• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلبہ دین کے ذرائع ( خطبہ جمعہ از مسجد نبوی )

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبد الباری بن عواض الثبیتی حفظہ اللہ نے 19-ربیع الثانی- 1434کا خطبہ جمعہ " غلبہ دین کے ذرائع" کے عنوان پر دیا،اور بتلایا کہ غلبہ دین کیلئے کوشش کرنا بہت ہی عظیم الشان عمل ہے ، اسکی بہت سی شکلیں ہیں جن میں :
دینی نشرو اشاعت، دینِ اسلام کی خوبیاں بیان کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ زندگی کو پھیلانا، اس کا دفاع کرنا، اپنی طاقت کے مطابق مظلوموں کی مدد کرنا، شامل ہے اور آخر میں آپ نے کثرت سے دعا کرنے کی ترغیب دلائی ، اور بتلایا کہ یہ مظلوم کی مدد کرنے کا انتہائی کار آمد طریقہ ہے۔


پہلا خطبہ:

حمد و ثناء اور درود کے بعد!
میں اپنے آپ اور سب سامعین کو تقوی کی نصیحت کرتا ہوں جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت آئے تو صرف اور صرف اسلام کی حالت میں۔ [آل عمران: 102]
آج اگر آپ نظر دوڑائیں تو حق و باطل ، اچھائی اور برائی درمیان کھینچا تانی سے بھر پور واقعات و حالات نظر آئیں گے، یہ ایسی حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کبھی بھی اس سے عاری نہیں ہو سکتی؛ کبھی اللہ عز وجل کی ذات اقدس کو اپنی زبان کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان درازی کی جاتی ہے تو کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کی جاتی ہے، اور کبھی اسلامی مقدس مقامات کے احترام کو پامال کیا جاتاہے۔
انہیں حالات و واقعات میں مسلم ممالک پر جنگی یلغار ، اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے قتل و غارت، مختلف تکالیف کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جن سے بچے یتیم ہو جائیں ، فقر و فاقہ عام ہو جائے۔ انہی حالات کو دیکھ کر ایک سچے مسلمان کے دل میں یہ سوال آتا ہے کہ اسکا کردار اسکے مقابلے میں کیا ہو؟ فرمانِ باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ
اے ایمان والو!اللہ (کے دین) کے مددگار بن جاؤ [الصف: 14]

غلبہ دین کیلئے کوشش کرنا ہر شخص پر فرض ہے، اسے چاہئے کہ اللہ کے دین، کتاب اللہ ، اور اسکے رسول کے غلبہ کیلئے جد و جہد کرے مظلوموں کی مدد کرے ، یتیموں اور فقیروں کی مدد کرے، فرمانِ باری تعال ہے:
وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ
اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ مگر کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہو [الأنفال: 72]
اور فرمانِ رسالت ہے: (اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم)
(ظالم کی مدد ظلم سے روک روکنا ہے ۔حدیث کے اگلے حصہ میں یہ وضاحت موجود ہے جو خطبہ میں بیان نہیں کی گئی۔ مترجم)

غلبہ دین کے لئے ہمیں دینی تعلیمات کو نشر و اشاعت کے ذریعے عام کرنا ہوگا، ہمیں اسکا محافظ بن کر رہنا ہوگا، اور سختی کے ساتھ اس پر کار بند رہتے ہوئے جن کاموں کا حکم دیا گیا اس پر عمل اور جن سے روکا گیا اُن سے بچنا ہوگا، دینِ اسلام کی خوبیاں لوگوں تک پہنچانی ہونگی، حقیقت جانو تو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا اصل راستہ ہی یہ ہے۔

