عامر عدنان
مشہور رکن
- شمولیت
- جون 22، 2015
- پیغامات
- 924
- ری ایکشن اسکور
- 268
- پوائنٹ
- 142
فرشتوں کی دعا حاصل کیجیے
*
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ
ا=======================
*الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، أما بعد :*
محترم قارئین! آپ اپنے ارد گرد کی مساجد کا جائزہ لیں تو یہ بات معلوم ہوگی کہ جب فرض نماز ختم ہوتی ہے تو کوئی نا کوئی یا دو یا تین احباب یا اس سے زائد احباب اپنی جائے نماز کوچھوڑ کر مسجد ہی کے کسی اور حصے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں یا اپنی جائے نماز کو چھوڑ کر اپنی پچھلی والی صف میں بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں اذکار کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسے احباب اپنے اِس عمل کی وجہ سے ایک عظیم فائدے سے محروم رہ جاتے ہیں.
*اور وہ فائدہ یہ ہے کہ انہیں فرشتوں کی رحمت و مغفرت کی دعا نہیں مل پاتی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :*
”وَالمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ“.
”اور جب تک تم میں سے کوئی اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے جہاں اُس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اُس کے لیے رحمت کی دعائیں یوں کرتے رہتے ہیں : ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما“، یہ اُس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ حدث کا شکار نہ ہو جائے، جب تک وہ تکلیف نہ پہنچائے“۔
(صحیح البخاری : 2119 و اللفظ لہ وصحیح مسلم : 649)
*ایک دوسری روایت کے الفاظ اِس طرح ہیں :*
k” فَإِذَا صَلَّى، لَمْ تَزَلِ المَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ، مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ“.
”اور جب آدمی نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اُس وقت تک اُس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے، کہتے ہیں : اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس پر رحم کر“۔
(صحیح البخاری : 647)
*اور صحیح مسلم کے الفاظ اس طرح ہیں :*
"وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ".
"اور جب تک تم میں سے کوئی اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے جہاں اُس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اُس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں، وہ کہتے ہیں : ”اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کو بخش دے اور اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما“، یہ اُس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ تکلیف نہ پہنچائے، جب تک وہ حدث کا شکار نہ ہو جائے".
(صحیح مسلم : 649)
*اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں بھی مغفرت کا ذکر ہے، الفاظ اِس طرح ہیں :*
”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ“.
”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما“۔
دیکھیں : (صحیح البخاری : 445)
مذکورہ تمام الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ مصلی فرض نماز پڑھنے کے بعد اگر اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھا رہے تو فرشتے اُس کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے یا وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے.
اور ہم سب کو فرشتوں کی رحمت و مغفرت کی دعا کی ضرورت ہے تاکہ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں بخش دے لہذا تمام مصلیوں سے گزارش ہے کہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھ کر اذکار کا اہتمام کریں تاکہ فرشتوں کی رحمت و مغفرت کی دعا حاصل ہوجائے۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.
* ناشر : البلاغ اسلامک سینٹر*
19 - محرم - 1447ھ
15 - جولائی - 2025ء