• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عدت کے دوران نکاح غیر قانونی نہیں،بے قاعدہ ہے، ماہرین

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,426
ری ایکشن اسکور
410
پوائنٹ
190
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مسلم فیملی لاز میں عدت کے دوران نکاح کو جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسے غیر قانونی قرار دے کر اس کیلئے کوئی سزا مقرر ہے تاہم اسے بے قاعدہ یا بے ضابطہ کہا جاسکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی سابق جج ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علماء کا اپنا موقف ہے تاہم عدت کے دوران نکاح حرام نہیں ہے بلکہ یہ بے قاعدہ ہے اور ایسی صورت میں جب عدت کی مدت ختم ہو جائے گی تو یہ نکاح از خود ریگولر ہو جائے گا، عدت کی مدت کے دوران نہ صرف نکاح ہو سکتا ہے بلکہ کچھ حدود و قیود کے ساتھ رخصتی بھی ہوسکتی ہے تاہم ہم ایسے نکاح یا شادی کو حرام قرار نہیں دے سکتے بلکہ ایک سقم والی شادی کہہ سکتے ہیں جونہی عدت کی مقررہ مدت ختم ہو گی یہ سقم بھی دور ہو جائے گا اور یہ نکاح یا شادی ریگولر ہو جائے گی۔
فوجداری قانون کے ماہرآفتاب احمد باجوہ نے کہا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت چیئرمین ثالثی کونسل طلاق موثر ہونے کا سرٹیفیکٹ جاری کریگی جو طلاق ہونے کے 90دن کے بعد جاری کیا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ خاتون کو طلاق موثر ہو گئی ہے اور اب وہ جہاں مرضی چاہے نکاح کر سکتی ہے، 90دن کی مدت اس لئے رکھی گئی تاکہ اگر خاتون حاملہ ہو تو پتہ چل جائے ، آج کے جدید دور اور ٹیکنالوجی چند ہفتوں کے حمل اور دنوں کے حمل کو بھی ظاہر کر سکتی ہے اگر عورت حاملہ نہیں تو وہ نکاح کر سکتی ہے تاہم ایسا نکاح بےقاعدہ ہوگا غیرقانونی نہیں۔ پاکستان کے قوانین عدت کے دوران نکاح کے معاملہ پر خاموش ہیں اس لئےایسے نکاح کو غیرقانونی یا قابل سزا نہیں کہا جاسکتا۔
سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمان نے کہا کہ عائلی قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت عدت کے دوران نکاح کو جرم قرار دیا گیا ہو ،اس لئے ایسا نکاح غیرقانونی تونہیں البتہ یہ بے قاعدہ ہو سکتا ہے اور رائج قوانین میں اس کے لئےکی سزا کا تعین نہیں ہے۔
حوالہ: روزنامہ جنگ مورخہ 7 مارچ 2018
 
Top