ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 801
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
علامہ ابن جوزی کی مذمت یزید میں کتاب شیخ زبیر علی زئی کے اصولوں کی روشنی میں
تحریر: محمد صالح حسن
یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی مذمت میں سب سے زیادہ پیش کی جانے والی کتاب وہ ہے جس کا نام "الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید" جو علامہ ابن جوزیؒ کی طرف منسوب ہے۔ روافض اور اہلِ بدعت یزید رحمہ اللہ پر لعنت کے جواز کے لیے بڑے زور و شور سے یہ کتاب پیش کرتے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اہل سنۃ والجماعۃ یزید رحمہ اللہ پر لعنت کو جائز سمجھتے ہیں۔
کیا یہ کتاب واقعی ابن جوزیؒ کی تصنیف ہے ؟
کسی شخص کی طرف منسوب کتاب سے استدلال کے لیے ضروری ہے کہ وہ کتاب مصنف سے ثابت ہو۔ اس کے لیے اہلِ علم نے کچھ شرائط بیان کی ہیں۔ چنانچہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"ان تینوں کتابوں (قرآن مجید، بخاری و مسلم) کے علاوہ دنیا کی کسی کتاب سے بھی استدالال کے لیئے درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:
1) صاحب کتاب ثقہ و صدوق ہو۔۔۔
2) کتاب کے مخطوطے کا ناسخ و کاتب، ثقہ و صدوق ہو،
حافظ ابن الصلاح الشہر زوری فرماتے ہیں کہ: وھو أین یکون ناقل النسخة من الأصل غیر سقیم النقل، بل صحیح النقل، قلیل السقط
اور (تیسری) شرط ہے کہ اصل کتاب سے نسخے کا ناقل(کاتب و ناسخ) غلط نقل کرنے والا نہ ہو بلکہ صحیح نقل کرنے والا اور کم غلطیاں کرنے والا ہو۔(علم الحدیث لابن صلاح ص ۳۰۳ نوع:۲۵)
اس شرط سے معلوم ہوا کہ اگر کتاب کا کاتب غیر ثقہ یا مجہول ہو تو اس کتاب سے استدلال باطل و مردود ہے۔"
(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص16)
آگے لکھتے ہیں:
۳: ناسخ مخطوطہ سے صاحب کتاب تک سند صحیح ہو مثلاًؒ
ابن ابی حاتم الرازی کی کتاب "اصول الدین" کی سند صاحب مخطوطہ سے لے کر ابن ابی حاتم تک صحیح ہے۔(دیکھئے الحدیث حضرو ج۱،شمارہ ۲ ص ۴۱)
جبکہ شرح السنۃ للبر بہاری کی سند میں دو راوی مجروح ہیں۔
اوّل: غلام خلیل کذاب ہے۔(الحدیث ۲ ص ۲۵)
دوم: قاضی احمد بن کامل متساھل ہے۔(ایضاًص ۲۵)
لہذا اس کتاب (شرح السنۃ للبر بہاری ، مطبوع و مخطوطہ) سے استدلال صحیح نہیں ہے۔
۴: مخطوطہ(کتاب کے قلمی نسخے) کا محل وقوع، خط، تاریخ نسخ پہچاننا اور قدامت کی تحقیق ضروری ہے ، جو نسخہ پرانا اور قلیل الغلط ہو ، اسے بعد والے تمام نسخوں پر فوقیت حاصل ہے۔"
(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 16)
حافظ زبیر علی زئیؒ لکھتے ہیں:
"۵: نسخہ پر علماء کرام اور ائمہ دین کے سماعات ہوں۔۔(سماع کی جمع سماعات ہے۔ جب ایک نسخہ علماء کرام خود پڑھتے یا انہیں سنایا جاتا تو وہ اس پر لکھ دیتے تھے کہ یہ فلاں فلاں نے پڑھا یا سنا ہے، اسے سماعات کہتے ہیں)"
(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 17)
آگے لکھتے ہیں:
"۱۰: صاحب کتاب سے اگر کتاب صحیح و ثابت ہو تو پھر بھی یہ شرط ضروری ہے کہ : صاحب کتاب سے لے کر صاحب قول و صاحب روایت تک سند صحیح یا حسن لذاتہ ہو۔ ان شرائط میں اگر ایک شرط بھی موجود نہ ہوتو اس کتاب کی روایت سے استدلال کرنا باطل و مردود ہو جاتا ہے۔"
(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 17)
اسی سے ملتی جلتی شرائط دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے شیخ زبیر علی ؒ لکھتے ہیں:
"اوّلاً: ضروری ہے کہ ناسخ کا تعارف معلوم ہو۔ اس کی علمی حیثیت کیا ہے ؟ وہ ثقہ تھا یا غیر ثقہ؟
ثانیاً: ناسخ نے اپنےمخطوطہ کو کس مخطوطہ سے لکھا ہے ۔
ثالثاً: ناسخ سے لے کر امام عبدالرزاق(مصنف) تک سند موجود ہو ۔
رابعاً: جس جگہ سے مخطوطہ دستیاب ہوا ہے وہاں تک مخطوطہ کیسے پہنچا اس بارے میں پوری تفصیل موجود ہو ورنہ یہ مخطوطہ من گھڑت اور جعلی قرار پاتا ہے۔"
