• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر منصوص صفات کی اللہ عزوجل کی طرف نسبت

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,218
پوائنٹ
402
ایک بات تو واضح ہے کہ اللہ تعالى كے سارے نام توقيفى ہيں اور اس پر تمام علما کا اتفاق بھی ہے يعنى ان ناموں كے متعلق جو كچھ قرآن و سنت ميں وارد ہے اسى پر موقوف ركھا جائے گا اس ميں نہ تو كمى كى جائے گى اور نہ ہى اس سے زيادہ كيا جائے گالھذا اللہ تعالى كو صرف ایسے ناموں سے موسوم كيا جائے گا جن سے اللہ تعالى نے خود كو موسوم كيا ہے يا پھر رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا اطلاق اللہ تعالى پر كيا ہو، كيونكہ انسانی عقل ان اسماء كا ادراك نہيں كر سكتى جن كا اللہ تعالى مستحق ہے لھذا نص پر اكتفا كرنا اور اسے نص پر ہى موقوف ركھنا واجب اور ضرورى ہے اور فرمان بارى تعالى اس میں ایک واضح قاعدہ دے رہا ہے:اور جس بات كى تجھے خبر ہى نہ ہو اس كے پيچھے مت پڑ كيونكہ كان اور آنكھ اور دل ان سب ميں سے ہر ايك سے پوچھ گچھ كى جانے والى ہے} الاسراء ( 36 ).
اور قرآن مجيد ميں ياسنت نبويہ ميں جو كچھ صرف بطور خبر وارد ہے وہ اس طرح كہ اس كے ساتھ اللہ تعالى كا موسوم كرنا وارد نہيں تو اس كے ساتھ اللہ تعالى كو موسوم كرنا صحيح نہيں، يہ اس ليے كہ اللہ تعالى كى كچھ صفات كا تعلق افعال كے ساتھ ہے، اور اللہ تعالى كے افعال كى كوئى انتھاء نہيں جس طرح اس كے اقوال كى كوئى انتہاء نہيں.
اس كى مثال يہ ہے كہ: اللہ تعالى كى صفات فعليہ ميں " المجيئ، الاتيان، الاخذ، الامساك، البطش،" يہ سارى صفات فعليہ ہيں اس كے علاوہ بھى كئي ايك فعلى صفات ہيں جن كا شمار كرنا ممكن نہيں، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:{اور تيرا پروردگار آئے گا} الفجر ( 22 )
اور ايك مقام پر فرمايا:{اور اس نے آسمان كو تھام ركھا ہے كہ كہيں وہ اس كے حكم كے بغير زمين پر نہ آ گرے} الحج ( 65 ).
اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:{بلا شبہ تيرے رب كى پكڑ بہت سخت اور شديد ہے}البروج ( 12 ).
لھذا ہم اللہ تعالى كو ان صفات سے تو موصوف كريں گے جس طرح يہ نصوص ميں وارد ہيں اسى طرح ركھيں گے اور ان كے ساتھ اللہ تعالى كو موسوم كرتے ہوئے اس كے يہ نام نہيں ركھيں گےاور يہ نہيں كہيں گے كہ اس كے ناموں ميں" الجائى" اور " الآتى" اور " الآخذ" اور" الممسك" اور" الباطش" وغيرہ شامل ہيں، اگرچہ ہميں اس كى خبر دى گئى ہے اور ہم اس كے ساتھ اسے متصف بھى كرتے ہيں.
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,218
پوائنٹ
402
اس کی ایک واضح مثال مشہور حدیث جس میں ابوھریرہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی کا فرمان ہے :
( ابن آدم مجھے اذیت وتکلیف سے دوچار کرتا ہے ، وہ وقت اورزمانے کو برا کہتا ہے اووميں وقت اورزمانہ ہوں ، میرے ہی ہاتھ میں معاملات ہیں میں دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4826 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2246 ) ۔
یہ حدیث اس پر دلالت نہیں کرتی کہ الدھر اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں سے ایک اسم ہے ، بلکہ اس کا معنی تویہ ہے کہ اللہ تعالی ہی وقت اورزمانے کو پھیرتا اوراس میں تصرف کرتا ہے ۔
امام خطابی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
اس کا معنی ہے کہ : میں ہی صاحب دھر ہوں یعنی وقت اور زمانے کا مالک میں ہوں ، اورمعاملات کا مدبر بھی میں ہوں جسے یہ انسان زمانےاور وقت کی طرف منسوب کرتے ہیں ، توجو بھی اس وجہ سے زمانے اوروقت کو برا کہے کہ زمانہ ہی یہ سب کچھ کررہا ہے ، تواس کی گالی اوراسے برا کہنا اس کےرب اورمالک پر جاتا ہے جوان امور کا فاعل ہے ۔ ا ھـ
اور امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
( فان اللہ ھو الدھر ) کا معنی یہ ہے کہ : حادثات اورمصائب نازل کرنے والا اورخالق کائنات ، اللہ تعالی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ ا ھـ
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
الدھر اللہ سبحانہ وتعالی کے اسماء میں سے نہیں ، جوبھی یہ گمان کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے ناموں میں سے وہ دوسبب کی بنا پر غلطی کررہا ہے :
پہلا سبب :
یہ کہ اللہ تعالی کے اسماء سب کے سب حسنی ہیں ، یعنی وہ مکمل طور پر بالغ حسن میں ہیں ، تواس لیے معانی اور اوصاف کے لحاظ سے وہ اچھے اوراحسن معنی اوروصف پر مشتمل ہونا اوردلالت کرنا ضروری ہیں ، اسی لیے آپ اللہ تعالی کے اسماء میں کوئي اسم بھی ایسا نہيں پائیں گے جو جامد ہو ( یعنی جوکسی معنی پر دلالت نہ کرتاہو ) اورالدھر اسم جامد ہے جوکسی معنی پر محمول نہیں صرف یہ اوقات کا اسم ہے ۔
دوسرا سبب :
حدیث کا سیاق اس کا انکاری ہے کہ یہ اللہ تعالی کا اسم ہو : کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا : ( اقلب اللیل والنھار ) میں دن اوررات کو پھیرتا اورالٹ پلٹ کرتا ہوں ، دن اور رات یہ دونوں اوقات میں شامل ہيں تویہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ مقلب لام پر فتح ہو ، وہی مقلب لام پر کسرہ کے ساتھ ہو ؟ ا ھـ ۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,534
پوائنٹ
641
میں نے ایک سوال مکالمہ کے لیے پیش کیا۔ اس وقت تک اس سے متعلقہ بحث صرف انس صاحب کی طرف سے سامنے آئی ہے جبکہ بقیہ لوگوں کے تھریڈ مفید تو ہیں لیکن متعلقہ مسئلے پر نہیں ہیں۔ انس صاحب نے میری بات پر ایک علمی مقدمہ قائم کیا جو پوسٹ نمبر 2 میں ہے۔ میں نے اس کا جواب پوسٹ نمبر 4 میں دیا ہے۔ اب اگر کسی بھائی کو یہ بحث آگے بڑھانی ہے تو پوسٹ نمبر 4 کے جواب سے آغاز کریں۔ دیگر افادات علمیہ شیئر کرنے کے لیے مزید علیحدہ تھریڈ بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔
جزاکم اللہ۔
 

