• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورتوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
عورتوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت !!!

حمص (ملک شام کے ایک شہر کا نام) کی کچھ عورتوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے فرمایا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس (تقویٰ پرہیزگاری اور عصمت کے) پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے

(سنن ابن ماجہ : 3750 ، ، صحيح الجامع : 2710)
972363_616574001744206_3530543865032783925_n.jpg
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
10175048_647237078665042_7760789362020131963_n.jpg
عورتوں كےليے خوشبو لگانے كا حكم !!!
الحمد للہ:

عورت كے ليے اپنے گھر ميں رہتے ہوئے خوشبو استعمال كرنا جائز ہے، يا پھر وہ عورتوں كے مابين ہو تو بھى جائز ہے، اور اگر خوشبو خاوند كوخوش كرنے كے ليے لگائى جائے تو يہ مستحب ہے، كيونكہ يہ خاوند كى بہترين اطاعت ميں شامل ہوتا ہے.

ليكن اگر عورت خوشبو لگا كر باہر نكلے كہ اسے غير محرم اور اجنبى مرد سونگھيں اور اس كى خوشبو پائيں تو يہ حرام ہو گى، اور اس فعل پر عورت گنہگار ہوگى، كيونكہ اس ميں مردوں كو اس عورت نے فتنہ ميں ڈالا ہے.

ليكن جب مرد خوشبو لگا كر باہر نكلتا ہے تو اس سے فتنہ نہيں پھيلتا، جس طرح عورت كے خوشبو لگا كر نكلنے سے پھيلتا ہے، اور اگر ہم فرض كريں كہ جب مرد خوشبو لگا كر نكلتا ہے تو فتنہ پھيلےگا مثلا اگر خوبصورت اور نوجوان لڑكا ہو جس سے مرد فتنہ ميں پڑ جائيں، تو اس حالت ميں اسے فتنہ كےاسباب سے اجتناب كرنا چاہيے جس ميں زينت اختيار كرنا اور خوشبو لگانا بھى شامل ہے، وہ اس سے اجتناب كرے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينےوالا ہے.

اور كتاب: الفتاوى الجامعۃ للمراۃ المسلۃ ( 3 / 903 ) كا مطالعہ ضروركريں.

واللہ اعلم .
الاسلام سوال و جواب
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
عورتوں كے ليے مصنوعى بال اور وگ لگانے كا حكم !!!

كيا عورت اپنے خاوند كے ليے بطور بناؤ سنگھار وگ لگا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

خاوند اور بيوى ميں سے ہر كوئى ايك دوسرے كے ليے بناؤ سنگھار كر سكتا ہے، بلكہ كرنا چاہيے جس سے ان ميں محبت كا تعلق قوى ہوتا ہے، ليكن يہ سب كچھ شرعى حدود كے اندر رہتے ہوئے كرنا ہوگا، اسلام نے جو كچھ مباح كيا وہ استعمال كيا جائے، اور حرام كردہ اشياء سے اجتناب كيا جائے.

وگ نامى بالوں كا استعمال غير مسلم عورتوں ميں شروع ہوا وہ وگ لگا كر خوبصورتى حاصل كرتى ہيں، حتى كہ يہ چيز ان كى علامت بن چكى ہے، اس ليے مسلمان عورت كے ليے بطور خوبصورتى وگ لگانا جائز نہيں، چاہے خاوند كو دكھانے كے ليے ہى ہو، كيونكہ اس ميں كفار عورتوں كے ساتھ مشابہت پائى جاتى ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے مشابہت اختيار كرنے سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ ا نہى ميں سے ہے "
اور اس ليے بھى كہ يہ بالوں كے ساتھ اور بال ملانے ميں شامل ہوتا ہے، بلكہ يہ اس سے بھى شديد ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع كيا اور اس پر لعنت فرمائى ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 191 ).

اور حميد بن عبد الرحمن بن عوف بيان كرتے ہيں كہ جس برس معاويہ بن ابو سفيان رضى اللہ تعالى عنہما نے حج كيا اور وہ منبر پر بيٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے ايك خادم كے ہاتھ سے بال پكڑے ( وگ ) اور فرمانے لگے:

" تمہارے علماء كہاں ہيں، ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سنا كہ آپ اس سے منع فرمايا كرتے تھے، اور وہ كہتے تھے: جب بنو اسرائيل كى عورتوں نے يہ لگانے شروع كيے تو وہ ہلاك ہو گئے "

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى بال لگانے اور بال لگوانے، اور جسم گدوانے اور گودنے والى پر لعنت فرمائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5477 ).

واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/1171
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
مسجد جاتے وقت عورت كا خوشبو لگانا

ہم ديكھتے ہيں كہ نماز تراويح كے ليے آنے والى كئى ايك عورتيں بہت تيز خوشبو استعمال كرتى ہيں، جس كى بنا پر پيچھے آنے والے مرد بھى يہ خوشبو سونگھتے ہيں، ہم نے كچھ عورتوں ك واس كے متعلق نصيحت بھى كى تو وہ كہنے لگيں مسجد آتے وقت خوشبو استعمال كرنا مسجد كے ادب و احترام ميں شامل ہے، آپ سے گزارش ہے كہ اس كے متعلق كيا حكم ہے ؟

Published Date: 2008-03-01

الحمد للہ:

شرعى احكام كا مرجعہ اور ماخذ كتاب و سنت ہونا چاہيے نہ كہ لوگوں كى رائے، اور مزاج اور خواہشات اور استحسانات، فى ذاتہ اس مسئلہ ميں كئى ايك نصوص آئى ہيں، اور كچھ تو شديد نہى والى ہيں، اس ميں بہت سارى احاديث ہيں، جن ميں سے چند ايك صحيح احاديث ہم ذيل ميں درج كرتے ہيں جن ميں عورت كا گھر سے باہر نكلتے وقت خوشبو استعمال نہ كرنے كا بيان ملتا ہے:

1 - ابو موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس عورت بھى خوشبو لگا كر لوگوں كے پاس سے گزرے كہ لوگ اس كى خوشبو پائيں تو وہ عورت زانيہ ہے "

2 - زينب ثقفيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں سے كوئى عورت مسجد كى طرف جائے تو وہ خوشبو كے قريب بھى نہ جائے "

3 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس عورت نے بھى بخور ( خوشبو كى دھونى ) لى ہو وہ ہمارے ساتھ عشاء كى نماز ميں مت آئے "

4 - موسى بن يسار بيان كرتے ہيں كہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس سے ايك عورت گزرى جس سے خوشبو آ رہى تھى تو ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:

" اے اللہ و جبار كى بندى كيا تم مسجد جانا چاہتى ہو ؟

وہ عرض كرنے لگى: جى ہاں، تو ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: جاؤ جا كر غسل كرو، كيونكہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

" جو عورت بھى مسجد كى جانب جائے اور اس سے خوشبو آ رہى ہو تو اللہ تعالى اس كى نماز اس كى وقت قبول نہيں كرتا جب تك كہ وہ اپنے گھر واپس آ كر غسل نہ كر لے "


خوشبو استعمال كرنے سے ممانعت كا سبب واضح ہے كہ خوشبو شہوت كو انگيخت ديتى ہے، اور شہوت انگيخت كے اسباب ميں شامل ہے، اور علماء كرام نے اس كے ساتھ ان اشياء كو بھى ملحق كيا ہے جو اس كے معنى ميں شامل ہوتى ہوں مثلا: اچھا اور خوبصورت لباس، اور جو زيور ظاہر ہوتا ہو، اور اعلى قسم كى زينت و زيبائش، اور اسى طرح مردوں كے ساتھ اختلاط اور ميل جول "

ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 279 ).

اور ابن دقيق العيد كہتے ہيں:

" اس حديث ميں مسجد كى طرف جانے والى عورت كے ليے خوشبو كے استعمال كى حرمت پائى جاتى ہے، كيونكہ ايسا كرنے ميں مردوں كى شہوت كو حركت دينے كے اسباب پائے جاتے ہيں، اسے مناوى رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى پہلى حديث كى شرح كرتے ہوئے " الفيض القدير " ميں نقل كيا ہے "

اس ليے صحيح شرعى دلائل كے بعد جدال اور بحث اور مخالفت كى كوئى مجال اور گنجائش ہى باقى نہيں رہتى، بلكہ مسلمان عورت پر واجب اور ضرورى ہے كہ وہ اس معاملہ كى خطرناكى اور اس شرعى حكم كى مخالف پر ہونے والے گناہ كو سمجھے، اور اسے يہ ياد ركھنا چاہيے كہ وہ تو اجر و ثواب حاصل كرنے نكلى ہے، نہ كہ گناہ و معصيت كے ارتكاب كے ليے، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں سلامتى و عافيت سے نوازے.

بعد ميں ہم نے نئى ايجادات كى اخبار ميں يہ بھى پڑھا كہ بيالوجى كے علماء اور سانسدانوں نے يہ انكشاف كيا ہے كہ ناك ميں جنسى غدہ ہوتا ہے، يعنى دوسرے معنوں ميں يہ كہ سونگھنے كى طاقت اور شہوت انگيزى ميں بلاواسطہ تعلق اور ارتباط ہوتا ہے، اگر ان كى يہ بات صحيح ہے تو پھر يہ چيز بھى شريعت اسلامى كے مبارك احكام كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى ہے، جو عفت و عصمت لائى ہے، اور جس نے فحاشى كے تمام راستوں كو بند كيا ہے، حتى كہ كفار كے ليے بھى.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد

https://islamqa.info/ur/7850
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2017
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
41
السلام عليكم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس روایت کی تحقیق درکار ہے
أخرج أبو داود في سننه (2|166): حدثنا الحسين بن الجنيد الدامغاني (ثقة) حدثنا أبو أسامة (حماد بن أسامة، ثقة ثبت) قال أخبرني عمر بن سويد الثقفي (جيد) قال حدثتني عائشة بنت طلحة (ثقة حُجة) أن عائشة أم المؤمنين t حدثتها قالت: «كنا نخرج مع النبي ﷺ إلى مكة، فنضمد جباهنا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عند الإحرام. فإذا عرقت إحدانا، سال على وجهها. فيراه النبي ﷺ فلا ينهاها».
ہم ( ازواج النبیﷺ ) جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام پہن کر مکہ جاتیں، تو احرام پہننے سے پہلے اپنے چہرے پر مِسک اور ایک دوسری خوشبو ملا کر چہرے پر مل لیتیں ،ہم میں سے کسی کو جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو چہروں پر بہہ نکلتی ، رسول اللہ ﷺ یہ سب دیکھتے اور ہمیں کچھ نہ فرماتے ؛؛
 
Top