(جعلی جزء کی کہانی ص ۳۷)
اس تفصیل اور شرائط پر جب ہم علامہ ابن جوزیؒ کی طرف منسوب کتاب "الرد علی المتعصب" کو پرکھتے ہیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ کتاب کئی وجوہات کی بنا پر غیر ثابت اور من گھڑت ہے۔
کیونکہ کتاب کے محقق دکتور ہیثم عبدالسلام محمد کتاب کی نسبت کو علامہ ابن جوزی سے قطعی اور یقینی بتاتے ہوئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ بعض متاخرین نے اسے علامہ ابن جوزیؒ کی طرف منسوب کیا ہے یا اسے ابن جوزی کی تصنیف بتایا ہے۔ اس میں بھی ابن تیمیہ، ابن کثیر، حافظ ذھبی، ابن اثیر نے کتاب کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں اس سے کتاب کی نسبت صحیح ثابت نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لیے مذکورہ شرائط کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔
کتاب کے موجود دونوں مخطوطات کے متعلق محقق دکتور یثیم لکھتے ہیں:
1) مکتبۃ الأوقاف ببغداد
ولا یوجد تاریخ نسخ المخطوط أو اسم الناسخ وھي خالیة من السماعات
یعنی مکتبہ الاوقاف بغداد کا مخطوطہ: اور اس نسخہ (مخطوطہ) پر تاریخ نسخ یا ناسخ کا نام موجود نہیں اور اس پر کوئی سماعات بھی درج نہیں۔
2) نسخة دار المخطوطات
ولا یوجد تاریخ نسخ المخطوط أو اسم الناسخ علی ھذہ المخطوطة وھي خالیة من السماعات
دار المخطوطات کا مخطوطہ: اور اس نسخہ (مخطوطہ) پر تاریخ نسخ یا ناسخ کا نام موجود نہیں اور اس پر کوئی سماعات بھی درج نہیں۔
(الرد علی المتعصب، مقدمة التحقیق/نسبة الکتاب والتسمیة ص ۲۷)
اس سے معلوم ہوا کہ کتاب کے موجود دونوں مخطوطات میں سے کسی ایک پر بھی:
- ناسخ کا نام
- تاریخ نسخ
- علماء کرام کے سماعات موجود نہیں۔
شرط نمبر 2: کتاب کے مخطوطے کا ناسخ و کاتب، ثقہ و صدوق ہو۔(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 16)
لیکن اس کتاب کے ناسخ کا نام ہی مجہول ہے۔ اس لیے اس کا ثقہ ہونا ثابت نہیں۔
شرط نمبر 3: ناسخ مخطوطہ سے صاحب کتاب تک سند صحیح ہو۔(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 16)
لیکن یہاں سرے سے کوئی سند ہی موجود نہیں۔
شرط نمبر 5: نسخہ پر علماء کرام اور ائمہ دین کے سماعات ہوں۔(ماہنامہ الحدیث شمارہ:5 ص 17)
لیکن دونوں مخطوطات پر علماء کرام کے سماعات موجود نہیں۔
یعنی یہ کتاب "الرد اعلی المتعصب العنید المانع من ذم یزید " علماہ ابن جوزیؒ سے ثابت نہیں بلکہ اس کی نسبت ہی مشکوک اور غیر ثابت ہے اور کسی کتاب سے استدالال کے لیے بیان کرہ شرائط سے خالی ہے ۔
ایسی کتاب سے استدلال کے متعلق حافظ زبیر علی زئیؒ لکھتے ہیں:
"ان شرائط میں اگر ایک شرط بھی موجود نہ ہوتو اس کتا ب کی روایت سے استدلال کرنا باطل و مردود ہو جاتا ہے۔" (ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 ص 17)
اور آگے لکھتے ہیں:
امام شافعی رحمہ اللہ کے نام سے ایک کتاب "الفققہ الاکبر" منسوب کی گئی ہے۔۔اس کتاب کے موضوع و من گھڑت ہونے کے چند دلائل درج ذیل ہیں:
1: اس کا ناسخ (کاتب) نا معلوم ہے۔
2: ناسخ سے لے کر امام شافعی تک سند نامعلوم ہے۔
آگے لکھتے ہیں: معلوم ہوا کہ یہ سب نسخے بے اصل اور مردود ہیں۔ "(ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 ص 18)
ہم کہتے ہیں اسی بنیاد پر اور انہیں اصولوں کی روشنی میں ابن جوزیؒ سے منسوب یہ کتاب "الرد اعلی المتعب العنید المانع من ذم یزید " موضوع و من گھڑت ہے اور اس سے استدلال باطل و مردود ہے۔ جو حضرات یزید رحمہ اللہ کے خلاف اس کتاب کے حوالے پیش کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ شیخ زبیر علی زئیؒ کے ان اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کا مصنف تک بسند صحیح ثبوت پیش کریں۔ اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر :
"یاد رہے کہ بے سند کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں۔"(فتاویٰ علمیہ:3/94)