کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
فجر سے قبل ماہوارى ختم ہوئى اور بغير غسل كيے روزہ ركھ ليا
سوال:
جواب:ميں فجر سے قبل پاك ہوئى اور نماز كے بعد تك انتظار كيا اورمجھے نيند آ گئى اور پھر دن دس بجے بيدار ہوئى، اور غسل كرنا بھول گئى، پھر ميں اپنى بيمار بيٹى كو ليكر ہاسپٹل چلى گئى اور وہاں عصر كا وقت ہو گيا پھر ميں نے غسل كيا اور رہنے والى نمازيں بھى ادا كيں..... اللہ جانتا ہے كہ جب سے ميں بالغ ہوئى ہوں ميرے ساتھ پہلى بار ايسا ہوا ہے، ليكن ا سكا سبب بھى يہ ہے كہ ميرى ماہوارى كے ايام كى عادت نو دن تھے، اور اس ماہ آٹھ يوم ميں ہى ماہوارى ختم ہو گئى، تو ميں نے يقين كرنے كے ليے اس ميں تاخير كى، اور پھر ميرا روزہ بھى تھا، مجھ پر كيا لازم آتا ہے، كيا ميں روزے كى قضاء كروں ؟
جب آپ نے فجر سے قبل پاك ہونے كا يقين كر كے روزے كى نيت كر لى، چاہے ايك منٹ قبل ہى تو آپ كا روزہ صحيح ہے، چاہے غسل ميں تاخير بھى ہو.
آپ مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے اس سوال كا مطالعہ ضرور كريں.
ليكن اگر آپ كو پاك ہونے ميں شك تھا، ليكن اس كے باوجود آپ نے روزے كى نيت كر لى، تو حيض سے پاك ہونے ميں شك كى بنا پر آپ كا روزہ صحيح نہيں.رمضان میں غسل جنابت کو طلوع فجر تک موخر کرنا
سوال:
کیا غسل جنابت کو طلوع فجر تک موخر کرنا جائز ہے ؟ اور کیا عورتیں حیض اور نفاس کے غسل کو طلوع فجر تک موخر کر سکتی ہیں ؟
جواب:
اگر عورت طلوع فجر سے پہلے طہر کو دیکھ لے تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی مانع نہیں کہ وہ غسل کو طلوع فجر کے بعد تک موخر کرے لیکن اس کے لۓ یہ جائز نہیں کہ وہ غسل کو طلوع شمس تک موخر کرے اور اسی طرح جنبی کے لۓ بھی طلوع شمس کے بعد تک موخر کرنا جائز نہیں آدمی کو چاہۓ کہ وہ جتنی جلدی ہو سکے غسل کر لے تا کہ فجر کی نماز باجماعت ادا کر سکے .
فتاوی الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل مسئلہ دريافت كيا گيا:
ايك عورت نے حيض سے پاك ہونے ميں شك كى حالت ميں ہى روزہ ركھ ليا، اور جب صبح ہوئى تو وہ پاك تھى، تو كيا ا سكا روزہ صحيح ہو گا، حالانكہ اسے طہر كا يقين نہ تھا ؟
شيخ كا جواب تھا:
اور جب عورت كو علم ہو جائے كہ وہ حيض سے پاك ہو گئى ہے تو نماز كے ليے اس پر غسل كرنا واجب ہو جاتا ہے، اور اس ميں اتنى تاخير كرنى جائز نہيں كہ نماز كا وقت ہى نكل جائے، اور اگر وہ ايسا كرتى ہے تو اسے توبہ كرنا ہوگى، اور اس كے ساتھ فوت شدہ كى قضاء بھى.ا سكا روزہ نہيں ہوا، بلكہ اس دن كے روزے كى اسے قضاء ميں روزہ ركھنا ہوگا، اس ليے كہ اصل ميں ابھى ا سكا حيض باقى تھا، اور طہر كا يقين نہ ہونے كى حالت ميں ا سكا روزہ ركھنا شك كے ساتھ عبادت ميں داخل ہونا ہے، حالانكہ عبادت صحيح ہونے كى شرط طہر ہے، اور شك اس عبادت كے صحيح ہونے ميں مانع ہے " انتہى.ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 19 / 107 ).
اور اگر وہ بھول جائے كہ وہ حيض سے پاك ہو چكى ہے ـ جيسا كہ آپ نے اپنے سوال ميں بيان كيا ہے ـ تو ان شاء اللہ نماز ميں تاخير كرنے كى بنا پر اس پر كوئى گناہ اور حرج نہيں، بلكہ جيسے ہى اسے ياد آئے تو وہ غسل كر نماز ادا كر لے، جيسا كہ آپ نے كيا ہے، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اور آپ كومعاف فرمائے اور عافيت سے نوازے.
الاسلام سوال و جواب