وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگرچہ میرا شمار اہل علم میں نہیں ہوتا لیکن اس طرح کی ویڈیو کا جواب دینے کے لئے خاص علم کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ جب کوئی جاہل اپنا جاہلانہ عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے دلائل بھی جاہلانہ ہی ہوتے ہیں۔
1: یہ واقعی امام ابن کثیر نے کسی اور کی تاریخ سے نقل کیا ہے اور اس میں لوگوں کے طرز عمل کا ذکر کیا ہے۔
وفاة شيخ الإسلام أبي العباس تقي الدين أحمد بن تَيْمِيَّةَ
قَالَ الشَّيْخُ عَلَمُ الدِّينِ الْبِرْزَالِيُّ فِي تَارِيخِهِ: وَفِي لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ الْعِشْرِينَ مِنْ ذِي القعدة توفي الشيخ الإمام العالم العلم العلامة الفقيه الحافظ الزاهد العابد الْقُدْوَةُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ تَقِيُّ الدِّينِ أَبُو الْعَبَّاسِ أحمد ابن شَيْخِنَا الْإِمَامِ الْعَلَّامَةِ الْمُفْتِي شِهَابِ الدِّينِ أَبِي المحاسن عبد الحليم ابن الشيخ الإمام شيخ الإسلام أَبِي الْبَرَكَاتِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي القاسم محمد بن الخضر بن محمد ابن الخضر بن علي بن عبد الله بن تَيْمِيَّةَ الْحَرَّانِيُّ ثُمَّ الدِّمَشْقِيُّ، بِقَلْعَةِ دِمَشْقَ بِالْقَاعَةِ التي كان محبوساً بها، وحضر جمع كثير إلى القلعة، وأذن لَهُمْ فِي الدُّخُولِ عَلَيْهِ، وَجَلَسَ جَمَاعَةٌ عِنْدَهُ قبل الغسل وقرأوا القرآن وتبركوا برؤيته وتقبيله، ثم انصرفوا، ثم حضر جماعة من النساء ففعلن مثل ذلك ثم انصرفن واقتصروا على من يغسله، فلما فرغ من غسله أخرج ثم اجتمع الخلق بالقلعة والطريق إلى الجامع وامتلأ بالجامع أيضا وَصَحْنُهُ وَالْكَلَّاسَةُ وَبَابُ الْبَرِيدِ وَبَابُ السَّاعَاتِ إِلَى باب اللبادين والغوارة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( البدایہ والنھایہ جل 14)
یعنی علامہ اس واقعے کو علم الدین البرازلی کی تاریخ سے نقل کر رہے ہیں اور یہ الفاظ انہی کے ہیں علامہ ابن کثیر کے نہیں ہیں۔ اور اس میں عوام کے طرز عمل کا ذکر کیا گیا ہے نہ کہ یہ کسی اہل علم کا عمل تھا۔
2: غسل کے پانی اور بیری کے پتوں کی تقسیم کا جو ذکر ہے وہ بھی لوگوں کے ایک گروہ نے کیا
وأما الرجال فحرزوا بستين ألفاً إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ إلى أكثر من ذلك إلى مائتي ألف وشرب جماع الْمَاءَ الَّذِي فَضَلَ مِنْ غُسْلِهِ، وَاقْتَسَمَ جَمَاعَةٌ بقية السدر الذي غسل به
3: جو دھاگہ شیخ الاسلام کے گلے میں تھا وہ کوئی تعویذ نہیں بلکہ دوا تھی۔ اس دھاگے پر پارہ لگا ہوا تھا جو جووں کی بیماری سے بچاو کے لئے تھا۔ کیونکہ شیخ الاسلام نے زندگی کا اکثر حصہ جیل میں گذارہ اس وجہ سے جووں کی بیماری کوئی تعجب کی بات نہیں۔
ودفع في الْخَيْطَ الَّذِي كَانَ فِيهِ الزِّئْبَقُ الَّذِي كَانَ في عنقه بسبب القمل مائة وخمسون درهماً، وَقِيلَ إِنَّ الطَّاقِيَّةَ الَّتِي كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ دفع فيها خمسمائة درهماً.
اور لوگوں نے یہ چیزیں خرید لی تو یہ ان کی عقیدت کا معاملہ ہے۔
چنانچہ اس تاریخی واقعہ سے اپنے باطل عقائد کو ثابت کرنا درست نہیں۔ اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام اور علامہ ابن کثیر بھی ایسے مشرکانہ عقائد کے حامل تھے۔ واللہ اعلم