- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
عَرَب ... اَد ْیان و مذاہب
عام باشندگانِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں دینِ ابراہیمی کے پَیرو تھے۔ اس لیے صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور توحید پر کار بند تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خدائی درس و نصیحت کا ایک حصہ بھلا دیا۔ پھر بھی ان کے اندر توحید اور کچھ دین ابراہیمی کے شعائر باقی رہے۔ تاآنکہ بنو خزاعہ کا سردار عَمر و بن لُحَی منظر عام پر آیا۔ اس کی نشو و نما بڑی نیکو کاری، صدقہ و خیرات اور دینی امور سے گہری دلچسپی پر ہوئی تھی۔ اس لیے لوگوں نے اسے محبت کی نظر سے دیکھا اور اسے اکابر علماء اور افاضل اوّلیاء میں سے سمجھ کر اس کی پیروی کی۔ پھر اس شخص نے ملک شام کا سفر کیا۔ دیکھا تو وہاں بتوں کی پوجا کی جا رہی ہے۔ اس نے سمجھا کہ یہی بہتر اور بر حق ہے کیونکہ ملک شام پیغمبروں کی سر زمین اور آسمانی کتابوں کی نزول گاہ تھی۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھ ہبل بت بھی لے آیا اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی۔ اہل مکہ نے اس پر لبیک کہا۔ اس کے بعد بہت جلد باشندگان حجاز بھی اہل مکہ کے نقش قدم پر چل پڑے۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے والی اور حرم کے باشندے تھے۔ (مختصر سیرۃ الرسول، تالیف شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی ؒ ص ۱۲) اس طرح عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔
ہبل سرخ عقیق سے تراشا گیا تھا۔ صورت انسان کی تھی۔ دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، قریش کو وہ اسی حالت میں ملا تھا۔ انھوں نے اس کی جگہ سونے کا ہاتھ لگا دیا یہ مشرکین کا پہلا بت تھا اور ان کے نزدیک سب سے عظیم اور مقدس تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۲۸)
ہبل کے علاوہ عرب کے قدیم ترین بتوں میں سے مَنَاۃ ہے۔ یہ ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا اور بحر احمر کے ساحل پر قُدَیْد کے قریب مُشَلَّل میں نصب تھا۔ مشلل ایک پہاڑی گھاٹی ہے جس سے قُدَید کی طرف اترتے ہیں۔ (صحیح بخاری ۱/۲۲۲ فتح الباری ۳/۴۹۹، ۸/۶۱۳) اس کے بعد طائف میں لات نامی بت وجود میں آیا۔ یہ ثقیف کا بت تھا اور موجودہ مسجد طائف کے بائیں منارے کی جگہ پر تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۱۶) پھر وادئ نخلہ میں ذات عرق سے اوپر عُزّیٰ کی تنصیب عمل میں آئی۔ یہ قریش، بنو کنانہ اور دوسرے بہت سے قبائل کا بت تھا۔ (ایضا ص ۱۸، ۱۹ فتح الباری ۸/۶۶۸، تفسیر قرطبی ۱۷/۹۹) اور یہ تینوں عرب کے سب سے بڑے بت تھے۔ اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں شرک کی کثرت اور بتوں کی بھر مار ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک جن عَمرو بن لُحی کے تابع تھا۔ اس نے بتایا کہ قوم نوح کے بت ...یعنی وَدّ، سُواع، یَغُوث، یَعُوق اور نسر ...جدہ میں مدفون ہیں۔ اس کی اطلاع پر عمرو بن لحی جدہ گیا اور ان بتوں کو کھود نکالا۔ پھر انہیں تِہامہ لایا اور جب حج کا زمانہ آیا تو انہیں مختلف قبائل کے حوالے کیا۔ یہ قبائل ان بتوں کو اپنے اپنے علاقوں میں لے گئے۔ چنانچہ ود کو بنو کلب لے گئے اور اسے عراق کے قریب شام کی سرزمین پر دومۃ الجندل کے علاقے میں جرش کے مقام پر نصب کیا۔ سواع کو ہذیل بن مدرکہ لے گئے اور اسے حجاز کی سرزمین پر مکہ کے قریب، ساحل کے اطراف میں رہاط کے مقام پر نصب کیا۔ یغوث کو بنو مراد کا ایک قبیلہ، بنو غطیف لے گیا اور سبا کے علاقے میں جرف کے مقام پر نصب کیا۔ یعوق کو بنو ہمدان لے گئے اور یمن کی ایک بستی خیوان میں نصب کیا۔ خیوان اصلاً قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ ہے۔ نسر کو قبیلۂ حمیر کی ایک شاخ آل ذی الکلاع لے گئے اور حمیر کے علاقے میں نصب کیا۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر۴۹۲۰ (فتح الباری ۶/۵۴۹، ۸/۶۶۸) المنمق لمحمد بن حبیب ص ۳۲۷ ، ۳۲۸ کتاب الاصنام ص ۹-۱۱، ۵۶-۵۸)