عمران ہانی
مبتدی
- شمولیت
- اپریل 12، 2011
- پیغامات
- 6
- ری ایکشن اسکور
- 25
- پوائنٹ
- 17
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
محترم جناب گزارش عرض یہ ہیکہ ہمارے ایک دوست ہیں جو اہل حدیث ہیں انہوں نے اپنی بہن کا نکاح ایک معروف اہل حدیث شخص کے بیٹے سے ہوا لیکن یہ نکاح اس بنیاد پر ہوا کہ ہمارے دوست نے ان صاحب سے کہا ہوا تھا کہ میری بہن ہیں ان کے لئے سلفی رشتہ درکار ہے کچھ عرصہ بعد ان صاحب کا فون میرے دوست کے پاس آیا کہ آپ نے اپنی بہن کے رشتہ کیلئے کہا تھا تو میرا بیٹا ہے ، اہل حدیث ہے عملا سستی ہے جو کہ ملنے ملانے سے دور ہوجائیگی لیکن عین نکاح کے وقت انکشاف ہواکہ لڑکا تو اہل حدیث نہیں ہے لیکن اس وقت یہ نکاح کردیا گیا اور طے پایا کہ لڑکی کا حق مہر لڑکے کا اہل حدیث ہونا ہے لیکن بعد میں اس لڑکے نے اہل حدیث ہونیسے انکار کردیا یہ یاد رہیکہ لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اب اس بات کو دو سال ہوگئے ہیں لڑکا رخصتی مانگ رہا ہے لیکن مسلک اہل حدیث قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح میرے دوست کی بہن بھی کسی طرح اس حنفی لڑکے سے رشتہ کیلئے تیار نہیں ۔ آپ سے درخواست ہیکہ اس حوالہ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت سے روشنی ڈالیں کہ لڑکی اس صورت میں کیا اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے اور اگر کراسکتی ہے تو کس طرح آیا عدالت کے زریعے یا مفتی کے زریعے ۔۔ کیونکہ میرے دوست کو ایک مفتی صاحب نے بتا یا ہیکہ بالکل لڑکی اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے اور انہوں نے لڑکی سے خود پردے میں بات کرکے اس ساری صورت حال پر معلومات حاصل کرنیکے بعد فتوی دیا ہیکہ میں اس نکاح کو فسخ کرتا ہوں۔ جبکہ مفتی صاحب نے صرف لڑکی والوں کی بات سنی لڑکے والوں کو اس پیش رفت کا بالکل پتہ ہی نہیں ہے ۔ کیا ایسی صورت میں یہ فتوی صحیح ہے ۔ امید ہیکہ اس تمام صورتحال پر آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرماینگے۔
محترم جناب گزارش عرض یہ ہیکہ ہمارے ایک دوست ہیں جو اہل حدیث ہیں انہوں نے اپنی بہن کا نکاح ایک معروف اہل حدیث شخص کے بیٹے سے ہوا لیکن یہ نکاح اس بنیاد پر ہوا کہ ہمارے دوست نے ان صاحب سے کہا ہوا تھا کہ میری بہن ہیں ان کے لئے سلفی رشتہ درکار ہے کچھ عرصہ بعد ان صاحب کا فون میرے دوست کے پاس آیا کہ آپ نے اپنی بہن کے رشتہ کیلئے کہا تھا تو میرا بیٹا ہے ، اہل حدیث ہے عملا سستی ہے جو کہ ملنے ملانے سے دور ہوجائیگی لیکن عین نکاح کے وقت انکشاف ہواکہ لڑکا تو اہل حدیث نہیں ہے لیکن اس وقت یہ نکاح کردیا گیا اور طے پایا کہ لڑکی کا حق مہر لڑکے کا اہل حدیث ہونا ہے لیکن بعد میں اس لڑکے نے اہل حدیث ہونیسے انکار کردیا یہ یاد رہیکہ لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اب اس بات کو دو سال ہوگئے ہیں لڑکا رخصتی مانگ رہا ہے لیکن مسلک اہل حدیث قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح میرے دوست کی بہن بھی کسی طرح اس حنفی لڑکے سے رشتہ کیلئے تیار نہیں ۔ آپ سے درخواست ہیکہ اس حوالہ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت سے روشنی ڈالیں کہ لڑکی اس صورت میں کیا اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے اور اگر کراسکتی ہے تو کس طرح آیا عدالت کے زریعے یا مفتی کے زریعے ۔۔ کیونکہ میرے دوست کو ایک مفتی صاحب نے بتا یا ہیکہ بالکل لڑکی اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے اور انہوں نے لڑکی سے خود پردے میں بات کرکے اس ساری صورت حال پر معلومات حاصل کرنیکے بعد فتوی دیا ہیکہ میں اس نکاح کو فسخ کرتا ہوں۔ جبکہ مفتی صاحب نے صرف لڑکی والوں کی بات سنی لڑکے والوں کو اس پیش رفت کا بالکل پتہ ہی نہیں ہے ۔ کیا ایسی صورت میں یہ فتوی صحیح ہے ۔ امید ہیکہ اس تمام صورتحال پر آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرماینگے۔