• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فتنے کی تشہیر بذات خود ایک فتنہ

شمولیت
نومبر 05، 2020
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
5
فتنے کی تشہیر بذاتِ خود ایک فتنہ
ازقلم: اُمّ محمد
معززین! ہم دور کےجس حصے سے گزر رہے ہیں وہ فتنوں کا دور کہلایا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان فتنوں میں کم و بیش ہم سب ہی گزر ہے ہیں۔ اس دور کی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی کر دی تھی۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:
"نبی کریم ﷺ مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھےپھر فرمایا کہ میں جو دیکھتا ہوں وہ تم بھی دیکھتے ہو؟لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں"۔(صحیح بخاری#7060)
میرا مو ضوع وہ نفسیاتی حربہ ہے جو ہمارا دشمن اسلام آزما رہا ہے۔ کسی بھی چیز/ جرم/گناہ/فحاشی کی تشہیر اس کے جاننے والوں کے ذہن کو اسے قبول کرنے پہ آمادہ کرتی ہے۔جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو گناہ نہیں لگتا۔ٹی وی کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک وقت تھا جب بدکرداروں کا اڈا سمجھا جاتا تھا اب معززین کی محفل سمجھا جاتا ہے۔اس سوچ کو پروان چڑھانے میں ہمارے ماحول اور میل جول کے لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ کیونکہ انسان گروہ کی صوارت میں رہتا ہے اور یہاں اسے متوازن زندگی گزارنے کے لئے اس گروہ کی قائم کردہ روایات کو بھی شعوری و لا شعوری طور پرماننا پڑتا ہے۔ کجا کہ کوئی شخص سوچ میں درست ہی کیوں نہ ہو ۔نفسیات میں اس کے لئے (group conformity) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اسی طرح برائی کا بار بار واقع ہونا مخالف کے ردعمل کی شدت کو کم کرتے ہوئے بالکل ہی ختم کر دیتا ہےاور یوں دشمن بآسانی ذرا سی جرات سے بہت اہداف حاصل کر لیتاہے۔رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت انہی عزائم کے تحت ہے۔اور ہم بے وقوف خود اس کی اشاعت کرنے میں پیش پیش ہیں۔ جبکہ اللہ کا فرمان ہےکہ:
"رسول مومنوں پر اپنی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں"۔(سورہ احزاب# 06)
دشمن ایک طرف ہمارے ایمان کی شدت اور دم خم ناپتا ہے گویا سوئی چبھوتا ہے اور دوسری طرف بے حسی کا انجکشن لگاتا ہے ہمیں عادی بناتاہے۔وہ ایک اخبار میں میں توہین کرتا ہے ہم بنا سوچے سمجھے ، بنا بات کے مقصد کو سمجھتے ہوئے ہر جگہ پہنچاتے ہیں۔
یہی حال ہمارا دوسرے معاملات میں ہے۔ ادھر کوئی پوسٹ / خبر ملی ، نہ سوچا نہ سمجھا کاپی کیا اور ادھر پیسٹ کیا۔ اور برابری کی سطح پر ذمہ داری اٹھا لی جبکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کر چکے ہیں جیسا کہ:
"مومنو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کے آئےتو خوب تحقیق کر لیا کرو کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان نہ پہنچا دو۔پھر تم اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے"۔ (سورہ حجرات# 06)
ایک جگہ اور اللہ عز وجل اس طرح ارشاد فرماتے ہیں:
"اے ایمان والو! جب اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔الخ"(سورہ النساء)
دور حاضر کے حالات اور اس سے منسلک مسائل کے بارے میں قرآن ہماری رہنمائی اس انداز میں کر رہا ہے:
"یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ داران تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں"۔(سورۃ النساء)
اور حدیث مبارکہ میں کچھ اس طرح ذکر ہوا ہے:
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بیان کر دے۔"(صحیح مسلم)
کام کرنے سے پہلے اس کو پرکھنا اور اس کے نتائج کر بارے میں جان لینا دانائی ہے۔ Stephon hawking کے مطابق ایک سمجھدار انسان کو اپنی فکر کا دائرہ معلوم کرلینا چاہیئے۔ اللہ ہم سب پہ رحم کرے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دے آمین۔
و ما علینا الا البلاغ۔
 
Top