ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
علامہ ابن عثیمین کی نظر میں وطن کی خاطر لڑنے کا حکم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شیخ محمد بن صالح العثيمين فرماتے ہیں :
قوم يقاتلون للوطن، ونحن إذا قاتلنا من أجل الوطن؛ لم يكن هناك فرق بين قتالنا وبين قتال الكافر عن وطنه. حتى الكافر يقاتل عن وطنه ويدافع عن وطنه.
ایک قوم ایسی ہے جو وطن کے لیے لڑتی ہے، اور اگر ہم بھی وطن کی خاطر لڑیں، تو ہمارے اور کافر کے قتال میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ کافر بھی اپنے وطن کے لیے لڑتا ہے اور اس کا دفاع کرتا ہے۔
[شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، ج : ١، ص : ٦٥-٦٦]
یہ سطور اسلام اور وطنیت کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتی ہے جہاد فقط فی سبیل اللہ ہے، نہ کہ فی سبیل الوطن، اسلام کا جہاد ربِّ کائنات کے دین کو غالب کرنے کا نام ہے، نہ کہ وطن کی مٹی، وطنی پرچم، وطنی سرحد یا وطن کی جغرافیائی حدود کی خاطر لڑنے مرنے کا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
جو شخص اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے قتال کرے، وہی اللہ کے راستے میں (قتال کرنے والا) ہے۔
[صحيح مسلم، حدیث نمبر: ۴۹۱۹]
پس جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے قتال کرے وہ مجاہد ہے؛ اور جو "وطن" کا جھنڈا بلند کرے، وطن کے لیے قتال کرے وہ کافر کے ہم پلہ ہے۔
شیخ ابن عثیمین نے اس حقیقت کو واضح کیا: "وإذا قاتلنا من أجل الوطن لم يكن بيننا وبين الكفار فرق." یعنی جو جنگ وطنیت کی بنا پر ہو، وہ اور کفار کی جنگ برابر ہے، اور وہ فی سبیل الطاغوت ہے نہ کہ فی سبیل اللہ۔
لہٰذا وطن پرستی صرف ایک فکری گمراہی نہیں، یہ شرکیہ طاغوتی عقیدہ ہے وطن پرستی طاغوت کی عبادت ہے۔ جب انسان "وطن" کو اپنی جنگ کی بنیاد بناتا ہے، جب وہ "وطنی پرچم" کے لیے مرتا ہے، جب وہ "وطنی سرحد" کو دین سے مقدم سمجھتا ہے، تو وہ ربّ العالمین کی راہ چھوڑ کر طاغوت کے جھنڈے تلے قتال کر رہا ہوتا ہے۔