• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عظمت قرآن

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
13
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
20
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عظمت قرآن

و

وسیم رضوی کی شرارت اور ہماری ذمہ داریاں​


ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا،والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ،أما بعد:

برادران اسلام!

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن ہی وہ ابدی کتاب ہے جس کا مخاطب اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے ہرانسان کو بنایا ہے،تین سو پچاس (350)آیتوں سے زیادہ مقامات پر اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ یہ کتاب کسی زمانے ،کسی جگہ،کسی گاؤں،کسی شہر،کسی ملک اورکسی قوم وقبیلے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انس وجن کو ایسی باتوں کی دعوت دیتا ہے جن میں ان کے لئے ہی دین ودنیا کی سعادتیں ،کامیابیاں اور کامرانیاں چھپی ہوئی ہے، قرآن جن وانس کوانفرادی واجتماعی طورپرزندگی کے ہر معاملے میں ایسی باتیں بتاتا ہے جن کے وہ سب محتاج ہیں۔

قرآن ایک ایسی بابرکت اور باوقعت کتاب ہے کہ جو بھی اس سے جڑ گیا اس نے شرف وعزت پائی ہے،اب دیکھئے نا کہ جس ذات اقدس ومقدس پر اس قرآن کا نزول ہوا رب العالمین نے اسے سیدالانبیاء والمرسلین اور سیدالاولین والآخرین بنا دیا،جس فرشتے نے پیغام رسانی کا کام انجام دیا رب العالمین نے اسے فرشتوں کا سردار بنا دیا،جس مہینے میں یہ قرآن نازل ہوا رب العالمین نے اس ماہ کو عظیم ماہ قرار دیتے ہوئے اس کا نام ہی اپنے کلام پاک میں ذکر کردیا،

جس رات اس قرآن کو پہلی مرتبہ نازل کی گئی اس رات کو ہزار مہینوں کی راتوں یعنی تراسی (83) سال کی عبادت سے افضل رات قرار دے دی گئی،جس امت کو یہ قرآن عطا کی گئی اس امت کو رب العالمین نے کنتم خیر امۃ کا نام دے دیا اور یہی وہ قرآن ہے کہ جس کے پڑھنے اور پڑھانے والے،سیکھنے اور سکھانے والے اس کائنات کے سب سے افضل اور سب سے بہتر انسان قرار پاتے ہیں،یہی وہ قرآن ہے کہ جس نے بھی اس سے اپنا رشتہ جوڑا وہ اس دنیا میں بھی سرخرو ہوا اور آخرت میں بھی اس کی بادشاہوں جیسی تاج پوشی کی جائے گی، یہی وہ قرآن ہے جس کی ہر آیت اور ہر لفظ میں شفاء ہے،یہی وہ قرآن ہے جس کی تلاوتوں کو سننے کے لئے فرشتے بھی جمگھٹا لگا دیتے ہیں،یہی وہ قرآن ہے جس جگہ بھی تلاوت کی جائے وہاں پر رب کی رحمتوں،سکینتوں اور برکتوں کی برسات ہونے لگ جاتی ہے،یہی وہ قرآن ہے جس کی تلاوت کرنے والوں کا ذکر آسمانوں میں بھی کی جاتی ہے،یہی وہ قرآن ہےجس کے بارے میں رب نے یہ وعدہ دیا ہے:’’ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى ‘‘ کہ جو شخص بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ ہی بدبختی کے اندر مبتلا ہوگا۔(طہ:123)یہی وہ قرآن ہے کہ جس نے اسے اپنا امام بنا لیا اسے یہ جنت میں داخل کرکے چھوڑے گا اور جس نے اسے پیٹھ پیچھے ڈال دیا اسے جہنم میں داخل کرکے چھوڑے گا،یہی وہ قرآن ہے جس کی عظمت کے بارے میں حبیب کائنات ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمادیا کہ:’’ أَبْشِرُوا فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ فَتَمَسَّكُوا بِهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أبداً ‘‘ خوش ہوجاؤ بے شک کہ قرآن مجید اللہ کی ایک ایسی رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے،تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو (اور اگر تم نے اس قرآن کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو) نہ تم کبھی ہلاک وبرباد ہوسکتے ہو اور نہ ہی کبھی گمراہ ہوسکتے ہو۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:713) یہی وجہ ہے کہ جب اس قرآن سے عرب قوم نے اپنا رشتہ جوڑا تو اس قرآن نے انہیں غلام سے بادشاہ بنا دیا اور آج ہم نے اسے پس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے ہمیں ہرجگہ ذلت وناکامی کا سامنا کرنا پڑرہاہے،آج قرآن سے ہمارا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے ہی ملعون وسیم رضوی جیسا خبط الحواس آدمی بھی ہماری مقدس کتاب کے اوپر انگلیاں اٹھادیتا ہے۔