غلبہ دین کےلئے کوشاں رہنا بہت بڑا مقام اور ہدف ہے، اور یہ میدان ہر مسلمان کیلئے کھلا ہے، اس ہدف کی بنیاد رکھنی ہو تو گناہوں کو چھوڑکر اللہ تعالی کے ساتھ سچا تعلق قائم کر لو، فرمان رسالت ہے:
(یقینا اللہ تعالی اس امت کی مدد کمزور لوگوں کی وجہ سے کرتا ہے ، جب وہ اخلاص کے ساتھ دعا کریں ، اور نماز ادا کریں)
یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ کبھی کسی نیکی کو چھوٹا یا تھوڑا مت سمجھنا، صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(میں نے ایک شخص کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا صرف ایک درخت کی وجہ سے جو اس نے مسافروں کو تنگ کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا)
تمام صحابہ کرام نے اپنی تمام تر توانائی دین کی خدمت میں لگا دی تھی یہ دیکھیں؛ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پُر سوز آواز کے ساتھ ایک موذن کے فرائض سر انجام دئے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی قرار پائے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بے باک اور نڈر جنگجو کمانڈر ثابت ہوئے، اور سیف اللہ کا لقب پایا، حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اس وقت کے میڈیا میں دین اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے ، عثمان بن عٖفان رضی اللہ عنہ اپنا سارے کا سارا مال اللہ دین کی خدمت کیلئے خرچ کر دیتے ہیں ، کہیں کنواں بنوا کر تو کہیں پورے لشکر کی تیاری کر وا کر اور کہیں غریب لوگوں کی مدد کرتے ہوئے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں دعوتی میدان کے شہسوار بنتے ہیں ، جبکہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما، اس غلبہ دین کی تحریک کے مضبوط ستون اور اسلامی مملکت کے کامیاب رکن ثابت ہوتے ہیں ، اللہ ان سب سے راضی ہو۔
غلبہ دین کے وسائل بے شمار ہیں ، اور وہ بھی سب کی پہنچ میں ہیں ، لہذا کسی نے تھوڑا سا بھی اپنا حصہ ڈالا تو وہ بہت ہی زیادہ اجر پاتا ہے، جیسے کہ فرمانِ رسالت ہے:
(اللہ تعالی ایک تیر کے بدلے میں تین لوگوں کو جنت میں داخل کریگا، 1- اجر کی امید سے اسے بنانے والا، 2- اسکے چلانے والا،3- اور پہنچانے والا)

اور جو صدقِ دل سے اللہ کے دین کیلئے مدد کرنا چاہے ، اللہ تعالی اسکا پورا ثواب لکھ دیتے ہیں اگرچہ وہ مدد نہ بھی کر پائے، فرمانِ نبوی ہے:
(اس دنیا میں چار قسم کے لوگ ہیں ، ایک وہ جو اللہ کے دئے ہوئے مال میں اس سے ڈرتا ہے، اوراپنے رشتہ داروں کا حصہ بھی اس میں رکھتا ہے، اور اللہ کا بھی اس میں حق یاد رکھتا ہے، یہ سب سے بلند مقام ہے، اس کے بعد وہ شخص ہے جسے اللہ نے علم تو دیا ہے لیکن مال نہیں دیا ، لیکن اسکی سچی نیت ہے کہ اگر اللہ نے اسے مال دیا تو وہ ضرور خرچ کرے گا، اللہ تعالی اسکو نیت کی وجہ سے ہی اجر دے گا اور دونوں کو برابر کریگا۔۔۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیسے ہو؟ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
لہذا جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں [الأعراف: 157]
اسکا بہترین انداز یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو عام کیا جائے، آپکی اطاعت کی جائے، اور آپ کے طریقہ کا ر کو اپنانے کیلئے خاص اہتمام کیا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔[النساء: 65]

یہ بھی اسی میں شامل ہے کہ اہل بیت سے محبت کی جائے آپ کے صحابہ کرام سے محبت کی جائے، انکا احترام کیا جائے، انکی فضیلت ہمارے عقائد کا حصہ ہو، ہم اپنی اولاد کو ان سے محبت کی تربیت دیں ، آپکی دعوتی سرگرمیوں کی خصوصیات بیان کریں، آپ کی ذات مبارک کے متعلق اٹھنے والے شبہات کا ازالہ کریں اور آپکی سیرت کا ترجمہ کر کے دیگر لوگوں تک اسے پہنچائیں۔