123456789

رکن
شمولیت
اپریل 17، 2014
پیغامات
215
ری ایکشن اسکور
87
پوائنٹ
43
الحمد للہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ مطلقاً یہ بات ٹھیک ہے۔ اس سے آگے وجدان سے صفات کا حدود اربعہ طے ہوگا۔ جو صرف اور صرف فلسفیانہ موشگافیوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔ ہماراوجدان یا فلسفہ کسی بھی جانب ہمیں لے جا سکتا ہے حتیٰ کہ ابن عربی کے فلسفے تک کے راستے یہی سے گزرتے ہیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,534
پوائنٹ
641
جناب ون ٹو تھری فور فائیو سکس سیون ایٹ نائن صاحب، پوسٹ نمبر ۲ اور ۴ کے مطابق بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کوئی بات کر سکتے ہیں تو کریں۔
 

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,957
ری ایکشن اسکور
5,793
پوائنٹ
354
( وباب الإخبار عنه بالاسم أوسع من تسميته به فإنه يخبر عنه بأنه شيء وموجود ومذكور ومعلوم ومراد ولا يسمى بذلك )، المدارج،( 3 / 415 )
محمد فیض الابرار بھائی۔پلیز فونٹ بڑا رکھیں تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔جزاک اللہ
 
Top