• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
حصّہ دوم: اقوالِ فقہا اورخروج

ان اُصولی مباحث کے بعد اب آئیے اقوالِ فقہا کی طرف۔ معاصر منکرین خروج اپنے دعوے کے اثبات کے لئے فقہائے کرام کے ان اقوال کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جن میں فاسق و متغلب ملوک کے خلاف خروج سے منع کیا گیا ہے۔ درحقیقت اقوالِ فقہا کو بطورِ دلیل پیش کرنے سے پہلے ان کا درست محل سمجھنا ضروری ہے جسے دو پہلووں سے سمجھا جا سکتا ہے ، ایک اسلامی خلافت کے درجات کی روشنی میں۔ ثانیاً، خلافت اور جدید ریاستوں کے فرق کی روشنی میں۔ ذیل میں دونوں پر بالترتیب گفتگو کی جائے گی:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
1) اقوالِ فقہا کا شرعی پہلو
جیسا کہ واضح کیا گیا کہ خروج سے مراد، فاسق مسلمان حکمران کی اطاعت سے نکل کر بذریعہ قوت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جدوجہد برپا کرناہے۔ خروج کی اصل اطاعتِ امیر کااطاعتِ شارع سے مشروط ہو نا اور مسلمانوں پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا لازم ہونا ہے ۔ یہ امر کہ خروج کب کیا جائے علماء کے ہاں ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے میں درج ذیل اُمور اہمیت کے حامل ہیں:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
1. علما کا اس امر پراجماع ہے کہ امامِ عادل کی اطاعت واجب ہے اور اس کی اطاعت سے نکلنا ان تمام وعیدوں کا مصداق بننا ہے جو احادیث میں 'الجماعۃ' سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کے لئے بیان ہوئی ہیں۔ ایسے عادل حاکم کا تختہ اُلٹنے کے لئے ہتھیار اُٹھانا یا اس کے اقتدار کو کمزور کرنے کے لئے گروہ بندی کرنا بغاوت کے زمرے میں شمار ہوگا اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے گا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
2. اسی طرح خروج کے مفاسد سے بچنے کے لئے امارتِ جابرہ کے خلاف بھی خروج نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ چھوٹے منکر کی جگہ بڑے منکر کا خدشہ مول لینے کے مترادف ہے۔ لیکن بذریعہ قوت نہی عن المنکر نہ کرنے کا مطلب حکمرانوں کو کھلا چھوڑ دینے یا ہر درجے میں نہی عن المنکر ترک کردینے کے مترادف نہیں ۔ شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم نے ایسے حاکم کی اطاعت کے رویے پر نہایت خوبصورت بات کہی ہے کہ ''اس صورتِ حال میں اطاعت سلبی نہیں کہ جس میں نہ تو نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہے اور نہ ہی ظالموں کے سامنے حق کہنا، بلکہ یہ رشد وہدایت اور حکمتوں پر مبنی ایجابی اطاعت ہے جو باطل کے سامنے نہ تو ذلت و رسوائی اور حقارت پر مبنی ہے اور نہ ہی ظالموں کے اثر و رسوخ سے خوف کھانے والی۔ چنانچہ ظالم حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کے نمونے ہمارے سلف صالحین کی زندگیوں میں بے شمار ملتے ہیں۔'' چنانچہ ائمۂ اسلاف کے ایسے تمام واقعات جن میں ملوک کے خلاف خروج سے ہاتھ روکنے کو کہا گیا، ان کا تعلق اسی قبیل سے ہے، اور عقل کا تقاضا بھی ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا ہی ہے۔ یعنی جب نظامِ اطاعت بحیثیت ِمجموعی اسلامی بنیاد پر قائم ہو، اسلامی علوم (قرآن وحدیث اور فقہ وعقیدہ) کی بالادستی قائم ہو، ریاستی ادارے معاشرے میں اسلامی احکامات کے مطابق کام کررہے ہوں، عدالتیں فقہ اسلامی کی بنیاد پر فیصلے کررہی ہوں وغیرہ تو ایسے حالات میں قرین قیاس بات یہی ہے کہ خروج سے احتراز برتا جائے کیونکہ اس طریقے سے ایک بڑے خیر (یعنی نظم اطاعت اسلامی) کے بکھر جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا خروج کی حکمتِ عملی سے اغماض کرتے ہوئے کم تر شر کو قبول کیا جانا چاہئے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