ایسے ہی اس دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود مظلوموں کی مدد کریں ، یہ مدد ہر مظلوم کا حق ہے اور ہر صاحب حق تک اسکا حق پہنچانا اور ظالم کو ظلم سے روکنا ہماری ذمہ داری ہے، کتنے ہی مسلمان ہماری مدد کے محتاج ہیں ، جو تکالیف سے چور ہیں ، مظالم نے انہیں پچھاڑ کر رکھ دیا ہے، (یاد رکھنا) ظالم اور ظالم کی مدد کرنے والا اور اسکے ظلم کو دیکھ کر خوش ہونیوالا یہ تمام گناہ میں شریک ہیں۔
فرمان ِ نبوی کے مطابق مسلمانوں کی مدد نہ کرنا منع ہے آپ نے فرمایا:
(مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر کبھی ظلم نہیں کرتا ، اور نہ ہی اسے ظالم کے حوالے کرتا ہے )
یعنی اگر کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے تو اسے اکیلا نہیں چھوڑ تا، اور اسی بارے میں فرمایا:
وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ
اور جو کافر ہیں تو وہی ایک دوسرے کے مدد گار ہیں, اگر تم (مسلمانوں)ایسا نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ اور بڑا فساد بپا ہوجائے گا[الأنفال: 73]
یعنی کافر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ، - اور تم مسلمانوں!- اگر آپس میں تم نے مدد نہیں کی تو زمین میں خوب فساد ہوگا۔

مظلوموں کی مدد زبانی کلامی اور عملی شکل ہر انداز سے ہونی چاہئے، جبکہ شام اور برما میں مظلوموں کی مدد کرنا ہمارے لئے اور زیادہ ضروری ہے، ہمیں انکی آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی ہیں ، وہ چیخ چیخ کر ہمیں اپنی مدد کیلئے بلا رہے ہیں ، انکا خون ہمیں بہتا ہوا نظر آتا ہے، انکے کٹے پھٹے اعضاء بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، ایسے خوفناک جرائم ، اور اجتماعی قتل و غارت جسکی تاریخ میں مثال نہ ملے، جہاں انسانوں کی آگ لگا دی جائے، خونِ دل سے ہاتھوں کو رنگا جائے، ہزاروں افراد کو در بدر کر دیا جائے، ننھے منھے چھوٹے چھوٹے بچوں کو درندگی سے قتل کر دیا جائے، املاک تباہ و برباد کر دی جائیں ۔
تعجب ہے مردہ ضمیر صفت پوری عالمی برادری پر کہ کسی نے درندگی کی طرف دیکھا تک نہیں اور خاموش تماشائی بن بیٹھے۔


یہ بھی غلبہ دین کا ایک ذریعہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی جائے، ایک مسلمان اپنے مال کو خرچ کر کے کسی کے دکھ درد میں شریک ہو سکتا ہے، مسلمان کو چاہئے کہ بھوکے لوگوں کیلئے کھانے پینے کا انتظام کرے، جو قید میں ہیں انہیں چھڑوائے، اور مریضوں کیلئے علاج کا بندو بست کرے۔


میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے مثبت ہو سکتا ہے، میڈیا کو چاہئے مسلمانوں کو اللہ کی یاد دلائے، انکے ایمان مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، امت مسلمہ کی حقیقت انکے سامنے رکھے، مسلمانوں کے عزم و ہمت بلند کرے۔
میڈیا کا پیغام یہ ہونا چاہئےکہ وہ بتلائے کہ مسلمانوں کے غصب شدہ حقوق کیا ہے، تا کہ حق ثابت ہو اور باطل مٹ جائے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ حسان بن ثابت کو کہہ رہے تھے:
(روح القدس تمہاری اسوقت تک مدد کرتے رہے ہیں جب تک تم اللہ اور اسکے رسول کا دفاع کرتے رہے ہو)
چنانچہ جس نے بھی اللہ اور اسکے رسول کا دفاع کیا اللہ تعالی اسکی مدد فرماتا ہے اور اسے عزت بھی بخشتا ہے۔


