• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علل حدیث کی لغوی تحقیق

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
علل حدیث کی لغوی تحقیق
سلسلۂ علل حدیث۔۱

[emoji420] لفظ علت کے متعلق ابن فارس رحمہ اللہ کی تین تحقیقات ہیں۔ لفظ علت کے ان تین اشتقاقی معانی کو نیچے درج کیا جا رہا ہے۔

[emoji637]تكرر یا تکریر : بار بار کسی امر کا وقوع ہونا۔

[emoji638]عائق : رکاوٹ بننا، کسی شیء کو دور کرنا، ہٹانا(قال الخلیل-العلۃ حدثٌ یشغل صاحبہ عن وجہہ)

[emoji639]المرض : کسی شیء میں کمزوری ہونا

_{معجم مقاییس اللغۃ: ۱۲/۴}_

محدثین عموما علت سے آخر الذکر معنی مراد لیتے ہیں۔ ابن فارس کی ذکر کردہ دوسری تشریح سے بھی علت کا معنوی اشتراک ہے۔ تاہم تیسرے معنی سے علت کی اصطلاحی تعریف ماخوذ ہے۔
(ان شاء اللہ اسے اصطلاحی تعریف میں ذکر کیا جائے گا)‌۔

[emoji419]یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی حدیث کہ جس میں کوئی علت ہوتی ہے اس کے دو نام مشہور ہیں: معلول اور مُع‍َلّ۔

[emoji419]لفظ معل کا استعمال چونکہ متفق علیہ اور افصح ہے، (المنہج العلمی فی دراسۃ الحدیث المعل/۱۴) اسی لیے امام ابن صلاح اور نووی وغیرہ نے لفظ معل کو اختیار کیا ہے۔

[emoji1630]لیکن کبار محدثین سے لفظ معلول کا استعمال بھی ثابت ہے۔ جیسے امام ترمذی، امام دار قطنی، ابن عدی، امام بخاری رحم اللہ الجمیع سے علت والی حدیث کو معلول کہنا منقول ہے۔

[emoji420] پس یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ حدیث میں علت کا محل وقوع اور اسی علت سے مرتب ہونے والے نتائج کو سمجھنا زیادہ اہم اور ضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

[emoji421]محمد عبد الرحمن اڑیشوی

Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
 
Top