3. مسئلہ خروج میں اختلاف اس مرحلے پر ہوتا ہے جب امارتِ ضالہ کے خلاف خروج درپیش ہو۔ اس میں شک نہیں کہ علماے اہل سنت کی ایک بڑی تعداد کے خیا ل میں ایسے حاکم کے خلاف بھی خروج نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ ان کے نزدیک مسلمانوں میں دنگا و فساد ، کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی شان و شوکت کم ہوجانے کا خوف نیز بہت سے مصالح دینیہ کا فوت ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خروج کے خلاف ان علما کے فتوے کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے نزدیک خروج سرے سے شرعاًجائز ہے ہی نہیں، بلکہ اس رویے کی وجہ درج بالا حکمتیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
4. جس طرح علما کی ایک بڑی تعداد بوجہ فروغِ فساد امارتِ ضالہ کے خلاف خروج کرنے کی مخالف رہی ہے بالکل اسی طرح کئی جید علماے کرام جن کے سرخیل امام ابوحنیفہ ہیں ان کے خیا ل میں خروج جائز ہے کیوں کہ مسلمانوں پر شریعت ِاسلامی قائم کرنا اور فاسق امام کی جگہ امام عادل کے قیام کی جدوجہد ضروری ہے۔ اس مقدمے کے دلائل درج ذیل ہیں:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
1) قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا گیا: ﴿ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ﴾... سورة النحل‘ یعنی''طاغوت سے الگ ہو جاؤ ۔'' علمائے تفسیر7 نے صراحت کی ہے کہ طاغوت سے مراد اللہ کے دین کے مقابلے میں اطاعت کرانے والا بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست چونکہ طاغوت ہے لہٰذا یہ الجماعۃ کا مصداق کیسے ہوسکتی ہے جبکہ طاغوت سے بچنے والوں کو قرآن خوشخبری سنا رہا ہے۔ ساتھ ہی اُنہیں سیدھے ومضبوط راستے کا مژدہ سنا رہا ہے۔ اور طاغوت کی اطاعت کرنے والوں کو لعنتی، شیطان کے ساتھی اور بدترین لوگ قرار دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
2) قرآن میں ارشاد ہوا: ﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ...٢... سورة المائدة''ایک دسرے کی مدد کرو نیکی اور تقوے کے کاموں میں اور مددمت کرو گناہ اور زیادتی کے معاملات میں۔'' معلوم ہوا کہ گناہ و عدوان پر مبنی اور اُنہیں فروغ دینے والی ریاست (مثلاً جمہوری ریاست) کے ساتھ تعاون جائز نہیں، اور ایسی ریاست کی برضا و رغبت اطاعت کرنا درحقیقت اس کی مدد کرنے ہی کی ایک صورت ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
3) اہل ایمان کی امامت کا حقدار کون ہے؟ اس ضمن میں ارشاد ہوا : ﴿قالَ إِنّى جاعِلُكَ لِلنّاسِ إِمامًا قالَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتى قالَ لا يَنالُ عَهدِى الظّـٰلِمينَ١٢٤...سورة البقرة ''اللہ نے (جب ابراہیم سے) کہا کہ بے شک میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں (تو ابراہیم نے) عرض کی: کیا میری اولاد سے بھی؟ فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں۔'' امام جصاص، امام رازی اور امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ظالم اُصولاً منصب ِامامت کا حقدار ہے ہی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
4) اس ضمن میں مزید ارشاد ہوا : ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها...٥٨.... سورة النساء ''بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہیں سپرد کرو جو اس کے حقدار ہیں۔'' اس سے معلوم ہوا کہ منصب ِامامت ایسے شخص کو دینا چاہئے جو اس کا اہل ہے یعنی اس کی شرائط پوری کرتا ہو۔''
 
Top