غلبہ دین کیلئے اہم ترین نسخہ وہ "دعا "ہے، دعا مفید ترین اور طاقت ور ہتھیار ہے، اگر کوئی مسلمان دعا بھی نہ کرے!! کبھی بھی اسے معاف نہیں کیا جائے گا، یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، قرآن کریم میں اسکی طاقت اور اثر کی جانب کچھ یوں اشارہ کیا:
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (9) فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ (10) فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ (11) وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
ان سے پہلے قوم نوح جھٹلا چکی ہے۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلا دیا اور کہنے لگے، ''یہ دیوانہ ہے'' اور اسے جھڑک دیا گیا[9]چنانچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ: ''میں مغلوب ہوچکا، اب تو ں ان سے بدلہ لے''[١٠]تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔[١1] اور زمین کو پھاڑ کر ہم نے کئی چشمے بہا دیئے۔ (نیچے اور اوپر کا) پانی ایک ایسے کام کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا [القمر: 9- 12]
اسی لئے ہمارے پیارے پیغمبر نماز میں قنوتِ نازلہ کرتے اور ان لوگوں کے خلاف بد دعا کرتے جو مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے اور انکے نام لے کر آپ نے نماز میں بد دعا کی۔
سختیاں کتنی ہی بڑھ جائیں اور حالات جتنے بھی تنگ ہوجائیں، اللہ کے سوا ہمیں کو بھی ان سے نہیں بچا سکتا ، ان تکالیف کو درو کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات ہے، فرمایا:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا
آپ ان سے کہئے: ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوامعبود سمجھتے ہو' وہ تم سے تکلیف' کو نہ ہٹا سکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں [الإسراء: 56]


مکر و فریب کے کتنے ہی جال بن لیں اس دین کی مخالفت میں جو کرنا چاہیں کر لیں آخر کار تابناک مستقبل اسی دین کا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس امت کویہ خوشخبری دے دو کہ عزت ، شان و شوکت اور غلبہ آخر کا اسی امت کا ہوگا) اسی کو قرآن نے کچھ اس انداز میں بیان کیا:
وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
اللہ کو یہ بات منظور نہیں وہ اپنے نور کو ضرور پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی بری لگے [التوبة: 32]
اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔


دوسرا خطبہ:

حمدوشکر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے بعد!
میں اپنے نفس کو اور آپ سب سامعین کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو [70] (اس طرح) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو درست کردے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی[الأحزاب: 70، 71]
اگر مظلوم مسلمانوں کی مدد کی جائے تو یہ دوسروں کیلئے بھی راہِ نجات بن جائے گی، اسی سے مسلم ممالک کی حفاظت کی جاسکتی ہے، اور اللہ کی مدد کے مستحق بن سکتے ہیں اسی کی بنا پر تمام لوگوں پر اللہ کی رحمت بھی نازل ہوگی فرمانِ باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ
اے لوگو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا [محمد: 7]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(جس شخص نے ایک مسلمان کی کوئی سی تکلیف دور کی اللہ تعالی اسکی قیامت کی تکالیف دور فرمائے گا، اور اللہ تعالی اپنے بندے کی اسوقت تک مدد میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرے، اور جو رحم کریگا اللہ تعالی اسی پر رحم فرماتا ہے)
اور یہ ہی تو ہے جیسا کام ویسا انعام۔
کسی کی مدد کرنا اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اللہ کے ہاں محبوب ترین وہ شخص ہے جو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے، اور سب پسندیدہ عمل اللہ کے ہاں یہ ہے کہ کسی مسلمان کو آپ خوش کر دیں ، یہ اسکی تکلیف دور کر دیں ، یا اسے کھانا کھلا دیں ، اور اسکا قرضہ چکا دیں)