برادران اسلام !یاد رکھ لیں!فرمان نبویﷺ کے فرمان کے مطابق یہ ایک ایسا دور ہے جس کے اندر صرف فتنے ہی فتنے ہیں،ہرطرف ہواہوس کا دور دورہ ہےاسی لئےوقتا فوقتا اہل ہوی اور خواہشات نفس کے پجاری شریعت کے معاملات میں شکوک وشبہات کو پیدا کرتے رہتے ہیں اسی کی ایک کڑی ملعون وسیم رضوی ہےتاکہ قرآن و اسلام اور مسلمانوں سے لوگوں کو بدظن کیا جاسکے ،وسیم رضوی جیسے ہزارنہیں بلکہ لاکھوں کفار ومشرکین سر توڑ کر کوشش کر لیں وہ اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیں مگر انہیں سوائے ہاتھ ملنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ہے جیسا کہ رب العالمین کا دوٹوک الفاظ میں یہ وعدہ ہے:’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَاللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ ‘‘ کہ یہ کفار ومشرکین یہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو پورا فرمانے والا ہے اگرچہ یہ کافر کتنا ہی نا پسند کریں۔(الصف:8)

اسلام کی فطرت میں قدرت نے یہ لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے​

قرآن کے خلاف بکواس کرنے والے خبطیوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ یہ قرآن پوری دنیا کے لئے ایک ایسی نعمت ہےجس کا مقابلہ یہ زمین وآسمان،یہ سورج وچاند ستارے بھی نہیں کرسکتے،اس روئے زمین پر قرآن ہی وہ واحد کتاب ہےجو شروع سے لے کر آخر تک من وعن ،اے ٹو زیڈ اور حرف بہ حرف سینوں میں محفوظ کی جاتی ہے اور یہ قرآن کا ایک ایسا اعزاز ہے جس کے اندر تاقیامت کسی بھی مذہب کا کوئی گرنتھ،کوئی پاٹھ شالااورکوئی کتاب بھی شامل نہیں ہوسکتا ہے،قرآن نے وسیم رضوی جیسے خبطیوں کو آج نہیں بلکہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی یہ کھلا چیلنج دے دیا ہے کہ اگر تمہیں قرآن کے کسی بھی بات پھر شک ہو،اگر کسی بات پر اعتراض ہو، تو پھر دیر نہ کرنا بلکہ اس جیسی کوئی ایک آیت ہی بنادینا اور ہاں اپنے ساتھ پوری دنیا کو بھی ملا لینافرمان باری تعالی ہے:’’ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ،فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ‘‘ کہ اے دنیا کے لوگو سن لو!ہم نے جو کچھ اپنے بندے محمدﷺ پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنالاؤ،تمہیں اختیار ہے کہ اللہ کے سوا اور اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو،پس اگر تم نے نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکتے تو اسے سچا مان کر اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں،جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔(البقرۃ:23-24)اسی بات کو رب العالمین نے سورہ بنی اسرائیل کے اندر کچھ یوں بیان فرمایا ہے:’’ قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ‘‘ یعنی کہ اے محمدﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور تمام جن مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔(الاسراء:88) بلا شک وشبہ وقت کی ترقی اور جدید سائنس وٹکنالوجی کے اس دور میں بڑے بڑے سائنٹسٹ،فلاسفر اور چاند تک سفر کرنے والے بھی مل کر کے بھی قرآن کی تعلیمات کو جھوٹا ثابت نہ کر سکےاور نہ کبھی کرسکیں گے ،کیونکہ قرآن ہے ہی ایسی کتاب کہ ’’ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ‘‘ جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے،یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے۔(فصلت:42)سچ فرمایا کسی شاعر نے

