدخول بها تطليقة أو تطليقتين، فهو أحق برجعتها، ولو كرهت المرأة ذلك، فإن لم يراجع حتى انقضت العدة، فتصير أجنبية، فلا تحل له إلا بنكاح مستأنف».

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب کوئی آزاد مرد اپنی آزاد بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد اسے ایک یا دو طلاقیں دے، تو وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اگرچہ عورت اس بات کو ناپسند کرے۔ لیکن اگر شوہر عدت ختم ہونے تک رجوع نہ کرے تو عورت اس کے لیے اجنبی ہو جاتی ہے، لہٰذا وہ اس کے لیے صرف نئے نکاح کے ذریعے ہی حلال ہو سکتی ہے۔‘‘

وباللہ التوفيق۔
 
Top