اللہ کے بندو! رسول ہدایت پر درود و سلام بھیجو جیسے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں اسکا حکم دیا ،
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔[الأحزاب: 56].
یا اللہ اپنے حبیب محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- آپکی ازواج مطہرات اور آل پر ایسے رحمت نازل فرما جیسے توں نے ابراہیم پر نازل کی، یقینا تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، یا اللہ اپنے حبیب محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- آپکی ازواج مطہرات اور آل میں ایسے برکت فرما جیسے توں نے ابراہیم میں کی، یقینا تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے،
اے اللہ !چاروں خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان، علی ، اہل بیت اور تمام صحابہ سے راضی ہوجا۔
اے اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اے اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اے اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما،یا اللہ شرک اور مشروں کو ذلیل فرما، اے اللہ کفر اور کافروں کو ذلیل فرما، اے اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، اے اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن کا گہوارہ بنادے۔
یا اللہ جو ہمارے ملک یا دیگر مسلم ممالک کے بارے میں غلط سوچے یا اسے اپنی پڑ جائے، یا اللہ اسکی تمام مکاریاں اسی کے خلاف بنادے، اے دعاؤں کو سننے والے۔
یااللہ ہمارے شامی بھائیوں کی مدد فرمااور نکی حفاظت فرما، اے اللہ ہمارے بھائیوں کی برما اور شام مین حفاظت فرما، اے اللہ اپنی خاص مدد سے انکی مدد فرما، یا اللہ انکی خاص مدد فرما۔
یا اللہ انکے دلوں کو آپس میں ملا دے، انکی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، ان میں اتفاق پیدا فرما، یا قوی یا عزیز، توں ہر چیز پر قادر ہے۔
اے قرآن کو نازل کرنے والے ہمارے رب! بادلوں کو چلانے والے، بڑے بڑے لشکروں کو شکست دینے والے ہمارے رب، انکے دشمن کو شکستِ فاش دے اور شامیوں کی مدد فرما، اے اللہ انکی جلد از جلد مدد فرما، اے اللہ ان میں اتحاد پیدا فرما، انکے دلوں کو دھلنے سے بچا، انکی بات حق پر جمع فرما دے،اے اللہ ! انکی مدد فرما، انکے نشانے درست کردے، یا رحمن، یا قوی، یا عزیز یقینا توں ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی، اور تونگری کا سوال کرتے ہیں، اے اللہ ہم تجھ سے جنت اور اس سے قریب کرنے والے ہر قول وفعل کا سوال کرتے ہیں، اور جہنم و اس کے قریب کرنے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ ہماری دینی اصلاح فرما تبھی ہم برائیوں سے دور رہ سکتے ہیں، اور ہماری دنیا بھی اچھی بنادے اسی میں ہماری معیشت ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی کر دے کہ وہیں ہم نے لوٹ کر جانا ہے، ہماری زندگیوں کو نیکیوں میں زیادتی کا باعث بنادے، اور موت کو ہر شر سے بچاؤ کا ذریعہ بنادے ۔
اللہ ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اے اللہ ہمیں کامیاب کر، یا اللہ ہم پر کسی کو غلبہ نہ دے، یا اللہ ہمارے حق میں اچھی تدبیر فرما، یا اللہ ہمارے خلاف تدبیر نہ ہو، اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اور ہمارے لئے ہدایت کو آسان کردے، یا اللہ ہماری انکے خلاف مدد فرما جو ہمارے خلاف بغاوت کرے۔
یا اللہ ہمیں تیرا ذکر ، شکر، کرنیوالا بنا، تیرے لئے خشوع و خضوع کرنیوالے بنا، تیری طرف لوٹنے اور رجوع کرنے والے بنا۔
یا اللہ ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو دھو ڈال، یا اللہ ہماری حجت کو ثابت بنا، ہماری زبانوں کو درست رکھ، اور ہمارے دلوں سے بغض اور کینہ نکال دے۔
یا اللہ ! فوت شدگان پر اپنا رحم فرما، یااللہ مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! ہمارے قیدیوں کو چھڑا دے، یا اللہ تکلیف زدہ لوگوں کو تکلیف سے نکال دے، یا اللہ رب العالمین! مقروض لوگوں کے قرضے ختم کر دے۔
یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، اور اسے تندرستی بھی نصیب فرما، اے اللہ ! تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ رب العالمین! تمام مسلم حکمرانوں کی شریعت نافذ کرنے کی توفیق دے،
یا اللہ ہم تیرے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتے ہیں: یا اللہ ہمیں بارش عنائت فرما، یا اللہ ہمیں بارش عنائت فرما، یا اللہ ہمیں بارش عنائت فرما، یا اللہ! رحمت والی بارش نازل فرما، عذاب اور نقصان کرنے والی نہ ہو۔
یا اللہ تجھ سے تیری رضا اور جنت کا سوال کرتے ہیں ، اور تیری ناراضگی اور جہنم سے پناہ چاہتے ہیں۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
اے ہمارے پروردگا ر! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں, ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے, اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10]
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے [الأعراف: 23]،
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی, اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔[البقرة: 201].

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو اور زیادہ دے گا ،یقینا اللہ ذکر بہت بڑی چیز ہے ، اللہ جانتا ہے جو بھی تم کرتے ہو۔

مترجم: شفقت الرحمن مبارک علی
مصدر اردو ترجمہ :https://www.facebook.com/photo.php?fbid=499201313449432&l=f166e93a45
عربی خطبہ سننے کے لیے یہاں (وسائل نصرة دين الله) تشریف لائیں ۔
 
Top