ہے قول محمدقول خدا،فرمان نہ بدلا جائے گا

بدلے گا زمانہ لاکھ مگر،قرآن نہ بدلا جائے گا​

زمانہ گواہ ہے کہ جس جس نے بھی اس قرآن کے خلاف آواز اٹھائی وہ یا تو اس کتاب کا اسیر ہوگیا یا پھر وہ لوگوں کے لئے دیدۂ عبرت بن گیا،ایسا ہی ایک واقعہ صحیح بخاری کتاب المناقب کے اندر منقول ہے سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جو عیسائی تھا وہ مسلمان ہوا اور سورہ بقرہ وسورۃ آل عمران سیکھ لیں اور وہ وحی کی کتابت بھی کرنے لگا پھر کچھ دنوں کے بعد مرتد ہوگیا اور لوگوں میں یہ کہتا پھرنے لگا کہ دیکھو’’ مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا كَتَبْتُ لَهُ ‘‘ محمدﷺ کو کچھ آتا جاتا نہیں ہے بلکہ وہ وہی کہتے تھے جو میں ان کو لکھ کر دیا کرتا تھا!(نعوذ باللہ) اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس انسان کی کچھ ہی دنوں میں موت واقع ہوگئی عیسائیوں نے اسے دفن کردیا مگر جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ اس کی لاش زمین کے باہر پڑی ہوئی ہے،عیسائیوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کا کام ہے چونکہ یہ مرتد ہوگیا تھا اسی لئے انہوں نے اس کی لاش کے ساتھ ایسی حرکت کی ہے!چنانچہ پھر ان عیسائیوں نے ایک دوسری اور پہلے سے زیادہ گہری قبرکھودی اور اسے دفن کردیا،لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر پڑی تھی،پھر ان عیسائیوں نے یہی کہاکہ یہ مسلمانوں کا کام ہےاور مسلمان دشمنی میں ایساکر رہے ہیں،چنانچہ انہوں نے پھرتیسری مرتبہ جتنی گہری قبر کھود سکتے تھے اپنی طاقت بھر کھودا اور اسے دفن کردیا لیکن جب صبح ہوئی تو پھر اس کی لاش باہر پڑی ہوئی تھی!اب کی بار ان عیسائیوں نے ’’ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ ‘‘ یہ جان لیا کہ ایسا کوئی انسان نہیں کر سکتا ہے(بلکہ یہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہے) چنانچہ انہوں نے اس کی لاش کو ایسے ہی چھوڑ دیا۔(بخاری:3617) دیکھا آپ نے قرآن اور رسالت کے خلاف جب اس نے آواز اٹھائی تو اس کا کیسا عبرتناک انجام ہوا!قرآن کے خلاف بول کر عزت وکرسی چاہنے والوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ قرآن کے خلاف جو آواز اٹھائے گا وہ دنیا ہی میں ذلیل ورسوا ہوگا!!

اسلامی بھائیو اور بہنو!

اب آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس ملعون نے ایسا کیوں کہا ہے؟ آخر وہ ایسا کہہ کرکے کس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ پوری امت مسلمہ کا دل ناراض کر کے اسے کیا ملنے والا ہے؟ دراصل اس نے ایسا ایک سوچی سمجھی پلاننگ اور منصوبے کے تحت کیا ہے اور اس کے پیچھے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے ذلیل ورسوا ہونے سے بچ جائے،جیل جانے سے بچ جائے کیونکہ جب وہ شیعہ وقف بورڈ (اترپردیش) کا چئیرمین تھا تب اس نے بڑی بڑی خیانتیں اور بڑے بڑے گھوٹالے کئے ہیں،اس نے شیعہ وقف بورڈ کی بے شمار جائیدادوں پر ناجائز قبضہ بھی جمالیا ہے اور ساتھ ہی بہت ساری جائیدادوں کو بیچ کر کے کھا بھی لیا ہے اسی طرح سے اس نے اپنے کئی رشتے داروں کو بھی شیعہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کا مالک بنا دیا ہے الغرض اس کے اوپرچوری اور گھوٹالے جیسے کئی کیسیں درج ہیں جس کی وجہ سے سی بی آئی اس کو گرفتار بھی کرنے والی تھی اور جب اسے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب میں نہیں بچ پاؤں گا اور اپنی بدعنوانیوں کی وجہ سے جیل کے پیچھے چلا جاؤں گا تو اس نے موجودہ حکومت کی ہمدردی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسا کہا ہے تاکہ وہ جیل جانے سے بچ جائے کیونکہ وہ شخص اور پوری دنیا اس بات کو اچھی طرح سے جانتی ہے کہ موجودہ حکومت کے سربراہان مسلم دشمنی کا جذبہ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے جو لوگ بھی مسلم دشمنی میں پیش پیش رہتے ہیں ان کو یہ حکومت پھولوں کا ہار پہنا کر بڑی بڑی سہولیتیں اور عنایتیں دیتی ہیں اور ان کو بڑے بڑے عہدے بھی دیتی ہے اور ساتھ ہی ان کے تمام مقدمات کو بھی خارج کردیتی ہے ،موجودہ حکومت صرف مسلم دشمنی کی وجہ سے ہی ایسا نہیں کرتی ہے بلکہ ہر اس انسان کو خصوصی عنایات عطا کرتی ہے جو ان کی ہاں میں ہاں ملائے اور اس انسان کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیتی ہے جو ان کے خلاف جائے اس کی جیتی جاگتی مثال اور ثبوت تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک تیلگو ہیروئن تاپسی نے جب کسانوں کی حمایت میں کچھ بات کی تو اس حکومت نے اس کے گھر پر رائڈ کرا کرکے اسے ہراسمینٹ کیا اسی کے برعکس اسی فلم انڈسٹری کی اور ایک ہیروئن نے جب ان کی ہاں میں ہاں ملایا تو اس حکومت نے اس کو اعلی سطح یعنی ہائی سیکورٹی عطا کی،جب معاملہ ایسا ہے تو ملعون وسیم رضوی نے بھی یہی سوچ کر کے ایک منصوبے کے تحت ایسی حرکت کی ہے تاکہ سربراہان حکومت اس کی اس حرکت سے خوش ہو جائے اوراسے عدالتوں کے جھمیلوں اور دنیا کے سامنے ذلیل ورسوا ہونے سے بچا لے۔

برادران اسلام!!

جب معاملہ ایسا ہے تو ہماری پہلی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم مسلمان عقلمندی سے کام لیں کیونکہ جتنا ہم اس ملعون کے خلاف اچھلیں گے اتنا ہی یہ حکومت کی نظر میں ہیرو بن جائے گا اور حکومت کی پشت پناہی اسے مل جائے گی اسی لئے جذبات میں نہ آئیں عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اس کے خلاف اسی قانون کا سہارا لیں جس قانون کی سزا سے بچنے کے لئے اس نے یہ سازش رچی ہے اور اس کے منصوبے پر پانی پھیر دیں اور اس ملعون کی سازشوں کو ناکام کردیں،یاد رکھ لیں!ہم اس کی اس حرکت کو جتنا زیادہ پرچار کریں گے اتنا ہی اس ملعون کی پیٹھ تھپتھپائی جائے گی اور اسے شاباشی دے کراس کو خصوصی مراعات دئے جائیں گے۔

دوسری ذمہ داری ہماری یہ بنتی ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں،عقل کے ناخن لیں،رب کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اس فریضہ کو انجام دینا شروع کردیں جس کے لئے ہمیں امت محمدیہ میں پیداکیا گیا ہےیعنی کہ ہم رب کے پیغام کو کافروں اور مشرکوں تک پہنچائیں،قرآن کیا ہے؟اس کی تعلیمات کیا ہیں؟ اس کے اندر کن کن باتوں کا ذکر ہے؟انسان کا قرآن سے کیا رشتہ ہے؟ قرآن انسانیت کے لئے کیوں ضروری ہے؟ یہ صرف مسلمانوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی کتاب ہے؟اس طرح کے جتنے بھی سوالات ہیں ان تما سوالات کا جواب پوری دنیا کو دینا ہمارا اولین فریضہ ہے!خبردار!یاد رکھ لیں!اگر ہم نے اس میں کوتاہی کی تو رب العالمین ہمیں اپنے مقدس کلام کے اندر یہ انتباہ دے رہا ہے:’’ وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثالَكُمْ ‘‘ اور اگر تم دین سے پھر جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے۔(محمد:38)

آخر میں رب العالمین سے دعا گو ہوں کہ الہ العالمین تو تمام مسلمانوں کو نیک سمجھ عطا فرما اور کافروں کے ہر مکر فریب سے ہماری حفاظت فرما۔۔۔۔۔۔حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔۔۔۔۔۔۔


طالب دعا

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​
 
Top